📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب الزاينة (من المجتبى)

کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل

کتاب #54 • کل احادیث: 154
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
55: بَابُ : ذِكْرِ الْفِطْرَةِ
باب: دین فطرت والی عادات و سنن کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا ابْنُ السُّنِّيِّ قِرَاءَةً , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ لَفْظًا، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَالْخِتَانُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ چیزیں دین فطرت میں سے ہیں : مونچھ کاٹنا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، ناخن کترنا ، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5227]
💡 وضاحت:
۱؎: کتاب الزینہ کے جو ابواب اب تک گزرے وہ سنن کبری کے تھے، اور یہ ابواب اس مختصر (سنن مجتبیٰ) میں بڑھائے گئے ہیں، یہ سنن کبری میں نہیں تھے۔ ۲؎: پانچ چیزوں کے ذکر سے «حصر» مقصود نہیں ہے کیونکہ بعض روایتوں میں «عشرۃ من الفطرۃ» فطرت میں دس باتیں ہیں بھی ہے۔ ۳؎: فطرت سے مراد جبلت یعنی مزاج و طبیعت کے ہیں جس پر انسان کی پیدائش ہوتی ہے، یہاں مراد قدیم سنت ہے جسے انبیاء کرام علیہم السلام نے پسند فرمایا ہے اور پچھلی شریعتیں اس پر متفق ہیں گویا کہ وہ پیدائشی معاملہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 10 (صحیح)
56: بَابُ : إِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحْيَةِ
باب: مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مونچھیں کاٹو اور داڑھی بڑھاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5228]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 15 (صحیح)
57: بَابُ : حَلْقِ رُءُوسِ الصِّبْيَانِ
باب: بچوں کے سر مونڈوانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثَةً أَنْ يَأْتِيَهُمْ , ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَالَ: " لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ" , ثُمَّ قَالَ: " ادْعُوا إِلَيَّ بَنِي أَخِي" , فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ، فَقَالَ: " ادْعُوا إِلَيَّ الْحَلَّاقَ" , فَأَمَرَ بِحَلْقِ رُءُوسِنَا. مُخْتَصَرٌ.
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آل جعفر کو یہ کہہ کر کہ آپ ان کے پاس آئیں گے تین روز تک ( رونے اور غم منانے کی ) اجازت دی ۱؎ ، پھر آپ ان کے پاس آئے اور فرمایا : ” آج کے بعد میرے بھائی پر مت روؤ “ ، پھر فرمایا : ” میرے بھائی کے بچوں کو بلاؤ “ ۔ چنانچہ ہمیں لایا گیا گویا ہم چوزے بہت چھوٹے تھے پھر آپ نے فرمایا : ” نائی کو بلاؤ “ ، پھر آپ نے ہمارے سر مونڈنے کا حکم دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5229]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے پتہ چلا کہ میت پر بغیر آواز اور سینہ کوبی کے تین دن تک رونا اور اظہار غم کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الترجل 13 (4192)، (تحفة الأشراف: 5216)، مسند احمد (1/204) (صحیح)
58: بَابُ : ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ أَنْ يُحْلَقَ بَعْضُ شَعْرِ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكَ بَعْضُهُ
باب: بچے کے سر کے کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑنے کی ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْقَزَعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» ( کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے ) سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5230]
💡 وضاحت:
۱؎: «قزع» یہ ہے کہ بچوں کے سر کے کچھ بال مونڈ دئیے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الٔزشراف: 8034) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْهَى عَنِ الْقَزَعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «قزع» ( کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے ) سے منع فرماتے سنا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5231]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5054 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قزع ( کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے ) سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5232]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5053 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْقَزَعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» ( کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے ) سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5233]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5053 (صحیح)
59: بَابُ : اتِّخَاذِ الْجُمَّةِ
باب: سر پر بال رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا مَرْبُوعًا عَرِيضَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، كَثَّ اللِّحْيَةِ، تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ جُمَّتُهُ إِلَى شَحْمَتَيْ أُذُنَيْهِ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مَا رَأَيْتُ أَحْسَنَ مِنْهُ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے قد کے ، چوڑے مونڈھوں اور گھنی داڑھی والے تھے ، آپ کے بدن پر کچھ سرخی ظاہر تھی ، سر کے بال کان کی لو تک تھے ۱؎ ، میں نے آپ کو لال جوڑا پہنے ہوئے دیکھا اور آپ سے زیادہ کسی کو خوبصورت نہیں دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5234]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بالوں کے بارے میں متعدد و مختلف روایات وارد ہیں: آدھے کان تک، کانوں کے لو تک، کانوں کے لووں اور کندھوں کے درمیان تک، اور کندھوں تک، اور ان سب روایات میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف حالات کی روایات ہیں، کبھی آپ نے بال کٹوائے تو آدھے کانوں تک کر لیا، اور وہ بڑھ کر کان کے لو تک ہو گئے، اور اسی حالت میں چھوڑ دیئے تو اور بڑھ گئے، کبھی اتنے ہی پر کٹوا لیا اور کبھی چھوڑ دیا تو تو کندھوں کے اوپر یا کندھوں تک ہو گئے، اب جس نے جو دیکھا وہی بیان کر دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المناقب 23 (3551)، صحیح مسلم/الفضائل 25 (2337)، سنن ابی داود/اللباس 21 (4072)، الترجل 9 (4184)، سنن الترمذی/الأدب 47 (2811)، (تحفة الأشراف: 1869)، مسند احمد (4/281)، ویأتي عند المؤلف: 5316 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی بال والے کو لباس پہنے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈھوں کے قریب تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5235]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الفضائل 25 (2337)، سنن ابی داود/الترجل 9 (4183)، سنن الترمذی/اللباس 4 (1724)، المناقب 8 (3635)، الأدب 47 (2811)، (تحفة الأشراف: 1847) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نِصْفِ أُذُنَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آدھے کانوں تک تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5236]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الفضائل 26 (2338)، سنن ابی داود/الترجل 9 (4187)، (تحفة الأشراف: 567)، مسند احمد (3/142، 249) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَضْرِبُ شَعْرُهُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بال مونڈھوں تک رکھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5237]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 68 (5903، 5904)، (تحفة الأشراف: 1396)، مسند احمد (3/11818، 125، 245، 269) (صحیح)
60: بَابُ : تَسْكِينِ الشَّعْرِ
باب: بالوں کو سنوارنے اور درست رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَأَى رَجُلًا ثَائِرَ الرَّأْسِ , فَقَالَ: " أَمَا يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، آپ نے ایک شخص کو دیکھا ، اس کے سر کے بال الجھے ہوئے تھے ، آپ نے فرمایا : ” کیا اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس سے اپنے بال ٹھیک رکھ سکے ؟ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5238]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس 17 (4062)، (تحفة الأشراف: 3012)، مسند احمد (3/357) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَتْ لَهُ جُمَّةٌ ضَخْمَةٌ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," فَأَمَرَهُ أَنْ يُحْسِنَ إِلَيْهَا وَأَنْ يَتَرَجَّلَ كُلَّ يَوْمٍ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے بال بڑے بڑے تھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے حکم دیا : ” انہیں اچھی طرح رکھو اور ہر روز کنگھی کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5239]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن المنكدر لم يسمع من أبى قتادة رضي الله عنه،انظر جامع التحصيل فى أحكام المراسيل للحافظ خليل بن كيكلدي العلائي (ص 270) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12127) (ضعیف) (اس کی سند میں محمد بن منکدر اور ابوقتادہ رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ اس صحیح حدیث کے خلاف ہے جس میں ہر روز کنگھی کرنے سے ممانعت ہے)
61: بَابُ : فَرْقِ الشَّعْرِ
باب: بالوں میں مانگ نکالنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدُلُ شَعْرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ شُعُورَهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ، ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بال چھوڑ دیتے تھے اور کفار و مشرکین بالوں میں مانگ نکالتے تھے ، آپ ایسے معاملات میں جن میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب ( یہود و نصاری ) کی موافقت پسند فرماتے تھے ، پھر اس کے بعد آپ نے بھی مانگ نکالی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5240]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المناقب 23 (3558)، مناقب الٔلنصار 52 (3944)، اللباس 70 (5917)، صحیح مسلم/الفضائل 24 (2336)، سنن ابی داود/الترجل 10 (4188)، سنن الترمذی/الشمائل3 (29)، سنن ابن ماجہ/اللباس 36 (3632)، (تحفة الأشراف: 5836)، مسند احمد (1/24646، 261، 287، 320) (صحیح)
62: بَابُ : التَّرَجُّلِ
باب: کنگھی کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُقَالُ لَهُ: عُبَيْدٌ، قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ". سُئِلَ ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنِ الْإِرْفَاهِ؟ قَالَ: مِنْهُ التَّرَجُّلُ.
عبید نامی ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «ارفاہ» ( بہت زیادہ عیش میں پڑ جانے ) سے منع فرماتے تھے ۔ عبداللہ بن بریدہ سے پوچھا گیا : «ارفاہ» کیا ہے ؟ کہا : «ارفاہ» میں ( ہر روز ) کنگھی کرنا بھی شامل ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5241]
💡 وضاحت:
۱؎: لفظ «ترجل» کا معنی ہر روز کنگھی کرنا اس لیے کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کنگھی کرتے تھے، اور اس کی ترغیب بھی دیتے تھے، (جیسا کہ حدیث نمبر: ۵۲۳۸ میں ہے) آپ نے صرف کثرت سے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، اور ناغہ کر کے کرنے کی اجازت دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5011 (صحیح)
63: بَابُ : التَّيَامُنِ فِي التَّرَجُّلِ
باب: دائیں طرف سے کنگھی شروع کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَشْعَثُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَذَكَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ، وَتَنَعُّلِهِ، وَتَرَجُّلِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طاقت بھر دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے : وضو کرنے ، جوتے پہننے اور کنگھی کرنے ( وغیرہ امور ) میں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5242]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 112 (صحیح)
64: بَابُ : الأَمْرِ بِالْخِضَابِ
باب: بالوں میں خضاب لگانے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہودی اور نصرانی ( بالوں کو ) نہیں رنگتے ، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5243]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: سفید بالوں کو رنگ دو، البتہ کالے خضاب سے بچو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5072 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي قُحَافَةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَيِّرُوا , أَوِ اخْضِبُوا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ابوبکر کے والد ) ابوقحافہ رضی اللہ عنہما لائے گئے ، ان کا سر اور داڑھی ثغامہ نامی گھاس کی طرح تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کے بالوں کا رنگ بدلو “ ، یا ( فرمایا ) ” خضاب لگاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5244]
💡 وضاحت:
۱؎: ثغامہ ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2885) (صحیح)
65: بَابُ : تَصْفِيرِ اللِّحْيَةِ
باب: داڑھی کو زرد (پیلا) کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ , فَقُلْتُ لَهُ: فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ".
