سنن النسائي حدیث نمبر: 5345
Sunan an-Nasa'i 5345
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
108: بَابُ : لُبْسِ الْعَمَائِمِ الْحَرْقَانِيَّةِ
باب: سرمئی رنگ کی پگڑی باندھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رَأَيْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِمَامَةً حَرْقَانِيَّةً".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کی پگڑی باندھے دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5345]
💡 وضاحت:
۱؎: «حرقانیہ» لفظ «حرق» (جلنا) سے ہے، یعنی: جلنے کے بعد کسی چیز کا جو رنگ ہوتا ہے، وہ ”سرمئی“ ہوتا ہے، لیکن مؤلف کے سوا سب کے یہاں، یہاں لفظ «سوداء» ہے، (خود مؤلف کے یہاں بھی آگے «سوداء» ہی ہے) اس لحاظ سے دونوں حدیثوں کو ایک ہی باب (۱۰۹) میں لانا چاہیئے تھا، مگر کسی راوی کے یہاں «حرقانیۃ» ہونے کی وجہ سے اور رنگ میں ذرا سا فرق ہونے کی وجہ سے مؤلف نے شاید الگ الگ دو باب باندھے ہیں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 84 (1359)، سنن ابی داود/اللباس 24 (4077)، سنن الترمذی/الشمائل 16(108)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 22 (2821)، اللباس 14 (3587)، (تحفة الأشراف: 10716)، مسند احمد (4/307) (صحیح)