كتاب آداب القضاة
کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
کتاب #55 • کل احادیث: 49
|
1: بَابُ : فَضْلِ الْحَاكِمِ الْعَادِلِ فِي حُكْمِهِ
باب: عادل و منصف حاکم کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو. ح، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، عَلَى يَمِينِ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا". قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: " وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک انصاف کرنے والے لوگ رحمان ( اللہ ) کے دائیں نور کے منبر پر ہوں گے “ ۱؎ ، یعنی وہ لوگ جو اپنے فیصلوں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو ان کے تابع ہیں انصاف کرتے ہیں ۔ مدد بن آدم کی روایت میں ہے : ” اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5381]
💡 وضاحت:
۱؎: حقیقت میں انہیں نور کے منبر ملیں گے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں بلند درجات بھی نصیب ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الٕامارة 5(1827)، (تحفة الأشراف: 8898)، مسند احمد (2/160) (صحیح)
|
|
|
2: بَابُ : الإِمَامِ الْعَادِلِ
باب: عادل اور منصف امام (حاکم) کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ خَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلَاءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقًا فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا. فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سات لوگ ہیں اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن ( عرش کے ) سائے میں رکھے گا ، جس دن کہ اس کے سوا کسی کا سایہ نہ ہو گا : انصاف کرنے والا حاکم ، وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بڑھتا جائے ، وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں ، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے ، دو ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں دوست ہوں ، ایسا شخص جسے رتبے والی خوبصورت عورت ( اپنے ساتھ غلط کام کرنے کے لیے ) بلائے تو وہ کہہ دے : مجھے اللہ تعالیٰ کا ڈر لگ رہا ہے ، ایک ایسا شخص جو صدقہ کرے تو اس طرح چھپا کر کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا کیا ہے ؟ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5382]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 36 (660)، الزکاة 16 (1423)، الرقاق 24 (6479)، الحدود 19 (6806)، صحیح مسلم/الزکاة 30 (1031)، سنن الترمذی/الزہد 53 (2391)، (تحفة الأشراف: 12264)، موطا امام مالک/الشعر 5 (14)، مسند احمد (2/439) (صحیح)
|
|
|
3: بَابُ : الإِصَابَةِ فِي الْحُكْمِ
باب: صحیح فیصلہ کرنے پر اجر و ثواب کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْرٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب حاکم فیصلہ ( کا ارادہ ) کرے اور اجتہاد سے کام لے پھر وہ صحیح فیصلہ تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دو اجر ہیں ، اور اگر اجتہاد کرنے میں غلطی کر بیٹھے تو اس کے لیے ایک اجر ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5383]
💡 وضاحت:
۱؎: ”حاکم“ مراد وہ حاکم ہے جو عالم ہونے کے ساتھ ساتھ فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، قدیم و جدید سارے علما مجتہدین کے اجتہادات کا بھی یہی حکم ہے۔ کسی غلط فیصلہ یا اجتہاد کا گناہ حاکم یا عالم یا امام پر تو نہیں ہو گا، مگر جان بوجھ کر کسی امام یا عالم کے کسی فتوے پر اڑے رہ جانے والوں کو ضرور گناہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الاعتصام 21 (7352)، صحیح مسلم/الأقضیة (1716)، سنن ابی داود/الأقضیة 2(3574)، سنن الترمذی/الاحکام 2 (1326)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 3 (2314)، (تحفة الأشراف: 10748)، مسند احمد (4/198، 204) (صحیح)
|
|
|
4: بَابُ : تَرْكِ اسْتِعْمَالِ مَنْ يَحْرِصُ عَلَى الْقَضَاءِ
باب: قاضی بنائے جانے کے خواہشمند کو قاضی نہ بنایا جائے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَتَانِي نَاسٌ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ , فَقَالُوا: اذْهَبْ مَعَنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَإِنَّ لَنَا حَاجَةً فَذَهَبْتُ مَعَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , اسْتَعِنْ بِنَا فِي عَمَلِكَ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَاعْتَذَرْتُ مِمَّا قَالُوا , وَأَخْبَرْتُ أَنِّي لَا أَدْرِي مَا حَاجَتُهُمْ فَصَدَّقَنِي , وَعَذَرَنِي، فَقَالَ: " إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ فِي عَمَلِنَا بِمَنْ سَأَلَنَا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس قبیلہ اشعر کے کچھ لوگوں نے آ کر کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلئے ، ہمیں کچھ کام ہے ، چنانچہ میں انہیں لے کر گیا ، ان لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم سے اپنا کوئی کام لیجئیے ۱؎ میں نے آپ سے ان کی اس بات کی معذرت چاہی اور بتایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ان کی غرض کیا تھی ، چنانچہ آپ نے میری بات کا یقین کیا اور معذرت قبول فرما لی اور فرمایا : ہم اپنے کام ( عہدے ) میں ایسے لوگوں کو نہیں لگاتے جو ہم سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5384]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہمیں کوئی عہدہ دیجئیے۔ ۲؎: یعنی جو شخص منصب و عہدے کا طالب ہو ہم اسے یہ چیز نہیں دیتے کیونکہ اگر اسے صحیح طور پر انجام نہ دے سکا تو ایسے شخص کی صرف دنیا ہی نہیں بلکہ آخرت کی تباہی و بربادی کا بھی ڈر ہے، اور عہدہ و منصب کا طالب تو وہی ہو گا جو حصول دنیا کا خواہاں ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9093)، مسند احمد (4/417) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ: عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا؟ قَالَ: " إِنَّكُمْسَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ".
اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : کیا آپ مجھے کام نہیں دیں گے جیسے فلاں کو دیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے بعد تم پاؤ گے کہ ترجیحات ۱؎ ہوں گی ایسے حالات میں تم صبر سے کام لینا یہاں تک کہ حوض پر تم مجھ سے ملو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5385]
💡 وضاحت:
۱؎: مستحق اور اہلیت والے کو محروم کر کے نالائق کو کام پر رکھنا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الٔعنصار 8 (3792)، الفتن 2 (7057)، صحیح مسلم/الإمارة 11 (1845)، سنن الترمذی/الفتن 25 (2189)، (تحفة الأشراف: 148)، مسند احمد (4/351، 352) (صحیح)
|
|
|
5: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ مَسْأَلَةِ الإِمَارَةِ
باب: حکومت اور عہدہ منصب کی خواہش منع ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ. ح، وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ , فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا".