عبید کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنی داڑھی پیلی کرتے دیکھا ، تو ان سے اس کے بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی زرد ( پیلی ) کرتے ہوئے دیکھا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5245]
💡 وضاحت:
۱؎: دیکھئیے حدیث نمبر ۵۰۸۸ کا حاشیہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 117، 2761، 5088 (صحیح)
66: بَابُ : تَصْفِيرِ اللِّحْيَةِ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ
باب: ورس اور زعفران سے داڑھی پیلی کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَيُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ" , وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5246]
💡 وضاحت:
۱؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث نمبر ۵۰۸۸۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الترجل 19 (4210)، (تحفة الأشراف: 7762)، مسند احمد (2/114) (صحیح الٕهسناد)
67: بَابُ : الْوَصْلِ فِي الشَّعْرِ
باب: بالوں میں جوڑ لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ , وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِالْمَدِينَةِ , وَأَخْرَجَ مِنْ كُمِّهِ قُصَّةً مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ , أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَقَالَ: " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ نِسَاؤُهُمْ مِثْلَ هَذَا".
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا ، وہ مدینے میں منبر پر تھے ، انہوں نے اپنی آستین سے بالوں کا ایک گچھا نکالا اور کہا : مدینہ والو ! تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جیسی چیزوں سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنی اسرائیل کی عورتوں نے جب ان جیسی چیزوں کو اپنانا شروع کیا تو وہ ہلاک و برباد ہو گئے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5247]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الٔنبیاء 54 (3468)، اللباس 83 (5932)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2127)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4167)، سنن الترمذی/الأدب 32 (الاستئذان 66) (2782)، (تحفة الأشراف: 11407)، موطا امام مالک/الشعر 1 (2)، مسند احمد (4/95، 97) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا، وَأَخَذَ كُبَّةً مِنْ شَعْرٍ، قَالَ: " مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ , فَسَمَّاهُ الزُّورَ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور ہمیں خطاب کیا ، آپ نے بالوں کا ایک گچھا لے کر کہا : میں نے سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا ۱؎ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جب یہ چیز پہنچی تو آپ نے اس کا نام دھوکا رکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5248]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: اپنے اصلی بالوں میں دوسرے کے بال جوڑنا یہودی عورتوں کا کام ہے، مسلمان عورتوں کو اس سے بچنا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5095 (صحیح)
68: بَابُ : وَصْلِ الشَّعْرِ بِالْخِرَقِ
باب: چیتھڑے سے بال جوڑنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّهُ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنِ الزُّورِ" , قَالَ: وَجَاءَ بِخِرْقَةٍ سَوْدَاءَ فَأَلْقَاهَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَقَالَ: هُوَ هَذَا تَجْعَلُهُ الْمَرْأَةُ فِي رَأْسِهَا، ثُمَّ تَخْتَمِرُ عَلَيْهِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : لوگو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں جھوٹ اور فریب سے روکا ہے ، راوی ( ابن المسیب ) کہتے ہیں : اور انہوں نے ایک کالا چیتھڑا نکالا پھر اسے ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا : یہی ہے وہ ( یعنی جھوٹ اور فریب کاری ) ، اسے عورت اپنے سر میں لگا کر دوپٹا اوڑھ لیتی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5249]
💡 وضاحت:
۱؎: اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس عورت کے اپنے اصلی بال بڑے لمبے لمبے ہیں، اور لمبے بال عورتوں کی خوبصورتی میں شمار ہوتے ہیں، تو گویا غیر خوبصورت عورت خود کو مصنوعی ذریعے سے خوبصورت ظاہر کر کے اس کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، یہ عمل اسلام کی نظر میں ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ دھوکا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5095 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ، وَالزُّورُ: الْمَرْأَةُ تَلُفُّ عَلَى رَأْسِهَا".
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ اور فریب کاری سے منع فرمایا ، اور جھوٹ اور فریب کاری یہ ہے کہ عورت ( بال زیادہ دکھانے کے لیے ) سر پر کچھ لپیٹ لے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5250]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5095 (صحیح)
69: بَابُ : لَعْنِ الْوَاصِلَةِ
باب: بال جوڑنے والی عورت پر وارد لعنت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے کا کام کرنے والی پر لعنت فرمائی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5251]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5099 (صحیح)
70: بَابُ : لَعْنِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ
باب: بال جوڑنے اور جوڑوانے والی عورت پر وارد لعنت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِنْتًا لِي عَرُوسٌ وَإِنَّهَا اشْتَكَتْ , فَتَمَزَّقَ شَعْرُهَا فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ وَصَلْتُ لَهَا فِيهِ , فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ".
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میری ایک بیٹی نئی نویلی دلہن ہے ، اسے ایک بیماری ہو گئی ہے کہ اس کے بال جھڑ رہے ہیں اگر میں اس کے بال جوڑوا دوں تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” بال جوڑنے اور جوڑوانے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5252]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5097 (صحیح)
71: بَابُ : لَعْنِ الْوَاشِمَةِ وَالْمُوتَشِمَةِ
باب: جسم گودنے اور گودانے والی عورتوں پر وارد لعنت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُوتَصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے اور جوڑوانے والی عورت پر اور گودنے اور گودانے والی عورت پر لعنت فرمائی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5253]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5098 (صحیح)
72: بَابُ : لَعْنِ الْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ
باب: چہرہ کے روئیں اکھاڑنے والی اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والی عورتوں پر وارد لعنت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ" , أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ چہرہ کے روئیں اکھاڑنے والی اور دانتوں کو کشادہ کرنے والی عورتوں پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے ، کیا میں اس پر لعنت نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5254]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5102 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جسم پر ) گودنا گودنے والی ، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی ، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی اور اللہ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5255]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5103 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُتَوَشِّمَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ" , فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا؟ , قَالَ: وَمَا لِي لَا أَقُولُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے چہرہ کے بال اکھاڑنے والی ، دانتوں میں کشادگی کرنے والی ، گودنا گودانے والی اور اللہ کی فطرت کو تبدیل کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ، چنانچہ ایک عورت ان کے پاس آ کر کہا : آپ ہی ایسا ایسا کہتے ہیں ؟ وہ بولے : آخر میں وہ بات کیوں نہ کہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5256]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9604) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ , يَقُولُ: " لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَوَشِّمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ گودنا گودانے والی ، چہرے کے بال اکھاڑنے والی اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے ۔ کیا میں اس پر لعنت نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5257]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5103 (صحیح)
73: بَابُ : التَّزَعْفُرِ
باب: زعفرانی رنگ سے رنگنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفرانی رنگ لگانے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5258]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2707 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُزَعْفِرَ الرَّجُلُ جِلْدَهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بدن پر زعفرانی رنگ لگانے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5259]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1021) (صحیح) (اس کے راوی ’’زکریا‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویت پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے)
74: بَابُ : الطِّيبِ
باب: خوشبو کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطِيبٍ لَمْ يَرُدَّهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بھی خوشبو لائی گئی ، آپ نے اسے لوٹایا نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5260]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الہبة 9 (2582)، اللباس 80 (5929)، سنن الترمذی/الْٔدب 37 (الاستئذان 71) 2789، الشمائل 32 (208)، (تحفة الأشراف: 499)، مسند احمد (3/118، 133) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَلَا يَرُدَّهُ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ طَيِّبُ الرَّائِحَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے خوشبو پیش کی جائے وہ اسے نہ لوٹائے کیونکہ وہ اٹھانے میں ہلکی اور سونگھنے میں اچھی ہوتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5261]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الفاظ من الُٔدب5(2253) (بلفظ ’’ریحان‘‘)، سنن ابی داود/الترجل 6 (4172)، (تحفة الأشراف: 13945)، مسند احمد (2/32020) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ بُكَيْرٍ. ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْعِشَاءَ فَلَا تَمَسَّ طِيبًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ( عورتوں ) میں سے کوئی جب عشاء کو آئے تو خوشبو نہ لگائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5262]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5132 (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَخْبَرَتْنِي زَيْنَبُ الثَّقَفِيَّةُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا: " إِذَا خَرَجْتِ إِلَى الْعِشَاءِ فَلَا تَمَسِّ طِيبًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم جب عشاء کے لیے نکلو تو خوشبو نہ لگاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5263]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5132 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيَّتُكُنَّ خَرَجَتْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا تَقْرَبَنَّ طِيبًا".
زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ( عورتوں ) میں سے جو کوئی مسجد کو جائے تو وہ خوشبو کے نزدیک بھی نہ جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5264]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5123 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو عورت ( خوشبو کی ) دھونی لے تو وہ ہمارے ساتھ عشاء کے لیے نہ آئے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5265]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5131 (صحیح)
75: بَابُ : ذِكْرِ أَطْيَبِ الطِّيبِ
باب: سب سے عمدہ خوشبو (مشک) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَالْمُسْتَمِرُ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً حَشَتْ خَاتَمَهَا بِالْمِسْكِ فَقَالَ: " وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ذکر کیا ، اس نے اپنی انگوٹھی میں مشک بھر رکھی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5266]
💡 وضاحت:
۱؎: لیکن ایسی انگوٹھی پہن کر شوہر کے گھر سے باہر نہ نکلے، جیسا کہ دیگر حدیثوں سے معلوم ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1906 (صحیح)
76: بَابُ : تَحْرِيمِ لُبْسِ الذَّهَبِ
باب: مردوں کے لیے سونا پہننے کی حرمت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَيَزِيدُ، وَمُعْتَمِرٌ , وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , قَالُوا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَحَلَّ لِإِنَاثِ أُمَّتِي الْحَرِيرَ، وَالذَّهَبَ، وَحَرَّمَهُ عَلَى ذُكُورِهَا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے میری امت کی عورتوں کے لیے ریشم اور سونا حلال کیا ، اور ان دونوں کو اس کے مردوں کے لیے حرام کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5267]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5151 (صحیح)
77: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ، خَاتَمِ الذَّهَبِ
باب: سونے کی انگوٹھی پہننے کی ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " نُهِيتُ عَنِ الثَّوْبِ الْأَحْمَرِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ، وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے لال کپڑے ، سونے کی انگوٹھی اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5268]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سند میں علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے، جب کہ اکثر روایات میں اس حدیث کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جیسا کہ متعدد سن دوں سے گزرا، نیز دیکھئیے اگلی حدیث۔ اسی لیے امام مزی نے ابن عباس کی علی سے روایت کو محفوظ کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة41(482)، (تحفة الأشراف: 5786) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَأَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ وَأَنَا رَاكِعٌ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَعَنِ الْمُعَصْفَرِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ، ریشم اور زرد رنگ کے کپڑے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5269]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1042 (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا , يَقُولُ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبُوسِ الْقَسِّيِّ، وَالْمُعَصْفَرِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے ، ریشم اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے سے اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5270]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1042 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے روکا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5271]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1042 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَعْدٍ الْفَدَكِيُّ، أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ , حَدَّثَنِي ابْنُ حُنَيْنٍ، أَنَّ عَلِيًّا حَدَّثَهُ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثِيَابِ الْمُعَصْفَرِ، وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ".
