سنن النسائي حدیث نمبر: 5355
Sunan an-Nasa'i 5355
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
111: بَابُ : التَّصَاوِيرِ
باب: تصویروں اور مجسموں کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَيْرٍ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ إِذَا دَخَلَ الدَّاخِلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ , حَوِّلِيهِ فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا"، قَالَتْ: وَكَانَ لَنَا قَطِيفَةٌ لَهَا عَلَمٌ , فَكُنَّا نَلْبَسُهَا فَلَمْ نَقْطَعْهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر چڑیا کی شکل بنی ہوئی تھی جب کوئی آنے والا آتا تو وہ ٹھیک سامنے پڑتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! اسے بدل دو ، اس لیے کہ جب میں اندر آتا ہوں اور اسے دیکھتا ہوں تو دنیا یاد آتی ہے “ ، ہمارے پاس ایک چادر تھی جس میں نقش و نگار تھے ، ہم اسے استعمال کیا کرتے تھے ۔ لیکن اسے ہم نے کاٹا نہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5355]
💡 وضاحت:
۱؎: بقول امام نووی: یہ تصویروں کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، اس لیے آپ نے ”حرمت“ کی بجائے ”ذکرِ دنیا“ کا حوالہ دیا اور ہٹوا دیا، یا یہ غیر جاندار کے نقش و نگار تھے جنہیں دنیاوی اسراف و تبذیر کی علامت ہونے کے سبب آپ نے ہٹوا دیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/اللباس26(2107)، سنن الترمذی/صفة القیامة 3 (2468)، (تحفة الأشراف: 16101)، مسند احمد (6/4949، 53، 241) (صحیح)