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” منصب طلب مت کرو ، اس لیے کہ اگر مانگے سے وہ تمہیں ملا تو تم اسی کے سپرد کر دئیے جاؤ گے ۱؎ اور اگر وہ تمہیں بن مانگے مل گیا تو تمہاری اس میں مدد ہو گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5386]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کی نصرت و تائید سے تم محروم رہو گے اور کوئی مدد نہیں ملے گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3813 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ، وَإِنَّهَا سَتَكُونُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَةُ، وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب تم لوگ منصب کی خواہش کرو گے ، لیکن وہ باعث ندامت و حسرت ہو گی پس دودھ پلانے والی کتنی اچھی ہوتی ہے ، اور دودھ چھڑانے والی کتنی بری ہوتی ہے ، ( اس لیے کہ ملتے وقت وہ بھلی لگتی ہے اور جاتے وقت بری لگتی ہے “ ) ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5387]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: حکومت اور منصب والی زندگی تو بھلی لگے گی لیکن اس کے بعد والی زندگی ابتر اور بری ہو گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4216 (صحیح)
|
|
|
6: بَابُ : اسْتِعْمَالِ الشُّعَرَاءِ
باب: شعراء کو ذمہ داری دینے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ" قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ , عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمِّرِ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدٍ , وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَلْ أَمِّرِ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ , فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا , فَنَزَلَتْ فِي ذَلِكَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ سورة الحجرات آية 1 - 5".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو تمیم کے کچھ سوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : قعقاع بن معبد کو سردار بنائیے ، اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اقرع بن حابس کو سردار بنائیے ، پھر دونوں میں بحث و تکرار ہو گئی ، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہو گئی ، تو اس سلسلے میں یہ حکم نازل ہوا ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے آگے مت بڑھو “ ( یعنی ان سے پہلے اپنی رائے مت پیش کرو ) یہاں تک کہ یہ آیت اس مضمون پر ختم ہو گئی : ” اگر وہ لوگ تمہارے باہر نکلنے تک صبر کرتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5388]
💡 وضاحت:
۱؎: شیخین (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کی بحث و تکرار کے سبب ابتداء سورۃ سے «أجر عظیم» تک ۳ آیتیں نازل ہوئیں، اور آیت: «ولو أنهم صبروا حتى تخرج إليهم لكان خيرا لهم» اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زور زور سے «یا محمد اخرج» کہنے کی وجہ سے نازل ہوئی، ان میں سے اقرع شاعر تھے، یہی بات باب سے مناسبت ہے، یعنی: کسی شاعر ہونے کے سبب اس کو کسی عہدہ سے دور نہیں رکھا جا سکتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 68 (4367)، تفسیر سورة الحجرات 1 (4845)، 2 (4847)، الاعتصام 5 (7302)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الحجرات (3266)، (تحفة الأشراف: 5269) (صحیح)
|
|
|
7: بَابُ : إِذَا حَكَّمُوا رَجُلاً فَقَضَى بَيْنَهُمْ
باب: جب کسی کو حکم اور ثالث بنائیں اور وہ فیصلہ کرے تو اس کا حکم کیا ہے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سَمِعَهُ وَهُمْ يَكْنُونَ هَانِئًا أَبَا الْحَكَمِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ، وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ، فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ؟"، فَقَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ، قَالَ: " مَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا , فَمَا لَكَ مِنَ الْوُلْدِ؟" , قَالَ لِي: شُرَيْحٌ , وَعَبْدُ اللَّهِ، وَمُسْلِمٌ، قَالَ: " فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ؟" قَالَ: شُرَيْحٌ، قَالَ: " فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ" , فَدَعَا لَهُ وَلِوَلَدِهِ.
ہانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ نے لوگوں کو سنا کہ وہ ہانی کو ابوالحکم کی کنیت سے پکارتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور ان سے فرمایا : ” حکم تو اللہ ہے اور حکم کرنا بھی اسی کا کام ہے “ ، وہ بولے : میری قوم کے لوگوں کا جب کسی چیز میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس چلے آتے ہیں ، میں ان کے درمیان فیصلے کرتا ہوں اور دونوں فریق رضامند ہو جاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” اس سے بہتر کیا ہو سکتا ہے ، تمہارے کتنے لڑکے ہیں ؟ “ وہ بولے : شریح ، عبداللہ اور مسلم ، آپ نے فرمایا : ” ان میں بڑا کون ہے ؟ “ وہ بولے : شریح ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تم اب سے ابوشریح ہو “ ، پھر آپ نے ان کے لیے اور ان کے بیٹے کے لیے دعا کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5389]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الٔیدب70(4955) (تحفة الأشراف: 11725) (صحیح)
|
|
|
8: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ اسْتِعْمَالِ النِّسَاءِ، فِي الْحُكْمِ
باب: عورتوں کو قاضی (جج) بنانا منع ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: عَصَمَنِي اللَّهُ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا هَلَكَ كِسْرَى قَالَ: " مَنِ اسْتَخْلَفُوا؟" , قَالُوا: بِنْتَهُ، قَالَ: " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک چیز کی وجہ سے روکے رکھا ۱؎ جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ، جب کسریٰ ہلاک ہوا تو آپ نے فرمایا : ” انہوں نے کسے جانشین بنایا ؟ “ لوگوں نے کہا : اس کی بیٹی کو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے کسی عورت کو حکومت کے اختیارات دے دیے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5390]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے علی رضی اللہ عنہ سے جب جنگ کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب محفوظ رکھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 82 (4425)، الفتن18(7099)، سنن الترمذی/الفتن 75 (2262)، مسند احمد (5/38، 43، 47، 51)، (تحفة الأشراف: 11660) (صحیح)
|
|
|
9: بَابُ : الْحُكْمِ بِالتَّشْبِيهِ وَالتَّمْثِيلِ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ
باب: تشبیہ اور مثال کے ذریعہ فیصلہ کرنا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ولید بن مسلم کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ النَّحْرِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَرْكَبَ إِلَّا مُعْتَرِضًا أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ , حُجِّي عَنْهُ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ قَضَيْتِيهِ".