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زرد رنگ کے کپڑے سے ، سونے کی انگوٹھی سے ، ریشم کے کپڑے سے اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے روکا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5272]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1042 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنْ لُبْسِ ثَوْبٍ مُعَصْفَرٍ، وَعَنِ التَّخَتُّمِ بِخَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيَّةِ، وَأَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ وَأَنَا رَاكِعٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چار باتوں سے روکا : پیلے رنگ کا کپڑا پہننے سے ، سونے کی انگوٹھی پہننے سے ، ریشمی کپڑے پہننے سے ، اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5273]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1042 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، أَنَّ ابْنَ حُنَيْنٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيًّا، قَالَ , إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ ثِيَابِ الْمُعَصْفَرِ، وَعَنِ الْحَرِيرِ، وَأَنْ يَقْرَأَ وَهُوَ رَاكِعٌ، وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیلے رنگ کے کپڑے ، اور ریشم کے استعمال سے ، رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے اور سونے کی انگوٹھی ( پہننے ) سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5274]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1042 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " نَهَى عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5275]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5189 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ الْحَجَّاجِ وَهُوَ ابْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5276]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5189 (صحیح)
78: بَابُ : صِفَةِ خَاتَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَقْشِهِ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی اور اس کے نقش کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ الذَّهَبِ، فَلَبِسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ وَإِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا" , فَنَبَذَهُ فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی ، پھر اسے پہنا تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں ، آپ نے فرمایا : ” میں اس انگوٹھی کو پہن رہا تھا ، لیکن اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا “ ، چنانچہ آپ نے اسے پھینک دی ، تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5277]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5167 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش «محمد رسول اللہ» تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5278]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8106)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 52 (5875)، صحیح مسلم/اللباس 12 (2091)، سنن ابی داود/الخاتم 1 (4218)، سنن الترمذی/الشمائل 11، مسند احمد (2/22، 141) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَفَصُّهُ حَبَشِيٌّ، وَنَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ، اس کا نگینہ حبشہ کا بنا ہوا تھا ، اور اس پر «محمد رسول اللہ» نقش تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5279]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5199 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ , فَقَالُوا: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا، " فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ، وَنُقِشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ روم کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا : وہ ایسی کوئی تحریر نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ ہو ، چنانچہ آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ، گویا میں آپ کے ہاتھ میں اس کی سفیدی کو ( اس وقت بھی ) دیکھ رہا ہوں ، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5280]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5204 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ , وَفَصُّهُ حَبَشِيٌّ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، اس کا نگینہ حبشہ کا بنا ہوا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5281]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5199 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ، وَفَصُّهُ مِنْهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5282]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5201 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدِ اصْطَنَعْنَا خَاتَمًا , وَنَقَشْنَا عَلَيْهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشْ عَلَيْهِ أَحَدٌ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم نے انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا ہے ، لہٰذا اب کوئی ایسا نقش نہ کرائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5283]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 12 (2092)، سنن ابن ماجہ/اللباس 29 (3640)، (تحفة الٔاشراف: 999)، مسند احمد (3/290) (صحیح)
79: بَابُ : مَوْضِعِ الْخَاتَمِ
باب: انگوٹھی کس انگلی میں ہو؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا , فَقَالَ: " إِنَّا قَدِ اتَّخَذْنَا خَاتَمًا، وَنَقَشْنَا عَلَيْهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشْ عَلَيْهِ أَحَدٌ" , وَإِنِّي لَأَرَى بَرِيقَهُ فِي خِنْصَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا : ” ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر نقش کرایا ہے ، لہٰذا ایسا نقش کوئی نہ کرائے “ ، گویا میں اس کی چمک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھنگلی میں ( اب بھی ) دیکھ رہا ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5284]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 51 (5874)، (تحفة الأشراف: 1044) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5285]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، سنن الترمذی/الشمائل 12 (97)، (تحفة الٔاشراف: 1196) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِصْبَعِهِ الْيُسْرَى".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : گویا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی آپ کے بائیں ہاتھ کی انگلی میں ( اب بھی ) دیکھ رہا ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5286]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 1291) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ" , وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى الْخِنْصَرَ.
ثابت بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے بارے میں سوال کیا ، تو وہ بولے : گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ، پھر انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھنگلی انگلی کو بلند کیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5287]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ بتار ہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی چھنگلی انگلی میں پہنتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 39 (640)، اللباس 16 (2095)، (تحفة الٔاشراف: 333)، مسند احمد (3/276) (صحیح) (انس رضی الله عنہ سے یمین اور یسار یعنی دائیں اور بائیں ہاتھ دونوں میں انگوٹھی پہنے کا ذکر آیا ہے، جس کے بارے میں احادیث کی صحت کے بعد یہ کہنا پڑے گا کہ کبھی دائیں ہاتھ میں پہنے دیکھا اور کبھی بائیں میں، اور بعض اہل علم کے یہاں بائیں میں پہنے والی حدیث راجح اور محفوظ ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الإرواء 3/298، 302، وتراجع الالبانی 159)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا , يَقُولُ: " نَهَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ , وَالْوُسْطَى".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شہادت اور بیچ کی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5288]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ نہی تنزیہی ہے، یعنی خلافِ اولیٰ ہے، بہتر یہ ہے کہ ان انگلیوں میں نہ پہنا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5214 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَلْبَسَ فِي إِصْبَعِي هَذِهِ، وَفِي الْوُسْطَى، وَالَّتِي تَلِيهَا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( شہادت کی ) انگلی میں ، بیچ کی انگلی اور اس سے لگی ہوئی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے روکا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5289]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5214 (صحیح)
80: بَابُ : مَوْضِعِ الْفَصِّ
باب: (انگوٹھی میں) نگینہ کی جگہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَتَّمُ بِخَاتَمٍ مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ طَرَحَهُ وَلَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَنُقِشَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: " لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَنْقُشَ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا"، وَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے ، پھر آپ نے اسے اتار پھینکا اور چاندی کی انگوٹھی پہنی ، اور اس پر «محمد رسول اللہ» نقش کرایا ، پھر فرمایا : ” کسی کے لیے جائز نہیں کہ میری اس انگوٹھی کے نقش پر کچھ نقش کرائے “ ، آپ نے اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5290]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5167، 5219 (صحیح)
81: بَابُ : طَرْحِ الْخَاتَمِ وَتَرْكِ لُبْسِهِ
باب: انگوٹھی اتار دینے اور نہ پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا فَلَبِسَهُ، قَالَ: " شَغَلَنِي هَذَا عَنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمَ إِلَيْهِ نَظْرَةٌ، وَإِلَيْكُمْ نَظْرَةٌ"، ثُمَّ أَلْقَاهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اسے پہنا ، اور فرمایا : ” اس نے آج سے میری توجہ تمہاری طرف سے بانٹ دی ہے ، ایک نظر اسے دیکھتا ہوں اور ایک نظر تمہیں “ ، پھر آپ نے وہ انگوٹھی اتار پھینکی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5291]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5515)، مسند احمد (1/322) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ يَلْبَسُهُ فَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَصَنَعَ النَّاسُ ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ، وَقَالَ: " إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ , وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ، فَرَمَى بِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا"، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی ، آپ اسے پہنتے تھے اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے ، تو لوگوں نے بھی ( انگوٹھیاں ) بنوائیں ، پھر آپ منبر پر بیٹھے اور اسے اتار پھینکا اور فرمایا : ” میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی طرف رکھتا تھا “ ، پھر آپ نے اسے پھینک دی ، پھر فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا “ ، پھر لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5292]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الٔلیمان 6 (6651)، صحیح مسلم/اللباس 11 (2091)، (تحفة الأشراف: 8281)، مسند احمد (2/119) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قِرَاءَةً، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ: " أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا فَصَنَعُوهُ، فَلَبِسُوهُ، فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَرَحَ النَّاسُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی ۱؎ صرف ایک دن دیکھی ، تو لوگوں نے بھی بنوائی اور اسے پہنا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5293]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ راوی کا وہم ہے، کیونکہ صحیح یہ ہے کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 46 (5868 تعلیقًا)، صحیح مسلم/اللباس 14 (2093)، سنن ابی داود/الخاتم 2 (4221)، (تحفة الأشراف: 1475)، مسند احمد (3/160، 206، 223، 225) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ جَعَلَ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَطَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ , فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا ، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار دیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ، جس سے آپ ( خطوط پر ) مہر لگاتے تھے اور اس کو پہنتے نہیں تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5294]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ولا يلبسه فإنه شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5221 (صحیح) (اس میں لفظ ’’ولا یلبسہ‘‘ شاذ ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ , وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ , فَاتَّخَذَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ، فَأَلْقَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا"، ثُمَّ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ , فَأَدْخَلَهُ فِي يَدِهِ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ حَتَّى هَلَكَ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا ، پھر لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں ، تو آپ نے اسے نکال دیا اور فرمایا : ” میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اسے اپنے ہاتھ میں پہن لیا ، پھر وہ انگوٹھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی ، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں یہاں تک کہ وہ اریس نامی کنویں میں ضائع ہو گئی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5295]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 12 (2091)، (تحفة الٔاشراف: 8089) (صحیح)
82: بَابُ : ذِكْرِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ لُبْسِ الثِّيَابِ وَمَا يُكْرَهُ مِنْهَا
باب: مستحب اور مکروہ لباس کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي سَيِّئَ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" , قَالَ: نَعَمْ، مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ، فَقَالَ: " إِذَا كَانَ لَكَ مَالٌ فَلْيُرَ عَلَيْكَ".
