سنن النسائي حدیث نمبر: 5322
Sunan an-Nasa'i 5322
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
97: بَابُ : لُبْسِ الْبُرُودِ
باب: چادریں اوڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، قَالَ: " شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ" , فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا".
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کفار و مشرکین کی ایذا رسانی کی ) شکایت کی ، اس وقت آپ چادر کا تکیہ لگائے ۱؎ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے ، ہم نے کہا : کیا آپ ہمارے لیے مدد طلب نہیں کریں گے ؟ کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعائیں نہیں کریں گے ؟ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5322]
💡 وضاحت:
۱؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 25 (3612)، مناقب الٔةنصار 29 (3852)، الإکراہ 1 (6943)، سنن ابی داود/الجہاد 107 (2649)، (تحفة الأشراف: 3519)، مسند احمد (5/109، 110، 111، 6/395) (صحیح)