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ قربانی کے دن ( یعنی دسویں ذی الحجہ کو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے ، آپ کے پاس قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی اور بولی : اللہ کے رسول ! اللہ کا اپنے بندوں پر عائد کردہ فریضہ حج میرے والد پر کافی بڑھاپے میں واجب ہوا ہے ، وہ سوار ہونے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے سوائے اس کے کہ انہیں باندھ دیا جائے ، تو کیا میں ان کی جانب سے حج کر لوں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، ان کی طرف سے حج کر لو ۔ اس لیے کہ اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو وہ بھی تم ہی ادا کرتیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5391]
💡 وضاحت:
۱؎: گویا اس مثال کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر اس کے معذور باپ کے اوپر فرض حج کی ادائیگی کا فیصلہ دیا، اسی طرح دنیا کی ہر عدالت میں «اشباہ و نظائر» کے سہارے فیصلہ کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/جزاء الصید 23 (1853)، صحیح مسلم/الحج 71 (1335)، سنن الترمذی/الحج 85 (928)، سنن ابن ماجہ/الحج 10 (2909)، (تحفة الأشراف: 11048)، مسند احمد (1/212، 313)، سنن الدارمی/المناسک 23 (1873، 1874) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ. ح، وَأَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالْفَضْلُ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يُجْزِئُ؟ قَالَ مَحْمُودٌ: فَهَلْ يَقْضِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ لَهَا: " نَعَمْ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ فَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَا ذَكَرَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا ( فضل اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے ۔ ) وہ بولی : اللہ کے رسول ! اللہ کا اپنے بن دوں پر عائد کردہ فرض فریضۂ حج میرے والد پر اس وقت فرض ہوا ہے جب وہ کافی بوڑھے ہو چکے ہیں ، وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے ، تو ان کی طرف سے میرا حج کرنا کافی ہے ؟ ( محمود نے ( «فهل يجزي» یعنی کافی ہے ؟ کے بجائے ) «فهل يقضي» ( یعنی کیا ادا ہو جائے گا ) کہا ۔ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” ہاں “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : اس حدیث کو زہری سے ایک سے زائد لوگوں نے روایت کیا ہے ، لیکن ان لوگوں نے اس کا ذکر نہیں کیا جس کا ذکر ولید نے کیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5392]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ولید نے اس حدیث کو مسند فضل سے روایت کیا ہے جب کہ زہری سے روایت کرنے والے دوسرے شاگردوں نے اسے مسند ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر رقم: 2635 (صحیح)
|
|
|
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ , أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ" , وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے ، اتنے میں قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ سے مسئلہ پوچھنے آئی ، فضل رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھنے لگے وہ ان کی طرف دیکھنے لگی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا رخ دوسری طرف موڑ دیتے ، وہ بولی : اللہ کے رسول ! اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کا فرض کردہ فریضہ حج میرے والد پر اس وقت فرض ہوا جب وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں ، وہ سواری پر سیدھے بیٹھ بھی نہیں سکتے ، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ، اور یہ حجۃ الوداع کی بات ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5393]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2635 (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَوِي عَلَى الرَّاحِلَةِ , فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ" , فَأَخَذَ الْفَضْلُ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا , وَكَانَتِ امْرَأَةً حَسْنَاءَ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ کا اپنے بندوں پر عائد کردہ فریضہ حج میرے والد پر اس وقت فرض ہوا جبکہ وہ کافی بوڑھے ہو چکے ہیں ، وہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے ، اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہو جائے گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” ہاں “ ، فضل اس کی طرف مڑ مڑ کر دیکھنے لگے ، وہ ایک حسین و جمیل عورت تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کو پکڑا اور ان کا رخ دوسری جانب گھما دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5394]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2635 (صحیح)
|
|
|
10: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن ابی اسحاق کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ , فَإِنْ شَدَدْتُهُ خَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ , أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: " أَفَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ مُجْزِئًا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : میرے والد پر حج فرض ہو گیا ہے ، اور وہ اس قدر بوڑھے ہو گئے ہیں کہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے ، اور اگر انہیں باندھ دوں تو خطرہ ہے کہ وہ اس سے مر نہ جائیں ، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر لوں ؟ آپ نے فرمایا : اگر ان پر کچھ قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کیا وہ کافی ہوتا ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” تو تم اپنے باپ کی طرف سے حج کر لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5395]
قال الشيخ الألباني:
شاذ مضطرب والمحفوظ أن السائل امرأة والمسؤول عنه أبوها
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2635 (شاذ) (اس واقعہ میں سائل کا مرد ہونا شاذ ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ، إِنْ حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ، وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَحُجَّ عَنْ أُمِّكَ".
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے ، اتنے میں ایک شخص نے آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میری ماں بہت بڑی بوڑھی عورت ہیں ، اگر میں انہیں سوار کر دوں تو وہ اسے پکڑ نہیں سکیں گی اور اگر انہیں باندھ دوں تو خطرہ ہے کہ وہ میرے اس عمل سے مر نہ جائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تمہاری ماں پر کچھ قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے یا نہیں ؟ “ اس نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تم اپنی ماں کی طرف سے حج کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5396]
قال الشيخ الألباني:
شاذ والمحفوظ خلافة كما ذكرت في الذي قبله
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2644 (شاذ)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُهُ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَإِنْ حَمَلْتُهُ لَمْ يَسْتَمْسِكْ , أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: " حُجَّ عَنْ أَبِيكَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سُلَيْمَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ.
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے نبی ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں ، حج نہیں کر سکتے ، اگر میں انہیں سوار کر دوں ، تو اسے پکڑ کر بیٹھ نہیں سکیں گے ، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے باپ کی طرف سے حج کرو “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : سلیمان کا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5397]
قال الشيخ الألباني:
شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2644 (شاذ)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ , أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ , أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ أَكَانَ يُجْزِئُ عَنْهُ؟".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : میرے والد کافی بوڑھے ہیں ، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کافی ہوتا یا نہیں ؟ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5398]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5389) (شاذ)
|
|
|
11: بَابُ : الْحُكْمِ بِاتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ
باب: اہل علم کے اتفاق و اجماع کے مطابق فیصلہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ هُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: أَكْثَرُوا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ , فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " إِنَّهُ قَدْ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ وَلَسْنَا نَقْضِي، وَلَسْنَا هُنَالِكَ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدَّرَ عَلَيْنَا أَنْ بَلَغْنَا مَا تَرَوْنَ، فَمَنْ عَرَضَ لَهُ مِنْكُمْ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَلْيَقْضِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ فَلْيَجْتَهِدْ رَأْيَهُ وَلَا يَقُولُ إِنِّي أَخَافُ، وَإِنِّي أَخَافُ فَإِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ جَيِّدٌ.