ابوالاحوص کے والد عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھے خستہ حالت میں دیکھا ، تو فرمایا : ” کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال دے رکھا ہے ، آپ نے فرمایا : ” جب تمہارے پاس مال ہو تو اس کے آثار بھی نظر آنے چاہئیں ۱؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5296]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: فضول خرچی اور ریاء و نمود کے کے بغیر، اور حیثیت کے مطابق آدمی کے اوپر اچھا لباس ہونا چاہیئے، ہاں۔ اسراف، فضول خرچی اور ریاء و نمود والا لباس ناپسندیدہ اور مکروہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5225 (صحیح)
83: بَابُ : ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ السِّيَرَاءِ
باب: سیراء چادر پہننے کی ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّهُ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذَا لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، قَالَ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ مِنْهَا بِحُلَلٍ فَكَسَانِي مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا لِتَكْسُوَهَا , أَوْ لِتَبِيعَهَا"، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مِنْ أُمِّهِ مُشْرِكًا.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسجد کے دروازے کے پاس میں نے ایک ریشمی دھاری والا جوڑا بکتے دیکھا ، تو عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر آپ اسے جمعہ کے دن کے لیے اور اس وقت کے لیے جب آپ کے پاس وفود آئیں خرید لیتے ( تو اچھا ہوتا ) ۱؎ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ سب وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں “ ۔ پھر اس میں کے کئی جوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو ان میں سے آپ نے ایک جوڑا مجھے دے دیا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ جوڑا آپ نے مجھے دے دیا ، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے اس کے بارے میں کیا کیا فرمایا تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں یہ پہننے کے لیے نہیں دیا ہے ، بلکہ کسی ( اور ) کو پہنانے یا بیچنے کے لیے دیا ہے “ ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک ماں جائے بھائی کو دے دیا جو مشرک تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5297]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی اس بات پر کوئی نکیر نہیں کی، اس سے ثابت ہوا کہ ان مواقع کے لیے اچھا لباس اختیار کرنے کی بات پر آپ نے صاد کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 2 (2068)، (تحفة الٔاشراف: 10551) (صحیح)
84: بَابُ : ذِكْرِ الرُّخْصَةِ لِلنِّسَاءِ فِي لُبْسِ السِّيَرَاءِ
باب: عورتوں کو ریشمی دھاری والے لباس پہننے کی اجازت۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ریشم کی دھاری والی قمیص پہنے دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5298]
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ أم كلثوم مكان زينب
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3598) الزهري عنعن. والمحفوظ ’’أم كلثوم‘‘ بدل زينب. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/اللباس19(3598)، (تحفة الأشراف: 1540) (شاذ) (صحیح نام ’’ام کلثوم“ ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے، اسی وجہ سے یہ روایت شاذ ہے ویسے اس روایت کے معنی میں کوئی ضعف نہیں)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّهُ حَدَّثَنِي: " أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَ سِيَرَاءَ، وَالسِّيَرَاءُ الْمُضَلَّعُ بِالْقَزِّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو سیراء دھاری دار ریشمی چادر پہنے دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5299]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 30 (5842)، سنن ابی داود/اللباس 14 (4058)، (تحفة الٔاشراف: 1533) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ الْحَنَفِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ , فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَمَا إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا"، فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیراء چادر تحفے میں آئی ، تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دی ، میں نے اسے پہنا ، تو میں نے آپ کے چہرے پر غصہ دیکھا ، چنانچہ آپ نے فرمایا : ” سنو ، میں نے یہ پہننے کے لیے نہیں دی تھی “ ، پھر آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اس کو اپنے خاندان کی عورتوں میں تقسیم کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5300]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 2 (2071)، سنن ابی داود/اللباس 10 (4043)، (تحفة الأشراف: 10329)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 30 (5840)، مسند احمد 1/130، 139) (صحیح)
85: بَابُ : ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ الإِسْتَبْرَقِ
باب: استبرق نامی ریشم پہننا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ فَرَأَى حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ , فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , اشْتَرِهَا فَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ , وَحِينَ يَقْدَمُ عَلَيْكَ الْوَفْدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ"، ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ حُلَلٍ مِنْهَا , فَكَسَا عُمَرَ حُلَّةً، وَكَسَا عَلِيًّا حُلَّةً , وَكَسَا أُسَامَةَ حُلَّةً فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ثُمَّ بَعَثْتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: " بِعْهَا , وَاقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ , أَوْ شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نکلے تو دیکھا بازار میں استبرق کی چادر بک رہی ہے ، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! اسے خرید لیجئے اور اسے جمعہ کے دن اور جب کوئی وفد آپ کے پاس آئے تو پہنئے ۔ آپ نے فرمایا : ” یہ تو وہ پہنتے ہیں جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہوتا “ ، پھر آپ کے پاس تین چادریں لائی گئیں تو آپ نے ایک عمر رضی اللہ عنہ کو دی ، ایک علی رضی اللہ عنہ کو اور ایک اسامہ رضی اللہ عنہ کو دی ، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے اس کے بارے میں کیا کیا فرمایا تھا ، پھر بھی آپ نے اسے میرے پاس بھیجوایا ؟ آپ نے فرمایا : ” اسے بیچ دو اور اس سے اپنی ضرورت پوری کر لو یا اسے اپنی عورتوں کے درمیان دوپٹہ بنا کر تقسیم کر دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5301]
💡 وضاحت:
۱؎: استبرق ایک قسم کا ریشم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 6759) (صحیح)
86: بَابُ : صِفَةِ الإِسْتَبْرَقِ
باب: استبرق نامی سبز اطلس قسم کے ریشمی کپڑے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: مَا الْإِسْتَبْرَقُ؟ قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ , وَخَشُنَ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: " رَأَى عُمَرُ مَعَ رَجُلٍ حُلَّةَ سُنْدُسٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اشْتَرِ هَذِهِ" , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ سالم نے پوچھا : استبرق کیا ہے ؟ میں نے کہا : ایک قسم کا ریشم ہے جو سخت ہوتا ہے ، وہ بولے : میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے پاس ایک جوڑا سندس کا دیکھا ، اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : اسے خرید لیجئیے … پھر پوری روایت بیان کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5302]
💡 وضاحت:
۱؎: سندس یہ بھی ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الٔمدب 66 (6081)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2068)، (تحفة الٔاشراف: 7033)، مسند احمد (2/4949) (صحیح)
87: بَابُ : ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ الدِّيبَاجِ
باب: دیبا نامی ریشمی کپڑا پہننا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَأَبُو فَرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ، فَأَتَاهُ دُهْقَانٌ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَحَذَفَهُ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِمْ مِمَّا صَنَعَ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي نُهِيتُهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ، وَلَا الْحَرِيرَ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن عکیم سے روایت ہے کہ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک اعرابی ( دیہاتی ) چاندی کے برتن میں پانی لے آیا ، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے پھینک دیا ، پھر جو کیا اس کے لیے لوگوں سے معذرت کی اور کہا : مجھے اس سے روکا گیا ہے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیبا نامی ریشم نہ پہنو اور نہ ہی حریر نامی ریشم ، کیونکہ یہ ان ( کفار و مشرکین ) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5303]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 29 (5426)، الأشربة 27 (5632)، 28 (5633)، اللباس 25 (5831)، 27 (5837)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2067)، سنن ابی داود/الأشربة 17 (3723)، سنن الترمذی/الأشربة 10 (1879)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 17 (3414)، (تحفة الأشراف: 3368، 3373)، مسند احمد (5/385، 39، 396، 400، 408) (صحیح)
88: بَابُ : لُبْسِ الدِّيبَاجِ الْمَنْسُوجِ بِالذَّهَبِ
باب: سونے کے کام والے دیبا نامی ریشمی کپڑا پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: إِنَّ سَعْدًا كَانَ أَعْظَمَ النَّاسِ وَأَطْوَلَهُ، ثُمَّ بَكَى فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى أُكَيْدِرٍ صَاحِبِ دُومَةَ بَعْثًا , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ مَنْسُوجَةٍ فِيهَا الذَّهَبُ، فَلَبِسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَقَعَدَ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ وَنَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَهَا بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالَ: " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ , لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ".
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب مدینے آئے ، تو میں ان کے پاس گیا ، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں ، وہ بولے : سعد تو بہت عظیم شخص تھے اور لوگوں میں سب سے لمبے تھے ، پھر وہ رو پڑے اور بہت روئے ، پھر بولے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومۃ کے بادشاہ اکیدر کے پاس ایک وفد بھیجا ، تو اس نے آپ کے پاس دیبا کا ایک جبہ بھیجا ، جس میں سونے کی کاریگری تھی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا ، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور بیٹھ گئے ، پھر کچھ کہے بغیر اتر گئے ، لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھونے لگے ، تو آپ نے فرمایا : ” کیا تمہیں اس پر تعجب ہے ؟ سعد کے رومال جنت میں اس سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جسے تم دیکھ رہے ہو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5304]
💡 وضاحت:
۱؎: دیبا نامی ایسا ریشمی کپڑا پہننا منسوخ ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 3 (1723)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الہبة 28 (2615)، وبدء الخلق 8 (3248)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 24 (2469)، مسند احمد (2/121) (صحیح)
89: بَابُ : ذِكْرِ نَسْخِ ذَلِكَ
باب: دیبا نامی ریشم پہننے کی اباحت کے منسوخ ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ، ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ، فَقِيلَ لَهُ: قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام". فَجَاءَ عُمَرُ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ. قَالَ: " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ، إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ لِتَبِيعَهُ"، فَبَاعَهُ عُمَرُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیبا کی ایک قباء پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی ، پھر تھوڑی دیر بعد اسے اتار دیا اور اسے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آپ نے اسے بہت جلد اتار دی ، فرمایا : ” مجھے جبرائیل علیہ السلام نے اس کے استعمال سے روک دیا ہے “ ، اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور بولے : اللہ کے رسول ! ایک چیز آپ نے ناپسند فرمائی اور وہ مجھے دے دی ؟ فرمایا : ” میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی ، میں نے تمہیں بیچ دینے کے لیے دی ہے “ ، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دو ہزار درہم میں بیچ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5305]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 2 (2070)، (تحفة الٔاشراف: 2825)، مسند احمد (3/383) (صحیح)
90: بَابُ : التَّشْدِيدِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ
باب: ریشم پہننے کی سخت ممانعت اور یہ بیان کہ اسے دنیا میں پہننے والا آخرت میں نہیں پہنے گا۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، وَيَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ".
ثابت کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے : محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5306]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ مردوں کے لیے ہے۔ عورتوں کے لیے ریشم پہننا جائز ہے، جیسا کہ حدیث نمبر ۱۵۵۱ میں گزرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 25 (5833)، (تحفة الأشراف: 5257)، مسند احمد (4/5) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تم اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ اس لیے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے دنیا میں ریشم پہنا ، وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5307]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی اپنی سمجھ ہے، انہوں نے اس فرمان کو عام سمجھا حالانکہ یہ مردوں کے لیے ہے، ممکن ہے ان کو وہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پہنچ سکی ہو جس میں صراحت ہے کہ ریشم امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 25 (5834)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، (تحفة الأشراف: 10483)، مسند احمد (1/46) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَرْبٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ: عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟ فَقَالَ: سَلْ عَائِشَةَ , فَسَأَلَتْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَلْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ , فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَلَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ".
عمران بن حطان سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ریشم پہننے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ لو ، چنانچہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو وہ بولیں : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھ لو ، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا : مجھ سے ابوحفص ( عمر ) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے دنیا میں ریشم پہنا ، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5308]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ بطور زجر و تہدید ہے، جو صرف مردوں کے لیے حرام ہیں، البتہ سونے چاندی کے برتن، اور ریشمی زین دونوں کے لیے حرام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 25 (5835)، (تحفة الٔاشراف: 10548) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , وَبِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حریر نامی ریشم تو وہی پہنتا ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5309]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 6656، 6659) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ سَنَةَ سَبْعٍ وَمِائَتَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيٍّ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: أَتَتْنِي امْرَأَةٌ تَسْتَفْتِينِي , فَقُلْتُ لَهَا: هَذَا ابْنُ عُمَرَ: , فَاتَّبَعَتْهُ تَسْأَلُهُ , وَاتَّبَعْتُهَا أَسْمَعُ مَا يَقُولُ , قَالَتْ: أَفْتِنِي فِي الْحَرِيرِ؟ , قَالَ: " نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علی بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس مسئلہ پوچھنے آئی تو میں نے اس سے کہا : یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں ، ( ان سے پوچھ لو ) وہ مسئلہ پوچھنے ان کے پیچھے گئی اور میں بھی اس کے پیچھے گیا تاکہ وہ جو کہیں اسے سنوں ، وہ بولی : مجھے حریر نامی ریشم کے بارے میں بتائیے ، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5310]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 7350) (صحیح)
91: بَابُ : ذِكْرِ النَّهْىِ عَنِ الثِّيَابِ الْقِسِّيَّةِ
باب: ریشمی کپڑوں کے پہننے کی ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ نَهَانَا عَنْ: خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَالْقَسِّيَّةِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْحَرِيرِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا : ” آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھی سے ، چاندی کے برتن سے ، ریشمی زین سے ، قسی ، استبرق ، دیبا اور حریر نامی ریشم کے استعمال سے منع فرمایا ” ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5311]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ سب ریشم کی اقسام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1941 (صحیح)
92: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ
باب: ریشم پہننے کی اجازت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرْخَصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قُمُصِ حَرِيرٍ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کھجلی کی وجہ سے جو انہیں ہو گئی تھی ریشم کی قمیص ( پہننے ) کی اجازت دی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5312]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اجازت عذر (کھجلی) کی بنا پر تھی، اس لیے صرف عذر تک کی اجازت رہے گی، عذر ختم ہو جانے کے بعد ایسی قمیص نکال دینی ہو گی، یہ پوری قمیص پہننے کے بارے میں ہے، اور جہاں تک صرف ریشم کے بٹن کی بات ہے تو یہ مردوں کے لیے ہر حالت میں جائز ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ۵۳۱۴)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 91 (2991)، اللباس 29 (5839)، صحیح مسلم/اللباس 3 (2076)، سنن ابی داود/اللباس13(4056)، سنن الترمذی/اللباس 2 (1722)، سنن ابن ماجہ/اللباس17(3592)، (تحفة الأشراف: 1169)، مسند احمد (3/ 215) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَالزُّبَيْرِ فِي قُمُصِ حَرِيرٍ كَانَتْ بِهِمَا , يَعْنِي لِحِكَّةٍ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن اور زبیر رضی اللہ عنہما کو ریشم کی قمیص کی اجازت دی اس مرض یعنی کھجلی کے سبب جو انہیں ہو گئی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5313]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ , فَجَاءَ كِتَابُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ إِلَّا مَنْ لَيْسَ لَهُ مِنْهُ شَيْءٌ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا هَكَذَا"، وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ: بِأُصْبُعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْإِبْهَامَ , فَرَأَيْتُهُمَا أَزْرَارَ الطَّيَالِسَةِ حَتَّى رَأَيْتُ الطَّيَالِسَةَ".
