سنن النسائي حدیث نمبر: 5351
Sunan an-Nasa'i 5351
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
111: بَابُ : التَّصَاوِيرِ
باب: تصویروں اور مجسموں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ , فَأَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا يَنْزَعُ نَمَطًا تَحْتَهُ , فَقَالَ لَهُ سَهْلٌ: لِمَ تَنْزِعُ، قَالَ: لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرُ، وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ , قَالَ: أَلَمْ يَقُلْ: " إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ"؟ , قَالَ: " بَلَى , وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي".
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس عیادت کے لیے گئے ، ان کے پاس انہیں سہل بن حنیف مل گئے ۔ تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ ان کے نیچے سے بچھونا نکالے ۔ ان سے سہل نے کہا : اسے کیوں نکال رہے ہیں ؟ وہ بولے ؟ اس لیے کہ اس میں تصویریں ( مجسمے ) ہیں اور اسی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان ہے جو تمہارے علم میں ہے ، وہ بولے : کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا : ” اگر کپڑے میں نقش ہوں تو کوئی حرج نہیں “ ، انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، لیکن مجھے یہی بھلا معلوم ہوتا ہے ( کہ میں نقش والی چادر بھی نہ رکھوں ) ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5351]
💡 وضاحت:
۱؎: تصویر کے سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ ذی روح (جاندار) کی تصویر حرام ہے، خواہ یہ تصاویر جسمانی ہیئت (مجسموں کی شکل) میں ہوں یا نقش و نگار کی صورت میں، إلا یہ کہ ان کے اجزاء متفرق ہوں، البتہ گڑیوں کی شکل کو علماء نے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/اللباس 18 (1750)، (تحفة الأشراف: 3782) (صحیح)