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ لوگوں نے ایک دن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بہت سارے موضوعات پر بات چیت کی ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم پر ایک زمانہ ایسا بھی گزر چکا ہے کہ ہم نہ تو کوئی فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہی فیصلہ کرنے کے قابل تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مقدر کر رکھا تھا کہ ہم اس مقام کو پہنچے جو تم دیکھ رہے ہو ، لہٰذا آج کے بعد سے جس کسی کو فیصلہ کرنے کی ضرورت آ پڑے تو چاہیئے کہ وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں ہے ، پھر اگر ایسا کوئی معاملہ اسے درپیش آئے جو کتاب اللہ ( قرآن ) میں نہ ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ، اور اگر کوئی ایسا معاملہ ہو جو نہ کتاب اللہ ( قرآن ) میں ہو اور نہ اس سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فیصلہ ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نیک لوگوں نے کیا ہو ۱؎ ، اور اگر کوئی ایسا معاملہ آئے جو نہ کتاب اللہ ( قرآن ) میں ہو ، نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سلسلے میں کوئی فیصلہ ہو اور نہ ہی نیک لوگوں کا ) تو اسے چاہیئے کہ اپنی عقل سے اجتہاد کرے اور یہ نہ کہے کہ مجھے ڈر ہے ، مجھے ڈر ہے ، کیونکہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں تو تم ان باتوں کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالیں اور وہ کرو جو شک سے بالاتر ہوں ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ حدیث بہت اچھی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5399]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد ”نیک علماء“ ہیں، کیونکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ”صالحین“ صحابہ کرام ہی تھے، اور ان کی اکثریت عالم تھی، خلاصہ کلام یہ کہ صحابہ کرام کا اجماع مراد ہے، اسی طرح ہر زمانہ کے نیک علماء و ائمہ کرام کا اجماع بھی دلیل ہو گا، اور چونکہ مراد زمانہ کے علماء کا اجماع ہے اس لیے اس سے ایک عالم کی تقلید شخصی ہرگز مراد نہیں ہو سکتی، جیسا کہ بعض مقلدین نے اس سے تقلید شخصی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9399) (صحیح الإسناد)
|
|
|
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَى عَلَيْنَا حِينٌ وَلَسْنَا نَقْضِي وَلَسْنَا هُنَالِكَ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدَّرَ أَنْ بَلَغْنَا مَا تَرَوْنَ، فَمَنْ عَرَضَ لَهُ قَضَاءٌ بَعْدَ الْيَوْمِ , فَلْيَقْضِ فِيهِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ نَبِيُّهُ، فَإِنْ جَاءَ أَمْرٌ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ نَبِيُّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، وَلَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ إِنِّي أَخَافُ، وَإِنِّي أَخَافُ، فَإِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر ایک ایسا وقت آیا کہ اس وقت نہ ہم فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہی فیصلہ کرنے کے اہل تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے وہ مقام مقدر کر دیا جہاں تم ہمیں دیکھ رہے ہو ، لہٰذا جس کسی کو آج کے بعد کوئی معاملہ درپیش ہو تو وہ اس کا فیصلہ اس کے مطابق کرے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں ہے ، اور اگر اس کے پاس کوئی ایسا معاملہ آئے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں نہیں ہے تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کیا تھا ، اور اگر کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جو نہ کتاب اللہ ( قرآن ) میں ہو اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرے جو نیک لوگوں نے کیا ہو ، اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے ، مجھے ڈر لگ رہا ہے ، کیونکہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ شبہ والی چیزیں ہیں ، لہٰذا جو شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور جو شک میں نہ ڈالے اسے لے لو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5400]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9197) (صحیح) (اس کے راوی ”حریث“ مجہول ہیں، لیکن پچھلی سند صحیح لغیرہ ہے)
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ: أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: " أَنْ اقْضِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ , فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ شِئْتَ فَتَقَدَّمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَأَخَّرْ، وَلَا أَرَى التَّأَخُّرَ إِلَّا خَيْرًا لَكَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ".
شریح سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ پوچھنے کے لیے انہیں ایک خط لکھا تو انہوں نے لکھا : فیصلہ کرو اس کے مطابق جو کتاب اللہ ( قرآن ) میں ہے ، اور اگر وہ کتاب اللہ ( قرآن ) میں نہ ہو تو سنت رسول ( حدیث ) کے مطابق ، اور اگر وہ نہ کتاب اللہ ( قرآن ) میں ہو اور نہ سنت رسول ( حدیث ) میں تو اس کے مطابق فیصلہ کرو جو نیک لوگوں نے کیا تھا ، اور اگر وہ نہ کتاب اللہ ( قرآن ) میں ہو اور نہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اور نہ ہی نیک لوگوں کا کوئی فیصلہ ہو تو اگر تم چاہو تو آگے بڑھو ( اور اپنی عقل سے کام لے کر فیصلہ کرو ) اور اگر چاہو تو پیچھے رہو ( فیصلہ نہ کرو ) اور میں پیچھے رہنے ہی کو تمہارے حق میں بہتر سمجھتا ہوں ۔ والسلام علیکم ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5401]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9197) (صحیح الإسناد)
|
|
|
12: بَابُ : تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ}
باب: آیت کریمہ: ”جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہیں“ کی تفسیر۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَتْ مُلُوكٌ بَعْدَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بَدَّلُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، , وَكَانَ فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ، قِيلَ لِمُلُوكِهِمْ: مَا نَجِدُ شَتْمًا أَشَدَّ مِنْ شَتْمٍ يَشْتِمُونَّا هَؤُلَاءِ , إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ: وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سورة المائدة آية 44 , وَهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مَعَ مَا يَعِيبُونَّا بِهِ فِي أَعْمَالِنَا فِي قِرَاءَتِهِمْ , فَادْعُهُمْ فَلْيَقْرَءُوا كَمَا نَقْرَأُ، وَلْيُؤْمِنُوا كَمَا آمَنَّا، فَدَعَاهُمْ فَجَمَعَهُمْ وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلَ , أَوْ يَتْرُكُوا قِرَاءَةَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ إِلَّا مَا بَدَّلُوا مِنْهَا , فَقَالُوا: مَا تُرِيدُونَ إِلَى ذَلِكَ دَعُونَا، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: ابْنُوا لَنَا أُسْطُوَانَةً، ثُمَّ ارْفَعُونَا إِلَيْهَا، ثُمَّ اعْطُونَا شَيْئًا نَرْفَعُ بِهِ طَعَامَنَا وَشَرَابَنَا فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: دَعُونَا نَسِيحُ فِي الْأَرْضِ وَنَهِيمُ وَنَشْرَبُ كَمَا يَشْرَبُ الْوَحْشُ فَإِنْ قَدَرْتُمْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِكُمْ فَاقْتُلُونَا، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: ابْنُوا لَنَا دُورًا فِي الْفَيَافِي وَنَحْتَفِرُ الْآبَارَ، وَنَحْتَرِثُ الْبُقُولَ فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ وَلَا نَمُرُّ بِكُمْ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَبَائِلِ إِلَّا وَلَهُ حَمِيمٌ فِيهِمْ , قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا سورة الحديد آية 27، وَالْآخَرُونَ قَالُوا: نَتَعَبَّدُ كَمَا تَعَبَّدَ فُلَانٌ، وَنَسِيحُ كَمَا سَاحَ فُلَانٌ، وَنَتَّخِذُ دُورًا كَمَا اتَّخَذَ فُلَانٌ، وَهُمْ عَلَى شِرْكِهِمْ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِإِيمَانِ الَّذِينَ اقْتَدَوْا بِهِ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ، انْحَطَّ رَجُلٌ مِنْ صَوْمَعَتِهِ، وَجَاءَ سَائِحٌ مِنْ سِيَاحَتِهِ، وَصَاحِبُ الدَّيْرِ مِنْ دَيْرِهِ، فَآمَنُوا بِهِ , وَصَدَّقُوهُ , فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ سورة الحديد آية 28 , أَجْرَيْنِ بِإِيمَانِهِمْ بِعِيسَى , وَبِالتَّوْرَاةِ , وَالْإِنْجِيلِ , وَبِإِيمَانِهِمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَتَصْدِيقِهِمْ قَالَ: وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ سورة الحديد آية 28 الْقُرْآنَ , وَاتِّبَاعَهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ سورة الحديد آية 29 يَتَشَبَّهُونَ بِكُمْ أَلا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ سورة الحديد آية 29 الْآيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بعد کئی بادشاہ ہوئے جن ہوں نے تورات اور انجیل کو بدل ڈالا ، ان میں کچھ مومن تھے جو توراۃ پڑھتے تھے ، ان کے بادشاہوں سے عرض کیا گیا : ہمیں اس سے زیادہ سخت گالی نہیں ملتی جو یہ ہمیں دیتے ہیں ، یہ لوگ پڑھتے ہیں ” جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہیں “ یہ لوگ اس قسم کی آیات پڑھتے ہیں ور ساتھ ہی وہ چیزیں پڑھتے ہیں جس میں ہمارا عیب نکلتا ہے تو انہیں بلا کر کہو کہ وہ بھی ویسے ہی پڑھیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور اسی طرح کا ایمان لائیں جیسا ہم لائے ہیں ، چنانچہ اس ( بادشاہ ) نے انہیں بلایا اور اکٹھا کیا اور کہا : قتل منظور کرو یا پھر توراۃ اور انجیل کو پڑھنا چھوڑ دو ، البتہ وہ پڑھو جو بدل دیا گیا ہے ۔ وہ بولے : تمہارا اس سے کیا مقصد ہے ؟ ہمیں چھوڑ دو ۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا : ہمارے لیے ایک مینار بنا دو اور ہمیں اس پر چڑھا دو پھر ہمیں کھانے پینے کی کچھ چیزیں دے دو ، تو ہم تمہارے پاس کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے ۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا : ہمیں چھوڑ دو ، ہم زمین میں گھومیں ور بھٹکتے پھریں اور جنگلی جانوروں کی طرح پئیں ، پھر اگر تم ہمیں اپنی زمین میں دیکھ لو تو مار ڈالنا ، ان میں سے بعض لوگوں نے کہا : ہمارے لیے صحراء و بیابان میں گھر بنا دو ، ہم خود کنویں کھود لیں گے اور سبزیاں بولیں گے ، پھر پلٹ کر تمہارے پاس نہ آئیں گے اور نہ تمہارے پاس سے گزریں گے ، اور کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کا دوست یا رشتہ دار اس میں نہ ہو ۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے آیت : «ورهبانية ابتدعوها ما كتبناها عليهم إلا ابتغاء رضوان اللہ فما رعوها حق رعايتها» ” اور جو درویشی انہوں نے خود نکالی تھی ہم نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا سوائے اللہ کی رضا جوئی کے ، پھر انہوں نے اس کی بھی پوری رعایت نہیں کی “ ( الحدید : ۲۷ ) نازل فرمائی ، کچھ دوسرے لوگوں نے کہا : ہم بھی فلاں کی طرح عبادت کریں گے اور فلاں کی طرح گھومیں گے اور فلاں کی طرح گھر بنائیں گے حالانکہ وہ شرک میں مبتلا تھے ، یہ ان لوگوں کے ایمان سے باخبر نہ تھے جن کی پیروی کا یہ دم بھر رہے تھے ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو ان میں سے بہت تھوڑے سے لوگ بچے تھے ، ایک شخص اپنے عبادت خانے سے اترا اور جنگل میں گھومنے والا گھوم کر لوٹا اور گرجا گھر میں رہنے والا گرجا گھر سے لوٹا اور یہ سب کے سب آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی ، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وآمنوا برسوله يؤتكم كفلين من رحمته» ” اے لوگو ! جو ایمان رکھتے ہو ، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کا دوگنا حصہ دے گا “ ( الحدید : ۲۹ ) دوہرا اجر ان کے عیسیٰ ، تورات اور انجیل پر ایمان کے بدلے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور تصدیق کے بدلے ، پھر فرمایا : ” وہ تمہارے چلنے کے لیے ایک روشنی دے گا “ یعنی قرآن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ” تاکہ اہل کتاب “ یعنی وہ اہل کتاب جو تمہاری مشابہت کرتے ہیں ” جان لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5402]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5575) (صحیح الإسناد)
|
|
|
13: بَابُ : الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ
باب: ظاہری دلائل کے مطابق فیصلہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ میرے سامنے مقدمات لاتے ہو ، میں تو بس تمہاری طرح ایک انسان ہوں ۱؎ ، ممکن ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو ، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا حق دلا دوں ( اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو ) تو اسے وہ نہ لے کیونکہ میں تو اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5403]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی غیب کا علم صرف اللہ کو ہے، میں تو صرف ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المظالم 16 (2498)، الشہادات 27 (2680)، الحیل 10 (6967)، الأحکام 20 (7169)، 29 (7181)، صحیح مسلم/الأقضیة 3 (1713)، سنن ابی داود/الأقضیة 7 (3583)، سنن الترمذی/الأحکام 11 (1339)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 11 (2317)، (تحفة الأشراف: 18261)، موطا امام مالک/الأقضیة 1(1)، مسند احمد (6/203، 290، 307، 308)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5424 (صحیح)
|
|
|
14: بَابُ : حُكْمِ الْحَاكِمِ بِعِلْمِهِ
باب: حاکم اپنے علم اور تجربے سے فیصلہ کر سکتا ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ , مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ , مِمَّا ذَكَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ , فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا , فَقَالَتْ هَذِهِ لِصَاحِبَتِهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الْأُخْرَى: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى: فَخَرَجَتَا إِلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ , فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ مَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو عورتیں تھیں ان دونوں کے ساتھ ان کا ایک ایک بچہ تھا ، اتنے میں بھیڑیا آیا اور ایک کا بچہ اٹھا لے گیا ، تو اس نے دوسری سے کہا : وہ تمہارا بچہ لے گیا ، دوسری بولی : تمہارا بچہ لے گیا ، پھر وہ دونوں مقدمہ لے کر داود علیہ السلام کے پاس گئیں تو آپ نے بڑی کے حق میں فیصلہ کیا ۔ پھر وہ دونوں سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : ایک چھری لاؤ ، میں اسے دونوں کے درمیان تقسیم کر دیتا ہوں ، چھوٹی بولی : ایسا نہ کیجئیے ، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، وہ اسی کا بیٹا ہے ، تو انہوں نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ دے دیا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! سوائے اس دن کے ہم نے کبھی چھری کا نام «سکین» نہیں سنا ، ہم ) تو اسے «مدیہ» کہا کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5404]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الَٔنبیاء 40 (3427)، والفرائض 30 (6769)، (تحفة الُٔشراف: 13728)، مسند احمد 2/32222، 340، وانظر حدیث رقم: 5405، 5406 (صحیح)