ابوعثمان النہدی کہتے ہیں کہ ہم عتبہ بن فرقد کے ساتھ تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” ریشم تو وہی پہنتا ہے جس کا اس میں سے آخرت میں کوئی حصہ نہیں مگر اتنا “ ، ابوعثمان نے انگوٹھے کے پاس والی اپنی دونوں انگلیوں کے اشارے سے کہا ، میں نے دیکھا وہ طیلسان کے کپڑوں کے چند بٹن تھے ، یہاں تک کہ میں نے طیلسان کا کپڑا بھی دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5314]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 25 (5828)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، سنن ابی داود/اللباس 10 (4042)، سنن ابن ماجہ/اللباس 18 (3593)، (تحفة الأشراف: 10597)، مسند احمد (1/36) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ وَبَرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ. ح، وأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عُمَرَ: " أَنَّهُ لَمْ يُرَخِّصْ فِي الدِّيبَاجِ إِلَّا مَوْضِعَ أَرْبَعِ أَصَابِعَ".
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دیباج کی اجازت صرف چار انگلی تک دی گئی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5315]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی چار انگل دیباج کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، سنن الترمذی/اللباس 1 (1721)، (تحفة الٔاشراف: 10459)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجھاد 21 (2820) (صحیح)
93: بَابُ : لُبْسِ الْحُلَلِ
باب: جوڑے پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ مُتَرَجِّلًا لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحَدًا هُوَ أَجْمَلُ مِنْهُ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ لال جوڑا ۱؎ پہنے ہوئے اور کنگھی کیے ہوئے تھے ، میں نے آپ سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا ، نہ آپ سے پہلے ، نہ آپ کے بعد ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5316]
💡 وضاحت:
۱؎: متعدد صحیح احادیث میں یہ بات صراحت کے ساتھ آئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کے لیے لال رنگ کو ناپسند فرمایا ہے، (دیکھئیے حدیث نمبر ۵۳۱۸، اور بعد کی حدیثیں) آپ کی مذکورہ چادر میں تھوڑی سی لال رنگ کی ملاوٹ تھی، یا لال رنگ سے آپ نے اس کے بعد منع فرمایا تھا۔ (لال رنگ کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں تفصیلی بحث کے لیے دیکھئیے فتح الباری میں اس حدیث کی شرح، کتاب اللباس، باب الثوب الأحمر)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5234 (صحیح)
94: بَابُ : لُبْسِ الْحِبَرَةِ
باب: یمن کی سوتی چادر پہننے اوڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِبَرَةَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ کپڑا یمن کی سوتی چادر تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5317]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 18 (5812)، صحیح مسلم/اللباس 5 (5813)، سنن الترمذی/اللباس45(1787)، والشمائل 8 (60)، (تحفة الٔاشراف: 1353)، مسند احمد (3/134، 184، 251، 291) (صحیح)
95: بَابُ : ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَر
باب: زرد رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أخبَرهُ: أَنَّهُ رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ، فَقَالَ: " هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ , فَلَا تَلْبَسْهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا ، وہ دو کپڑے زرد رنگ کے پہنے ہوئے تھے ، آپ نے فرمایا : ” یہ کفار کا لباس ہے ، اسے مت پہنو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5318]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس4(2077)، (تحفة الأشراف: 8613)، مسند احمد (2/162، 164، 193، 207، 211) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " اذْهَبْ فَاطْرَحْهُمَا عَنْكَ"، قَالَ: أَيْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " فِي النَّارِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، وہ پیلے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے ، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے اور فرمایا : ” جاؤ اور اسے اپنے جسم سے اتار دو “ ۔ وہ بولے : کہاں ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” آگ میں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5319]
💡 وضاحت:
۱؎: چنانچہ انہوں نے اسے گھر کے تنور میں ڈال دیا، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ میں ڈال دینے کا حکم دیا، ایسا صرف زجر و توبیخ کے لیے تھا، ورنہ اس نوع کا کپڑا عورتوں کے لیے جائز ہے، نیز بیچ کر کے قیمت کا استعمال بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 4 (2077)، (تحفة الأشراف: 8830) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا، يَقُولُ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبُوسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے ، ریشمی کپڑوں سے ، زعفرانی رنگ کے لباس سے ، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5320]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1044 (صحیح)
96: بَابُ : لُبْسِ الْخُضْرِ مِنَ الثِّيَابِ
باب: سبز کپڑا پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو نُوحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: " خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک بار گھر سے ) باہر نکلے ، آپ دو ہرے کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5321]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1553 (صحیح)
97: بَابُ : لُبْسِ الْبُرُودِ
باب: چادریں اوڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، قَالَ: " شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ" , فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا".
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کفار و مشرکین کی ایذا رسانی کی ) شکایت کی ، اس وقت آپ چادر کا تکیہ لگائے ۱؎ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے ، ہم نے کہا : کیا آپ ہمارے لیے مدد طلب نہیں کریں گے ؟ کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعائیں نہیں کریں گے ؟ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5322]
💡 وضاحت:
۱؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المناقب 25 (3612)، مناقب الٔةنصار 29 (3852)، الإکراہ 1 (6943)، سنن ابی داود/الجہاد 107 (2649)، (تحفة الأشراف: 3519)، مسند احمد (5/109، 110، 111، 6/395) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِبُرْدَةٍ، قَالَ سَهْلٌ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، هَذِهِ الشَّمْلَةُ مَنْسُوجٌ فِي حَاشِيَتِهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي أَكْسُوكَهَا، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت ایک چادر لے کر آئی ، جانتے ہو وہ کیسی چادر تھی ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ، یہی شملہ ، اس کی گوٹا کناری بنی ہوئی تھی ، وہ بولی : اللہ کے رسول ! میں نے یہ اپنے ہاتھ سے بنی ہے تاکہ آپ کو پہناؤں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت تھی ، پھر آپ باہر نکلے اور ہمارے پاس آئے اور آپ اسی کا تہبند باندھے ہوئے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5323]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 31 (2093)، اللباس 18 (5810)، (تحفة الأشراف: 4783)، مسند احمد (5/333) (صحیح)
98: بَابُ : الأَمْرِ بِلُبْسِ الْبِيضِ مِنَ الثِّيَابِ
باب: سفید کپڑا پہننے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ"، قَالَ يَحْيَى: لَمْ أَكْتُبْهُ، قُلْتُ: لِمَ؟ قَالَ: اسْتَغْنَيْتُ بِحَدِيثِ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ سَمُرَةَ.
سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سفید کپڑے پہنا کرو ، اس لیے کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتے ہیں اور اپنے مردوں کو سفید کفن دیا کرو “ ۔ ( عمرو بن علی کہتے ہیں کہ ) یحییٰ نے کہا : میں نے اس روایت کو نہیں لکھا ، میں نے کہا : کیوں ؟ کہا : میمون بن ابی شبیب کی وہ روایت جو سمرہ رضی اللہ عنہ سے ہے وہی میرے لیے کافی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5324]
💡 وضاحت:
۱؎: جس کو ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، سنده ضعيف، ترمذي (2810) ابن ماجه (3567) سعيد بن أبى عروبة مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1897 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْبَيَاضِ مِنَ الثِّيَابِ فَلْيَلْبَسْهَا أَحْيَاؤُكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سفید کپڑوں کو پہنو ، زندہ اسے پہنیں اور مردوں کو اسی کا کفن دو کیونکہ یہی کپڑوں میں سب سے عمدہ کپڑا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5325]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 4626) (صحیح)
99: بَابُ : لُبْسِ الأَقْبِيَةِ
باب: قباء (کوٹ، اچکن) پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً , وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ , انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ , فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: " خَبَّأْتُ هَذَا لَكَ"، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَلَبِسَهُ مَخْرَمَةُ.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : بیٹے ! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو ، چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا ، انہوں نے کہا : اندر جاؤ اور آپ کو میرے لیے بلا لاؤ ، چنانچہ میں نے آپ کو بلا لایا ، آپ نکل کر آئے تو آپ انہیں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے ، آپ نے فرمایا : ” اسے میں نے تمہارے ہی لیے چھپا رکھی تھی “ ، مخرمہ نے اسے دیکھا اور پہن لی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5326]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الہبة 19 (2599)، الشہادات 11 (2127)، الخمس 11 (3127)، اللباس 12 (5800)، 42 (5862)، الأدب 82 (6132)، صحیح مسلم/الزکاة 44 (1058)، سنن ابی داود/اللباس 4 (4028)، الأدب 53 (الاستئذان 87) (2818)، (تحفة الأشراف: 11268)، مسند احمد (4/328) (صحیح)
100: بَابُ : لُبْسِ السَّرَاوِيلِ
باب: پاجامہ پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: " مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرفات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جسے تہبند نہ ملے تو وہ پاجامہ پہن لے ، اور جسے چپل نہ ملے وہ خف ( چمڑے کے موزے ) پہن لے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5327]
💡 وضاحت:
۱؎: جب احرام کی حالت میں پاجامہ پہن سکتے ہیں تو احرام کے علاوہ حالت میں بدرجہ اولیٰ پہن سکتے ہیں یہی باب سے مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2672 (صحیح)
101: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي جَرِّ الإِزَارِ
باب: ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکانے کی سنگینی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنِ الْخُيَلَاءِ خَسَفَ بِهِ , فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک شخص تکبر ( گھمنڈ ) سے اپنا تہبند لٹکاتا تھا ، ) تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا ، چنانچہ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جا رہا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5328]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر کسی مجبوری سے خود سے پاجامہ (تہبند) ٹخنے سے نیچے آ جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور تکبر سے کی قید احتراز نہیں ہے، (کہ اگر تکبر سے تہبند لٹکائے تو حرام ہے، ورنہ نہیں) بلکہ یہ لفظ اس لیے آیا ہے کہ عام طور سے تہبند کا لٹکانا پہلے تکبر اور گھمنڈ ہی سے ہوتا تھا، بہت سی روایات میں لفظ «خیلاء» نہیں ہے، «ازار» میں وہ سارے کپڑے شامل ہیں جو تہبند (لنگی) کی جگہ پہنے جاتے ہیں، دیکھئیے حدیث نمبر ۵۳۳۱- ۵۳۳۷۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الٔنبیاء 54 (3485)، اللباس 5 (5790)، (تحفة الأشراف: 6998)، مسند احمد (2/66) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ. ح وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ , أَوْ قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے تکبر ( گھمنڈ ) سے اپنا کپڑا ( ٹخنے سے نیچے ) لٹکایا ( یا یوں فرمایا : جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا لٹکاتا ہے ) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5329]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/5 (5791 تعلیقًا)، صحیح مسلم/اللباس9(2062)، (تحفة الأشراف: 8282) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنْ مَخِيلَةٍ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَنْظُرْ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ( ٹخنے سے نیچے ) اپنا کپڑا تکبر سے لٹکایا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5330]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 5 (5791)، صحیح مسلم/اللباس 9 (2062م)، (تحفة الأشراف: 7409)، مسند احمد (2/42، 46) (صحیح)
102: بَابُ : مَوْضِعِ الإِزَارِ
باب: تہبند کہاں تک ہو؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ , عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَوْضِعُ الْإِزَارِ إِلَى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ وَالْعَضَلَةِ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَمِنْ وَرَاءِ السَّاقِ، وَلَا حَقَّ لِلْكَعْبَيْنِ فِي الْإِزَارِ". وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تہبند آدھی پنڈلی تک جہاں گوشت ہوتا ہے ہونا چاہیئے ۔ اگر ایسا نہ ہو تو کچھ نیچے ، اور اگر ایسا بھی نہ ہو تو پنڈلی کے اخیر تک ، اور ٹخنوں کا تہبند میں کوئی حق نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5331]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 41 (1783)، سنن ابن ماجہ/اللباس 7 (3572)، (تحفة الأشراف: 3383)، مسند احمد (5/382، 398، 400، 401) (صحیح)
103: بَابُ : مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الإِزَارِ
باب: ٹخنوں سے نیچے تہبند کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يَعْقُوبَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَحْتَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹخنوں سے نیچے کا تہبند جہنم کی آگ میں ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5332]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جسم کا وہ حصہ جو ٹخنے سے نیچے ازار (تہبند) سے چھپا ہوا ہے جہنم کی آگ میں جلے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14099، 14355) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي وَقَدْ كَانَ يُخْبِرُ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ جہنم کی آگ میں ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5333]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 4 (5787)، (تحفة الأشراف: 12961)، مسند احمد (2/410، 461، 498) (صحیح)
104: بَابُ : إِسْبَالِ الإِزَارِ
باب: تہبند ٹخنے سے نیچے لٹکانا کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْظُرُ إِلَى مُسْبِلِ الْإِزَارِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو نہیں دیکھے گا جو ( ٹخنے سے نیچے ) تہبند لٹکاتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5334]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5435)، مسند احمد (1/323) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مِهْرَانَ الْأَعْمَشَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سَلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین لوگ ہیں ، جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا ، نہ انہیں ( گناہوں سے ) پاک کرے گا ، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے : کچھ دے کر حد سے زیادہ احسان جتانے والا ، ( ٹخنے سے نیچے ) تہبند لٹکانے والا ، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5335]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2565 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِسْبَالُ فِي الْإِزَارِ، وَالْقَمِيصِ، وَالْعِمَامَةِ، مَنْ جَرَّ مِنْهَا شَيْئًا خُيَلَاءَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تہبند ، قمیص اور پگڑی میں کسی کو بھی کوئی تکبر ( گھمنڈ ) سے لٹکائے تو قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5336]
💡 وضاحت:
۱؎: تکبر اور گھمنڈ اللہ تعالیٰ کو قطعی پسند نہیں ہے، نیز تہبند، قمیص اور عمامہ (پگڑی) میں تکبر اور گھمنڈ کے قبیل سے جو زائد حصہ لگ رہا ہے وہ اسراف سے خالی نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس 30 (4094)، سنن ابن ماجہ/اللباس 9 (3576)، (تحفة الأشراف: 6768) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ خُيَلَاءَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنا کپڑا تکبر ( گھمنڈ ) سے گھسیٹے گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا “ ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے تہبند کا ایک کونا لٹک جاتا ہے ، إلا اس کے کہ میں اس کا بہت زیادہ خیال رکھوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر ( گھمنڈ ) کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5337]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3665)، اللباس 2 (5784)، سنن ابی داود/اللباس 28 (4085)، (تحفة الأشراف: 7026)، مسند احمد (2/67، 136) (صحیح)
105: بَابُ : ذُيُولِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کے دامن کی لمبائی کی حد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَكَيْفَ تَصْنَعُ النِّسَاءُ بِذُيُولِهِنَّ؟ قَالَ: " تُرْخِينَهُ شِبْرًا". قَالَتْ: إِذًا تَنْكَشِفَ أَقْدَامُهُنَّ؟ قَالَ: " تُرْخِينَهُ ذِرَاعًا لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے تکبر ( گھمنڈ ) سے اپنا کپڑا لٹکایا ، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا “ ، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! تو پھر عورتیں اپنے دامن کیسے رکھیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اسے ایک بالشت لٹکائیں “ ، وہ بولیں : تب تو ان کے قدم کھلے رہیں گے ؟ ، آپ نے فرمایا : ” تو ایک ہاتھ لٹکائیں ، اس سے زیادہ نہ کریں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5338]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 9 (2085)، سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، (تحفة الأشراف: 7526)، مسند احمد (2/5، 55، 101) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُيُولَ النِّسَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُرْخِينَ شِبْرًا" , قَالَتْ: أُمُّ سَلَمَةَ: إِذًا يَنْكَشِفَ عَنْهَا؟ قَالَ: " تُرْخِي ذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کے دامن لٹکانے کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ ایک بالشت لٹکائیں “ ۱؎ ، ام سلمہ رضی اللہ عنہا بولیں : تب تو کھلا رہے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” تب ایک ہاتھ لٹکائیں ، اس سے زیادہ نہ کریں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5339]
💡 وضاحت:
۱؎: عورتیں ایک بالشت یا ایک ہاتھ زیادہ کہاں سے لٹکائیں؟ اس بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ مردوں کی جائز حد (ٹخنوں) سے زیادہ ایک بالشت لٹکائیں یا حد سے حد ایک ہاتھ زیادہ لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہیں، یہ اجازت اس لیے ہے تاکہ عورتوں کے قدم اور پنڈلیاں چلتے وقت ظاہر نہ ہو جائیں، آج ٹخنوں تک پاجامہ (شلوار) کے بعد لمبے موزوں سے عورتوں کا مذکورہ پردہ حاصل ہو سکتا ہے، لیکن عورتوں کے لباس اصلی شلوار وغیرہ میں اس بات کی احتیاط ہونی چاہیئے کہ وہ سلاتے وقت ٹخنے کے نیچے ناپ کر سلاتے جائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18217) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ذُكِرَ، فِي الْإِزَارِ مَا ذُكِرَ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَكَيْفَ بِالنِّسَاءِ؟ قَالَ: " يُرْخِينَ شِبْرًا" , قَالَتْ: إِذًا تَبْدُوَ أَقْدَامُهُنَّ؟ قَالَ: " فَذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تہبند کے بارے میں جو کچھ کیا اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : پھر عورتیں کیسے کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک بالشت لٹکائیں “ ، وہ بولیں تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے ! آپ نے فرمایا : ” پھر ایک ہاتھ اور لٹکا لیں ، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5340]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس 40 (4117)، (تحفة الأشراف: 18282)، موطا امام مالک/اللباس 6 (13)، مسند احمد (6/295)، سنن الدارمی/الإستئذان 16 (2686) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ تَجُرُّ الْمَرْأَةُ مِنْ ذَيْلِهَا؟ قَالَ: " شِبْرًا" قَالَتْ: إِذًا يَنْكَشِفَ عَنْهَا؟ قَالَ: " ذِرَاعٌ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : عورت اپنا دامن کس قدر لٹکائے ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک بالشت “ ، وہ بولیں : تب تو کھلا رہ جائے گا ! آپ نے فرمایا : ” ایک ہاتھ ، اس سے زیادہ نہ لٹکائیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5341]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس 40 (4117)، سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، سنن ابن ماجہ/اللباس 13 (3580)، (تحفة الأشراف: 18159)، مسند احمد (6/293، 315) (صحیح)
106: بَابُ : النِّهْىِ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ
باب: سارے بدن کو کپڑے سے لپیٹ لینا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء سے اور ایک ہی کپڑے میں احتباء سے کہ شرمگاہ پر کچھ نہ ہو منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5342]
💡 وضاحت:
۱؎: اشتمال صماء اہل لغت کے یہاں اشتمال صماء: یہ ہے کہ ایک آدمی کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح سے لپیٹ لے کہ ہاتھ پاؤں کی حرکت مشکل ہو، اس طرح کا تنگ کپڑا پہننے سے آدمی بوقت ضرورت کسی تکلیف دہ چیز سے اپنا دفاع نہیں کر سکتا، اور فقہاء کے نزدیک اشتمال صماء یہ ہے کہ پورے بدن پر صرف ایک کپڑا لپیٹے اور ایک جانب سے ایک کنارہ اٹھا کر گندھے پر رکھ لے، اس طرح کہ ستر (شرمگاہ) کھل جائے، اہل لغت کی تعریف کے مطابق یہ مکروہ ہے، اور فقہاء کی تعریف کے مطابق حرام۔ احتباء یہ ہے کہ آدمی ایک کپڑا پہنے اور گوٹ مار کر اس طرح بیٹھے کہ کپڑا اس کے ستر (شرمگاہ) سے ہٹ جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 10 (367)، اللباس 21 (5822)، (تحفة الأشراف: 4140)، مسند احمد (3/6، 13، 46) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا پورے بدن پر لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں آدمی کے احتباء کرنے سے کہ شرمگاہ کھلی ہوئی ہو ، منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5343]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4516 (صحیح)
107: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ الاِحْتِبَاءِ، فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
باب: ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیٹھنے کی ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے بدن پر کپڑا لپیٹ لینے اور ایک ہی کپڑے میں لپیٹ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5344]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 20، 21(2099)، سنن الترمذی/الٔڑدب 20 سنن ابی داود/الٔتدب 36 (4865)، (الاستئذان54) (2767)، (تحفة الأشراف: 2905)، مسند احمد (3/349) (صحیح)
108: بَابُ : لُبْسِ الْعَمَائِمِ الْحَرْقَانِيَّةِ
باب: سرمئی رنگ کی پگڑی باندھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رَأَيْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِمَامَةً حَرْقَانِيَّةً".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کی پگڑی باندھے دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5345]
💡 وضاحت:
۱؎: «حرقانیہ» لفظ «حرق» (جلنا) سے ہے، یعنی: جلنے کے بعد کسی چیز کا جو رنگ ہوتا ہے، وہ سرمئی ہوتا ہے، لیکن مؤلف کے سوا سب کے یہاں، یہاں لفظ «سوداء» ہے، (خود مؤلف کے یہاں بھی آگے «سوداء» ہی ہے) اس لحاظ سے دونوں حدیثوں کو ایک ہی باب (۱۰۹) میں لانا چاہیئے تھا، مگر کسی راوی کے یہاں «حرقانیۃ» ہونے کی وجہ سے اور رنگ میں ذرا سا فرق ہونے کی وجہ سے مؤلف نے شاید الگ الگ دو باب باندھے ہیں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 84 (1359)، سنن ابی داود/اللباس 24 (4077)، سنن الترمذی/الشمائل 16(108)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 22 (2821)، اللباس 14 (3587)، (تحفة الأشراف: 10716)، مسند احمد (4/307) (صحیح)
109: بَابُ : لُبْسِ الْعَمَائِمِ السُّودِ
باب: کالے رنگ کی پگڑی باندھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ , وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں احرام کے بغیر داخل ہوئے اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5346]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2872 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن ( مکہ میں ) داخل ہوئے اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5347]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 84 (1358)، سنن الترمذی/الجہاد 9 (1679)، (تحفة الأشراف: 2890)، مسند احمد (3/387) (صحیح)
110: بَابُ : إِرْخَاءِ طَرَفِ الْعِمَامَةِ بَيْنَ الْكَتِفَيْنِ
باب: دونوں مونڈھوں کے درمیان پگڑی کا کنارہ لٹکانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ السَّاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ , وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ".
عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھ رہا ہوں اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے ہیں ، اس کا کنارہ اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان ( پیچھے ) لٹکا رکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5348]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5345 (صحیح)
111: بَابُ : التَّصَاوِيرِ
باب: تصویروں اور مجسموں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ , وَلَا صُورَةٌ".
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا تصویر ( مجسمہ ) “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5349]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4287 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ".
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو ، اور نہ ایسے گھر میں جس میں مورتیاں ( مجسمے ) “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5350]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 4287 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ , فَأَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا يَنْزَعُ نَمَطًا تَحْتَهُ , فَقَالَ لَهُ سَهْلٌ: لِمَ تَنْزِعُ، قَالَ: لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرُ، وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ , قَالَ: أَلَمْ يَقُلْ: " إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ"؟ , قَالَ: " بَلَى , وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي".
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس عیادت کے لیے گئے ، ان کے پاس انہیں سہل بن حنیف مل گئے ۔ تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ ان کے نیچے سے بچھونا نکالے ۔ ان سے سہل نے کہا : اسے کیوں نکال رہے ہیں ؟ وہ بولے ؟ اس لیے کہ اس میں تصویریں ( مجسمے ) ہیں اور اسی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان ہے جو تمہارے علم میں ہے ، وہ بولے : کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا : ” اگر کپڑے میں نقش ہوں تو کوئی حرج نہیں “ ، انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، لیکن مجھے یہی بھلا معلوم ہوتا ہے ( کہ میں نقش والی چادر بھی نہ رکھوں ) ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5351]
💡 وضاحت:
۱؎: تصویر کے سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ ذی روح (جاندار) کی تصویر حرام ہے، خواہ یہ تصاویر جسمانی ہیئت (مجسموں کی شکل) میں ہوں یا نقش و نگار کی صورت میں، إلا یہ کہ ان کے اجزاء متفرق ہوں، البتہ گڑیوں کی شکل کو علماء نے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 18 (1750)، (تحفة الأشراف: 3782) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ". قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ , فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ، قُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّورَةِ يَوْمَ الْأَوَّلِ؟ قَالَ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ يَقُولُ: " إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ".
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ( مجسمہ ) ہو “ ، بسر کہتے ہیں : پھر زید بیمار پڑ گئے تو ہم نے ان کی عیادت کی ، اچانک دیکھا کہ ان کے دروازے پر پردہ ہے جس میں تصویر ہے ، میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا : کیا زید نے ہمیں تصویر کے بارے میں پہلے روز حدیث نہیں سنائی تھی ؟ کہا : عبیداللہ نے کہا : کیا تم نے انہیں یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : کپڑے کے نقش کے سوا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5352]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 7 (3226)، اللباس 92 (5958)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2106)، سنن ابی داود/اللباس 48 (4153)، (تحفة الأشراف: 3775)، مسند احمد (4/28) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: صَنَعْتُ طَعَامًا , فَدَعَوْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ، فَدَخَلَ فَرَأَى سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَخَرَجَ , وَقَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَصَاوِيرُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا ، چنانچہ آپ تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے تو ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ۱؎ ، تو آپ باہر نکل گئے اور فرمایا : ” فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جن میں تصویریں ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5353]
💡 وضاحت:
۱؎: جو جاندار کی تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الٔقطعمة 56 (3359)، اللباس 44 (3650) (تحفة الأشراف: 10117) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرْجَةً ثُمَّ دَخَلَ، وَقَدْ عَلَّقْتُ قِرَامًا فِيهِ الْخَيْلُ أُولَاتُ الْأَجْنِحَةِ، قَالَتْ: فَلَمَّا رَآهُ، قَالَ: " انْزِعِيهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے پھر اندر چلے گئے ، میں نے وہاں ایک باریک رنگین کپڑا لٹکا رکھا تھا جس میں پر دار گھوڑے بنے ہوئے تھے ، جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا : ” اسے نکال دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5354]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17229)، مسند احمد (6/229) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَيْرٍ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ إِذَا دَخَلَ الدَّاخِلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ , حَوِّلِيهِ فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا"، قَالَتْ: وَكَانَ لَنَا قَطِيفَةٌ لَهَا عَلَمٌ , فَكُنَّا نَلْبَسُهَا فَلَمْ نَقْطَعْهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر چڑیا کی شکل بنی ہوئی تھی جب کوئی آنے والا آتا تو وہ ٹھیک سامنے پڑتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! اسے بدل دو ، اس لیے کہ جب میں اندر آتا ہوں اور اسے دیکھتا ہوں تو دنیا یاد آتی ہے “ ، ہمارے پاس ایک چادر تھی جس میں نقش و نگار تھے ، ہم اسے استعمال کیا کرتے تھے ۔ لیکن اسے ہم نے کاٹا نہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5355]
💡 وضاحت:
۱؎: بقول امام نووی: یہ تصویروں کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، اس لیے آپ نے حرمت کی بجائے ذکرِ دنیا کا حوالہ دیا اور ہٹوا دیا، یا یہ غیر جاندار کے نقش و نگار تھے جنہیں دنیاوی اسراف و تبذیر کی علامت ہونے کے سبب آپ نے ہٹوا دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس26(2107)، سنن الترمذی/صفة القیامة 3 (2468)، (تحفة الأشراف: 16101)، مسند احمد (6/4949، 53، 241) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَيْتِي ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَجَعَلْتُهُ إِلَى سَهْوَةٍ فِي الْبَيْتِ , فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " يَا عَائِشَةُ , أَخِّرِيهِ عَنِّي"، فَنَزَعْتُهُ , فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر میں ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ۱؎ ، چنانچہ میں نے اسے گھر کے ایک روشندان میں لٹکا دیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے ، پھر آپ نے فرمایا : ” عائشہ ! اسے ہٹا دو “ ، پھر میں نے اسے نکال دیا اور اس کے تکیے بنا دیے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5356]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ بھی تصویروں کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، یا یہ بھی غیر جاندار چیزوں کے نقش و نگار تھے، لیکن دیواروں یا روشن دانوں پر پردہ اسراف وتبذیر ہے جس کی وجہ سے آپ نے ہٹوا کر بچھونے بنوا دیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 762 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ: حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَعَهُ، فَقَطَعَتْهُ وِسَادَتَيْنِ". قَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ , يُقَالُ لَهُ: رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ: أَنَا سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْقَاسِمَ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک پردہ لٹکایا جس میں تصویریں تھیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے تو اسے نکال دیا ، چنانچہ میں نے اسے کاٹ کر دو تکیے بنا دیے ۔ اس وقت مجلس میں بیٹھے ایک شخص نے جسے ربیعہ بن عطا کہا جاتا ہے : نے کہا میں نے ابو محمد ، یعنی قاسم کو ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے سنا ، وہ بولیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ٹیک لگاتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5357]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 26 (2106)، (تحفة الأشراف: 17454، 17476)، مسند احمد 6/103، 219) (صحیح)
112: بَابُ : ذِكْرِ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا
باب: قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب والے لوگوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، وَقَدْ سَتَّرْتُ بِقِرَامٍ عَلَى سَهْوَةٍ لِي فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَنَزَعَهُ وَقَالَ: " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے ، میں نے ایک روشندان میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا ، جس میں تصویریں تھیں ، چنانچہ آپ نے اسے اتار دیا اور فرمایا : ” قیامت کے روز سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5358]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 91 (5954)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2107)، (تحفة الأشراف: 17483)، مسند احمد (6/36، 83، 85، 86، 199، 219) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُخْبِرُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَتَّرْتُ بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ , ثُمَّ هَتَكَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، میں نے ایک پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر تصاویر تھیں ، چنانچہ جب آپ نے اسے دیکھا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا ، پھر آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے پھاڑ دیا اور فرمایا : ” قیامت کے روز سب سے سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5359]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الٔكدب 75 (6109)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2107)، (تحفة الٔاشراف: 17551)، مسند احمد (6/36، 85، 86، 199) (صحیح)
113: بَابُ : ذِكْرِ مَا يُكَلَّفُ أَصْحَابُ الصُّوَرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
باب: قیامت کے دن تصویریں اور مجسمے بنانے والے اس میں روح پھونکنے کے مکلف کیے جائیں گے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ , قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ , فَقَالَ: إِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ , فَمَا تَقُولُ فِيهَا؟ فَقَالَ: ادْنُهْ , ادْنُهْ , سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخِهِ".
