سنن النسائي حدیث نمبر: 5356
Sunan an-Nasa'i 5356
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
111: بَابُ : التَّصَاوِيرِ
باب: تصویروں اور مجسموں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَيْتِي ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَجَعَلْتُهُ إِلَى سَهْوَةٍ فِي الْبَيْتِ , فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " يَا عَائِشَةُ , أَخِّرِيهِ عَنِّي"، فَنَزَعْتُهُ , فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر میں ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ۱؎ ، چنانچہ میں نے اسے گھر کے ایک روشندان میں لٹکا دیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے ، پھر آپ نے فرمایا : ” عائشہ ! اسے ہٹا دو “ ، پھر میں نے اسے نکال دیا اور اس کے تکیے بنا دیے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5356]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ بھی تصویروں کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، یا یہ بھی غیر جاندار چیزوں کے نقش و نگار تھے، لیکن دیواروں یا روشن دانوں پر پردہ اسراف وتبذیر ہے جس کی وجہ سے آپ نے ہٹوا کر بچھونے بنوا دیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 762 (صحیح)