|
|
|
15: بَابُ : السَّعَةِ لِلْحَاكِمِ فِي أَنْ يَقُولَ لِلشَّىْءِ الَّذِي لاَ يَفْعَلُهُ افْعَلْ لِيَسْتَبِينَ الْحَقَّ
باب: حاکم کے لیے اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ وہ حقیقت تک پہنچنے کے لیے کہے کہ میں ایسا کروں گا حالاں کہ اس کا ارادہ کرنے کا نہ ہو۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا صَبِيَّانِ لَهُمَا، فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ وَلَدَهَا، فَأَصْبَحَتَا تَخْتَصِمَانِ فِي الصَّبِيِّ الْبَاقِي إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَمْرُكُمَا؟ فَقَصَّتَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّ الْغُلَامَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: أَتَشُقُّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ حَظِّي مِنْهُ لَهَا، قَالَ: هُوَ ابْنُكِ فَقَضَى بِهِ لَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو عورتیں نکلیں ، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے ، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کر دیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا ، وہ دونوں اس بچے کے سلسلے میں جو باقی تھا جھگڑتی ہوئی داود علیہ السلام کے پاس آئیں ، تو انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا ، پھر وہ سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں ، وہ بولے : تم دونوں کا کیا قضیہ ہے ؟ چنانچہ انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا ، تو انہوں نے کہا : چھری لاؤ ، بچے کے دو حصے کر کے ان دونوں کے درمیان تقسیم کروں گا ۱؎ ، چھوٹی عورت بولی : کیا آپ اسے کاٹیں گے ؟ کہا : ہاں ، وہ بولی : ایسا نہ کیجئیے ، اس میں جو میرا حصہ ہے وہ بھی اسی کو دے دیجئیے ، سلیمان علیہ السلام نے کہا : یہ تمہارا بیٹا ہے ، چنانچہ آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5405]
💡 وضاحت:
۱؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے، سلیمان علیہ السلام کا مقصد بچے کو حقیقت میں ٹکڑے کر کے تقسیم کرنا نہیں تھا، بس اس طریقے سے وہ بچے کی حقیقی ماں کو پہچاننا چاہتے تھے، واقعی میں جس کا بچہ تھا وہ (چھوٹی عورت) بچے کے ٹکڑے کرنے پر راضی نہیں ہوئی، جب کہ جس کا بچہ نہیں تھا وہ خاموش رہی، اسے دوسری کے بچے سے کیا محبت ہو سکتی تھی؟ اس لیے ٹکڑے کرنے پر خاموش رہی، اس طرح آپ نے حقیقت کا پتہ چلا لیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الَٔقضیة 10 (1720)، (تحفة الأشراف: 13867) (صحیح)
|
|
|
16: بَابُ : نَقْضِ الْحَاكِمِ مَا يَحْكُمُ بِهِ غَيْرُهُ مِمَّنْ هُوَ مِثْلُهُ أَوْ أَجَلُّ مِنْهُ
باب: حاکم اپنے ہم منصب یا اس سے اوپر کے آدمی کے فیصلہ کو توڑ سکتا ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا وَلَدَاهُمَا فَأَخَذَ الذِّئْبُ أَحَدَهُمَا، فَاخْتَصَمَتَا فِي الْوَلَدِ إِلَى دَاوُدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا؟ قَالَتْ: قَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، قَالَ سُلَيْمَانُ: أَقْطَعُهُ بِنِصْفَيْنِ لِهَذِهِ نِصْفٌ، وَلِهَذِهِ نِصْفٌ , قَالَتِ الْكُبْرَى: نَعَمِ , اقْطَعُوهُ. فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَقْطَعْهُ هُوَ وَلَدُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلَّتِي أَبَتْ أَنْ يَقْطَعَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو عورتیں نکلیں ، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے ، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کر دیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا ، وہ اس بچے کے سلسلے میں جو باقی رہ گیا تھا جھگڑتی ہوئی داود علیہ السلام کے پاس آئیں ، انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا ، وہ سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا : تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ کیا ؟ ( چھوٹی ) بولی بڑی کے حق میں فیصلہ کیا ، سلیمان علیہ السلام نے کہا : میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کروں گا ، ایک حصہ اس کے لیے اور دوسرا حصہ اس کے لیے ہو گا ، بڑی عورت بولی : ہاں ! آپ اسے کاٹ دیں ، جب کہ چھوٹی عورت نے کہا : ایسا نہ کیجئیے ، یہ بچہ اسی کا ہے ، چنانچہ انہوں نے اس کے حق میں فیصلہ کیا جس نے بچہ کو کاٹنے سے روکا تھا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5406]
💡 وضاحت:
۱؎: سلیمان علیہ السلام نے اپنے باپ داود علیہ السلام کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، یہی باب سے مطابقت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 5404 (صحیح)
|
|
|
17: بَابُ : الرَّدِّ عَلَى الْحَاكِمِ إِذَا قَضَى بِغَيْرِ الْحَقِّ
باب: جب حاکم ناحق فیصلہ کرے تو اسے رد کر دینے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ. ح، وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا: أَسْلَمْنَا، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: صَبَأْنَا، وَجَعَلَ خَالِدٌ قَتْلًا وَأَسْرًا، قَالَ: فَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ أَسِيرَهُ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمُنَا، أَمَرَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ أَحَدٌ، وَقَالَ بِشْرٌ: مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ , قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ لَهُ صُنْعُ خَالِدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَفَعَ يَدَيْهِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ"، قَالَ زَكَرِيَّا فِي حَدِيثِهِ فَذُكِرَ، وَفِي حَدِيثِ بِشْرٍ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ مَرَّتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف روانہ کیا ، خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی ، مگر وہ اچھی طرح «اسلمنا» ” ہم اسلام لائے “ نہ کہہ سکے بلکہ کہنے لگی : ہم نے اپنا دین چھوڑا ، چنانچہ خالد رضی اللہ عنہ نے بعض کو قتل کر دیا اور بعض کو قیدی بنا لیا اور ہر شخص کو اس کا قیدی حوالے کر دیا ، جب صبح ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے ہر شخص کو اپنا قیدی قتل کرنے کا حکم دیا ، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنا قیدی قتل نہیں کروں گا اور نہ ہی ( میرے ساتھیوں میں سے ) کوئی دوسرا ، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور خالد رضی اللہ عنہ کی اس کارروائی کا آپ سے ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھی ) : ” اے اللہ میں اس سے برأت کا اعلان کرتا ہوں جو خالد نے کیا “ ۱؎ ۔ بشر کی روایت میں ہے کہ آپ نے یوں فرمایا : ” اے اللہ ! میں اس سے بَری ہوں جو خالد نے کیا ہے “ ، ایسا آپ نے دو مرتبہ کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5407]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی باب سے مناسبت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کے فیصلہ کو رد کر دیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 58 (4339)، الٔمحکام 35 (7189)، (تحفة الأشراف: 6941)، مسند احمد (2/151) (صحیح)
|
|
|
18: بَابُ : ذِكْرِ مَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يَجْتَنِبَهُ
باب: حاکم کو کن باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: كَتَبَ أَبِي , وَكَتَبْتُ لَهُ: إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضِي سِجِسْتَانَ: أَنْ لَا تَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ".