نضر بن انس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس اہل عراق میں سے ایک شخص آیا اور بولا : میں یہ تصویریں بناتا ہوں ، آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : قریب آؤ ۔ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے دنیا میں کوئی صورت بنائی قیامت کے روز اسے حکم ہو گا کہ اس میں روح پھونکے ، حالانکہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5360]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 104 (2225 تعلیقًا)، اللباس 97 (5963)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2110)، (تحفة الأشراف: 6536)، مسند احمد (1/216، 241، 350، 359، 360) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی تصویر بنائی ، تو اسے عذاب ہو گا یہاں تک کہ وہ اس میں روح ڈال دے ، اور وہ اس میں روح نہیں ڈال سکے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5361]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التعبیر 45 (7042)، سنن ابی داود/الٔسدب 96 (5024)، سنن الترمذی/اللباس 19 (1751)، سنن ابن ماجہ/تعبیر الرؤیا 8 (3916)، (تحفة الأشراف: 5986)، مسند احمد (1/216، 359) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی تصویر بنائی ، قیامت کے روز اسے حکم ہو گا کہ وہ اس میں روح ڈالے اور وہ اس میں روح نہیں ڈال سکے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5362]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التعبیر45(7042) (تعلیقاً)، (تحفة الأشراف: 14252)، مسند احمد (2/504) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ الَّذِينَ يَصْنَعُونَهَا يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلاشبہ وہ لوگ جو تصویریں بناتے ہیں ، قیامت کے روز عذاب میں مبتلا ہوں گے ، ان سے کہا جائے گا : زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5363]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 26 (2108)، (تحفة الأشراف 7520)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس89 (5951)، والتوحید 56 (7558)، مسند احمد (2/4، 20، 26، 55، 101، 126، 139، 141، 125) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلاشبہ یہ تصویریں بنانے والے قیامت کے دن عذاب پائیں گے اور ان سے کہا جائے گا : زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5364]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 40 (2105)، بدء الخلق 7 (3224)، النکاح 76 (5181)، اللباس 92 (5957)، والتوحید 56 (7557)، سنن ابن ماجہ/التجارات 5 (2151)، (تحفة الأشراف: 17557)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس26 (2107)، مسند احمد (6/70، 80، 223، 246) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ اللَّهَ فِي خَلْقِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو مخلوق کی تصویر بنانے میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5365]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17457) (صحیح)
114: بَابُ : ذِكْرِ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا
باب: قیامت کے دن سب سے سخت عذاب دیئے جانے والوں کا ذکر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ. ح، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ"، وَقَالَ أَحْمَدُ: " الْمُصَوِّرِينَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب والے تصویر بنانے والے لوگ ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5366]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 89 (5950)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2109)، (تحفة الأشراف: 9575)، مسند احمد (1/375، 426) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " اسْتَأْذَنَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: ادْخُلْ، فَقَالَ: كَيْفَ أَدْخُلُ وَفِي بَيْتِكَ سِتْرٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَإِمَّا أَنْ تُقْطَعَ رُءُوسُهَا، أَوْ تُجْعَلَ بِسَاطًا يُوطَأُ، فَإِنَّا مَعْشَرَ الْمَلَائِكَةِ لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَصَاوِيرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی ، تو آپ نے فرمایا : اندر آئیے ، وہ بولے : میں کیسے اندر آؤں ؟ آپ کے گھر میں تو ایسا پردہ لٹکا ہے جس میں تصویریں ہیں ، لہٰذا یا تو آپ ان کے سر کاٹ دیجئیے ، یا پھر ان کا بچھونا بنا دیجئیے تاکہ وہ روندا جائے ۔ کیونکہ ہم فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5367]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس 48 (4158)، سنن الترمذی/الأدب 44 (الاستئذان 78) (2807)، (تحفة الأشراف: 14345)، مسند احمد (2/305، 308، 390، 478) (صحیح)
115: بَابُ : اللُّحُفِ
باب: اوڑھنے والی چادر (لحاف) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ , وَمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي لُحُفِنَا"، قَالَ سُفْيَانُ: " مَلَاحِفِنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اوڑھنے کی چادر میں نماز نہیں پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5368]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسا آپ احتیاط کے طور پر کرتے تھے، کیونکہ اس بات کا امکان تھا کہ کوئی ایسی چیز ہو جو آپ کے لیے باعث تکلیف ہو، بہرحال اس سے یہ تو ثابت ہوا کہ آپ کے اہل خانہ لحاف استعمال کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطہارة 134 (367)، الصلاة 87 (645)، سنن الترمذی/الصلاة 303 (الجمعة 67) (600)، (تحفة الأشراف: 16221) (صحیح)
116: بَابُ : صِفَةِ نَعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے وصف کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ: " أَنَّ نَعْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهَا قِبَالَانِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5369]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخمس 5 (3105)، اللباس 41 (5857)، سنن ابی داود/اللباس 44 (4134)، سنن الترمذی/اللباس 33 (1772، 1773)، والشمائل 10 (71)، سنن ابن ماجہ/اللباس 27 (3615)، (تحفة الأشراف: 1392)، مسند احمد (3/122، 203، 245، 269) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: " كَانَ لِنَعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَالَانِ".
عمرو بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5370]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19159) (صحیح)
117: بَابُ : ذِكْرِ النَّهْىِ عَنِ الْمَشْىِ، فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ
باب: ایک جوتا پہن کر چلنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک جوتا پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرا لے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5371]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسا کرنے سے آپ نے اس لیے منع کیا تاکہ ایک پاؤں اونچا اور دوسرا نیچا نہ رہے کیونکہ ایسی صورت میں پھسلنے کا خطرہ ہے، ساتھ ہی دوسروں کی نگاہ میں برا بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12459)، مسند احمد (2/ 528) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى جَبْهَتِهِ , يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ , تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا".
ابورزین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ مار رہے تھے ، اور کہہ رہے تھے : عراق والو ! تم کہتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑتا ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک جوتا پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرا لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5372]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 19 (2098)، (تحفة الأشراف: 14608)، مسند احمد (2/42424، 480) (صحیح)
118: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الأَنْطَاعِ
باب: چمڑے کے بچھونے کا کیا حکم ہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَر، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ أَبُو مُطَرِّفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَجَعَ عَلَى نَطْعٍ فَعَرِقَ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى عَرَقِهِ فَنَشَّفَتْهُ فَجَعَلَتْهُ فِي قَارُورَةٍ، فَرَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟" , قَالَتْ: أَجْعَلُ عَرَقَكَ فِي طِيبِي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھال پر لیٹے تو آپ کو پسینہ آ گیا ، ام سلیم رضی اللہ عنہا اٹھیں اور پسینہ اکٹھا کر کے ایک شیشی میں بھرنے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا : ” ام سلیم ! یہ تم کیا کر رہی ہو ؟ “ وہ بولیں : میں آپ کے پسینے کو عطر میں ملاؤں گی ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5373]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کے ساتھ خاص تھا، چنانچہ سلف میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی نے کسی کا پسینہ محفوظ رکھا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 967)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 41 (6281)، صحیح مسلم/الفضائل 22 (2331)، مسند احمد (3/136، 221) (صحیح)
119: بَابُ : اتِّخَاذِ الْخَادِمِ وَالْمَرْكَبِ
باب: نوکر اور سواری رکھنے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَهْمٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ طَعِينٌ، فَأَتَاهُ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ , فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا يُبْكِيكَ أَوَجَعٌ يُشْئِزُكَ , أَمْ عَلَى الدُّنْيَا فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا؟ , قَالَ: كُلٌّ لَا , وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَبِعْتُهُ، قَالَ: " إِنَّهُ لَعَلَّكَ تُدْرِكُ أَمْوَالًا تُقْسَمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، فَأَدْرَكْتُ فَجَمَعْتُ.
ابووائل سے روایت ہے کہ سمرہ بن سہم جو ابووائل کے قبیلے کے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے یہاں ٹھہرا ، وہ طاعون میں مبتلا تھے ، چنانچہ ان کی عیادت کے لیے معاویہ رضی اللہ عنہ آئے ، تو ابوہاشم رونے لگے ، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیوں رو رہے ہو ؟ کیا کسی تکلیف کی وجہ سے رو رہے ہو یا دنیا کے لیے ؟ دنیا کی راحت تو اب گئی ، انہوں نے کہا : ایسی کوئی بات نہیں ہے ، دراصل مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عہد یاد آ گیا جو آپ نے مجھ سے لیا تھا ، میں چاہتا تھا کہ میں اس کی پیروی کروں ، آپ نے فرمایا : ” تیرے سامنے ایسے اموال آئیں گے جو لوگوں کے درمیان تقسیم کیے جائیں گے ، لیکن تمہارے لیے اس میں سے صرف ایک خادم اور اللہ کی راہ کے لیے ایک سواری کافی ہے ، لیکن میں نے مال پایا پھر اسے جمع کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5374]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (2327) ابن ماجه (4103) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الزہد 19 (2327)، سنن ابن ماجہ/الزہد 1 (4103)، (تحفة الأشراف: 12178)، مسند احمد (3/443، 444، 5/290) (حسن)
120: بَابُ : حِلْيَةِ السَّيْفِ
باب: تلوار کے دستہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ: " كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ".
ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5375]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 142) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , وَجَرِيرٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ نَعْلُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ، وَقَبِيعَةُ سَيْفِهِ فِضَّةٌ , وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ حِلَقُ فِضَّةٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے نیام کا نچلا حصہ چاندی کا تھا ، آپ کی تلوار کا دستہ بھی چاندی کا تھا ، اور ان کے درمیان میں چاندی کے حلقے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5376]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 71 (2583)، سنن الترمذی/الجھاد 16 (1691)، والشمائل 13 (99)، (تحفة الأشراف: 1146، 1425، 18688) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: " كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ".
سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5377]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ بھی صحیح ہے)
121: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْجُلُوسِ، عَلَى الْمَيَاثِرِ مِنَ الأُرْجُوَانِ
باب: لال زین پر بیٹھنے سے ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ سَدِّدْنِي وَاهْدِنِي"، وَنَهَانِي عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى الْمَيَاثِرِ , وَالْمَيَاثِرُ: قَسِّيٌّ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى الرَّحْلِ , كَالْقَطَائِفِ مِنَ الْأُرْجُوَانِ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کہو : ” «اللہم سددني واهدني» اے اللہ مجھے درست رکھ اور ہدایت عطا کر “ اور آپ نے مجھے «میاثر» پر بیٹھنے سے منع فرمایا ، «میاثر» ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے ، جسے عورتیں اپنے شوہروں کے لیے پالان پر ڈالنے کے لیے بناتی تھیں ۔ جیسے گلابی رنگ کی چھوردار چادریں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5378]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5214 (صحیح)
122: بَابُ : الْجُلُوسِ عَلَى الْكَرَاسِيِّ
باب: کرسی پر بیٹھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ؟ ,فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ , فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خِلْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا , فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّهَا".
ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، آپ خطبہ دے رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک اجنبی شخص اپنے دین کے بارے میں معلومات کرنے آیا ہے ، اسے نہیں معلوم کہ اس کا دین کیا ہے ؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور خطبہ روک دیا یہاں تک کہ آپ مجھ تک پہنچ گئے ، پھر ایک کرسی لائی گئی ، میرا خیال ہے اس کے پائے لوہے کے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے اور مجھے سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں سکھایا تھا ، پھر آپ لوٹ کر آئے اور اپنا خطبہ مکمل کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5379]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 15 (الصلاة 180) (878)، (تحفة الأشراف: 12035)، مسند احمد (5/80) (صحیح)
123: بَابُ : اتِّخَاذِ الْقِبَابِ الْحُمْرِ
باب: لال خیموں کے استعمال کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ , وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ وَعِنْدَهُ أُنَاسٌ يَسِيرُ، فَجَاءَهُ بِلَالٌ , فَأَذَّنَ فَجَعَلَ يُتْبِعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا".
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ ایک لال خیمے میں تھے اور آپ کے پاس تھوڑے سے لوگ بیٹھے تھے ، اتنے میں آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اذان دینی شروع کی ، تو اپنا منہ اِدھر اُدھر کرنے لگے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5380]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کے وقت اپنا رخ دائیں اور بائیں کرنے لگے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 47 (503)، سنن ابی داود/الصلاة 34 (520)، سنن الترمذی/الصلاة 30 (197 مطولا)، (تحفة الأشراف: 11806)، مسند احمد (4/308) (صحیح)
← پچھلی کتاب #53 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #55 →