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے لکھوایا تو میں نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کے پاس لکھا وہ سجستان کے قاضی تھے ، تم دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5408]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الٔنحکام 13 (7158)، صحیح مسلم/الِٔقضیة 7 (1717)، سنن ابی داود/الٔدقضیة 9 (3589)، سنن الترمذی/الْٔحکام 7 (1334)، سنن ابن ماجہ/الٔرحکام 4 (2316)، (تحفة الأشراف: 11676)، مسند احمد (5/36، 37، 38، 46، 52)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5423 (صحیح)
|
|
|
19: بَابُ : الرُّخْصَةِ لِلْحَاكِمِ الأَمِينِ أَنْ يَحْكُمَ وَهُوَ غَضْبَانُ
باب: امانت دار حاکم غصہ کی حالت میں بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ , عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ , كَانَا يَسْقِيَانِ بِهِ كِلَاهُمَا النَّخْلَ , فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ عَلَيْهِ , فَأَبَى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ"، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ: " يَا زُبَيْرُ , اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ" , فَاسْتَوْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ بِرَأْيٍ فِيهِ السَّعَةُ لَهُ وَلِلْأَنْصَارِيِّ، فَلَمَّا أَحْفَظَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارِيُّ اسْتَوْفَى لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ، قَالَ الزُّبَيْرُ: لَا أَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ أُنْزِلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65". وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ فِي الْقِصَّةِ.
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص سے جو بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا حرہ کی نالیوں کے سلسلہ میں ان کا جھگڑا ہو گیا ۔ وہ دونوں ہی اس سے اپنے کھجوروں کے باغ کی سنیچائی کرتے تھے ۔ انصاری نے کہا : پانی چھوڑ دو وہ اس سے گزر کر چلا جائے ، انہوں نے پانی چھوڑنے سے انکار کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زبیر ! پہلے سنیچائی کرو ، پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو “ ، انصاری کو غصہ آ گیا وہ بولا : اللہ کے رسول ! وہ ( زبیر ) آپ کے پھوپھی زاد ( بھائی ) ہیں نا ؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۱؎ ، پھر فرمایا : ” زبیر ! سینچائی کرو ، پھر پانی اس قدر روکو کہ میڈوں تک ہو جائے “ ، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر کو ان کا پورا پورا حق دلایا ، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے جو مشورہ دیا تھا اس میں ان کا بھی فائدہ تھا اور انصاری کا بھی ۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصاری نے غصہ دلایا تو آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو صریح حکم دے کر ان کا حق دلا دیا ۔ زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے : «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم» ” نہیں ، آپ کے رب کی قسم ! وہ مومن نہیں یہاں تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو حکم تسلیم نہ کر لیں “ ( النساء : ۶۵ ) ( اس حدیث کے دو راوی ہیں ) اس واقعہ کو بیان کرنے میں ایک کے یہاں دوسرے کے بالمقابل کچھ کمی بیشی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5409]
💡 وضاحت:
۱؎: یہی باب سے مطابقت ہے کہ غصہ کی حالت میں ایک فیصلہ صادر فرمایا، چونکہ آپ امین تھے اس لیے آپ کو غصہ کی حالت میں بھی فیصلہ کرنے کا حق تھا، عام قاضیوں کو یہ حق نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3630)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشرب والمساقاة6-8 (2360- 2362)، والصلح 12 (2708)، و تفسیر سورة النساء 12 (4585)، صحیح مسلم/الفضائل 36 (2357)، سنن ابی داود/الأقضیة 31 (3637)، سنن الترمذی/الأحکام 26 (1363)، وتفسیر سورة النساء، سنن ابن ماجہ/المقدمة 2 (15)، والرہون20 (2480)، مسند احمد (1/165)، ویأتی عند المؤلف برقم: 5418 (صحیح)
|
|
|
20: بَابُ : حُكْمِ الْحَاكِمِ فِي دَارِهِ
باب: حاکم اپنے گھر میں رہ کر بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ , فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا , فَكَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِهِ , فَنَادَى: " يَا كَعْبُ"، قَالَ: لَبَّيْكَ , يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا" , وَأَوْمَأَ إِلَى الشَّطْرِ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: " قُمْ فَاقْضِهِ".
کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا جو ان کے ذمہ تھا تقاضا کیا ، ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی دیں ، آپ اپنے گھر میں تھے ، چنانچہ آپ ان کی طرف نکلے ، پھر اپنے کمرے کا پردہ اٹھایا اور پکارا : ” کعب ! “ وہ بولے : حاضر ہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” اتنا قرض معاف کر دو “ اور آپ نے آدھے اشارہ کیا ۔ کہا : میں نے معاف کیا ، پھر آپ نے ( ابن ابی حدرد سے ) کہا : ” اٹھو اور قرض ادا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5410]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 71 (457)، 73 (471)، الخصومات 4 (2418)، 9 (2424)، الصلح 10 (2706)، 14 (2710)، صحیح مسلم/البیوع 25 (المساقاة4) (1558)، سنن ابی داود/الأقضیة (3595)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 18 (2429)، (تحفة الأشراف: 11130)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 49 (2629) (صحیح)
|
|
|
21: بَابُ : الاِسْتِعْدَاءِ
باب: قابل گرفت آدمی کے خلاف حاکم سے مدد طلب کرنے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شَرَحِبِيلَ , قَالَ: قَدِمْتُ مَعَ عُمُومَتِي الْمَدِينَةَ , فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا , فَفَرَكْتُ مِنْ سُنْبُلِهِ، فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَخَذَ كِسَائِي , وَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعْدِي عَلَيْهِ فَأَرْسَلَ إِلَى الرَّجُلِ فَجَاءُوا بِهِ , فَقَالَ: " مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟" , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ دَخَلَ حَائِطِي فَأَخَذَ مِنْ سُنْبُلِهِ فَفَرَكَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا، وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ جَائِعًا، ارْدُدْ عَلَيْهِ كِسَاءَهُ" , وَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَسْقٍ , أَوْ نِصْفِ وَسْقٍ.
عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مدینے آیا تو وہاں کے ایک باغ میں گیا اور ایک بالی ( توڑ کر ) مسل ڈالی ، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا ، اس نے میری چادر چھین لی اور مجھے مارا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کے خلاف مدد چاہی ، چنانچہ آپ نے اس شخص کو بلا بھیجا ۔ لوگ اسے لے کر آئے ، آپ نے فرمایا : ” اس اقدام پر تمہیں کس چیز نے اکسایا ؟ “ وہ بولا : اللہ کے رسول ! یہ میرے باغ میں آیا اور بالی توڑ کر مسل دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ تو تم نے اسے بتایا جب کہ وہ ناسمجھ تھا ، نہ تم نے اسے کھلایا جبکہ وہ بھوکا تھا ، اس کی چادر اسے لوٹا دو “ ، اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وسق یا آدھا وسق دینے کا حکم دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5411]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوداؤد کے الفاظ ہیں «وأعطانی» یعنی اس باغ والے نے مجھے ایک یا آدھا صاع غلہ دیا“ یعنی اس نے جو میری ساتھ زیادتی کی تھی اس کے بدلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اس تاوان کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الجہاد 93 (2620، 2621)، سنن ابن ماجہ/التجارات 67 (2298)، (تحفة الأشراف: 5061)، مسند احمد (4/167) (صحیح)
|
|
|
22: بَابُ : صَوْنِ النِّسَاءِ عَنْ مَجْلِسِ الْحُكْمِ
باب: عورتوں کو عدالت میں لانے سے بچانے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ"، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا: " أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا". فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ان میں سے ایک نے کہا : ہمارے درمیان کتاب اللہ ( قرآن ) سے فیصلہ فرمایئے اور دوسرا جو زیادہ سمجھدار تھا بولا : ہاں ، اللہ کے رسول اور مجھے کچھ بولنے کی اجازت دیجئیے ، وہ کہنے لگا : میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں نوکر تھا ، اس نے اس کی عورت کے ساتھ زنا کیا ، تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے ، چنانچہ میں نے اسے بدلے میں سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی دے دی ، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا ، تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے ، اور رجم کی سزا اس کی عورت کی تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ ( قرآن ) کے مطابق فیصلہ کروں گا ، تمہاری بکریاں اور لونڈی تو تمہیں لوٹائی جائیں گی “ ، اور آپ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا ، اور انیس ( رضی اللہ عنہ ) کو حکم دیا کہ وہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائیں ۱؎ ، اگر وہ اس جرم کا اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دو ، چنانچہ اس نے اعتراف کر لیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5412]
💡 وضاحت:
۱؎: اسی میں باب سے مطابقت ہے، یعنی: وہ عورت مجلس قضاء میں طلب نہیں کی گئی، اسی لیے آپ نے انیس رضی اللہ عنہ کو اس کے پاس اس کے گھر بھیجا، ہاں اگر کسی معاملہ میں عورتوں کی حاضری مجلس قضاء میں ضروری ہو تو پردے کے ساتھ ان کو لایا جا سکتا ہے، اور پردے کی آڑ سے ان کا بیان لیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوکالة 13 (2314)، الصلح 5 (2695، 2696)، الشروط 9 (2724، 2725)، الأیمان 3 (6633، 6634)، الحدود 30 (6827، 6828)، 34 (6835)، 38 (6842)، 46 (6860)، الأحکام 43 (7193)، الآحاد 1 (7258)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1697)، سنن ابی داود/الحدود 25 (4445)، سنن ابن ماجہ/الحدود 7 (2549)، (تحفة الأشراف: 3755)، موطا امام مالک/الحدود 1 (6)، مسند احمد 4/115، 116، سنن الدارمی/الحدود 12 (2363) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَشِبْلٍ , قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ , فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَّا مَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ , فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: " قُلْ"، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، وَكَأَنَّهُ أُخْبِرَ أَنَّ عَلَى ابْنِهِ الرَّجْمَ فَافْتَدَى مِنْهُ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ , فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَمَّا الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا , فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا"، فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
ابوہریرہ ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق فیصلہ کیجئے ، پھر اس کا فریق مخالف کھڑا ہوا اور وہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا ، اس نے کہا : اس نے ٹھیک کہا ہے ، آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق فیصلہ فرمایئے ۔ آپ نے فرمایا : ” بتاؤ “ تو اس نے کہا : میرا بیٹا اس کے یہاں نوکر تھا ، تو وہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر بیٹھا ۔ چنانچہ میں نے اس کے بدلے سو بکریاں اور ایک خادم ( غلام ) دے دیا ( گویا اسے معلوم تھا کہ اس کے بیٹے پر رجم ہے ، چنانچہ اس نے تاوان دے دیا ) ، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق فیصلہ کروں گا : رہیں سو بکریاں اور خادم ( غلام ) تو وہ تمہیں لوٹائے جائیں گے ، اور تمہارے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے ، اور انیس ! تم صبح اس کی عورت کے پاس جاؤ ، اگر وہ اقبال جرم کر لے تو اسے رجم کر دینا “ ، چنانچہ وہ گئے ، اس نے اقبال جرم کیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5413]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
23: بَابُ : تَوْجِيهِ الْحَاكِمِ إِلَى مَنْ أُخْبِرَ أَنَّهُ، زَنَى
باب: حاکم اس شخص کو بلوا سکتا ہے جس کے بارے میں اس کو خبر ہے کہ اس نے زنا کیا ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ زَنَتْ , فَقَالَ: " مِمَّنْ؟" قَالَتْ: مِنَ الْمُقْعَدِ الَّذِي فِي حَائِطِ سَعْدٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ , فَأُتِيَ بِهِ مَحْمُولًا فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاعْتَرَفَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِثْكَالٍ , فَضَرَبَهُ وَرَحِمَهُ لِزَمَانَتِهِ وَخَفَّفَ عَنْهُ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے ( مرسلاً ) ۱؎ روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت لائی گئی ، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا تو آپ نے فرمایا : ” کس کے ساتھ ؟ “ وہ بولی : اپاہج سے جو سعد رضی اللہ عنہ کے باغ میں رہتا ہے ، آپ نے اسے بلا بھیجا چنانچہ وہ لاد کر لایا گیا اور اسے آپ کے سامنے رکھا گیا ، پھر اس نے اعتراف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے خوشے منگا کر اسے مارا اور اس کے لنجے پن کی وجہ سے اس پر رحم کیا اور اس پر تخفیف کی ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5414]
💡 وضاحت:
۱؎: نسائی کی روایت مرسل ہے، لیکن دیگر لوگوں کے یہاں ”سعید بن سعد بن عبادہ (ایک چھوٹے صحابی) یا: بعض اصحاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ موجود ہے، اس لیے حدیث متصل مرفوع صحیح ہے۔ ۲؎: چونکہ وہ غیر شادی شدہ تھا اس لیے اس کو رجم کی سزا نہیں دی گئی، اور کوڑے میں بھی تخفیف سے کام لیا گیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 140)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحدود 34 (4472)، سنن ابن ماجہ/الحدود 18 (2574)، مسند احمد (5/22222) (کلھم بزیادة ”سعید بن سعد بن عبادة“ أو ”بعض أصحاب النبی ﷺ“ بعد ”أبی أمامة“) (صحیح)
|
|
|
24: بَابُ : مَسِيرِ الْحَاكِمِ إِلَى رَعِيَّتِهِ لِلصُّلْحِ بَيْنَهُمْ
باب: صلح کرانے کے لیے حاکم کے رعایا کے پاس جانے کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ: وَقَعَ بَيْنَ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَلَامٌ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ , فَأَذَّنَ بِلَالٌ وَانْتُظِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاحْتُبِسَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ صَفَّحُوا , وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ تَصْفِيحَهُمُ الْتَفَتَ , فَإِذَا هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي يَدَيْهِ، ثُمَّ نَكَصَ الْقَهْقَرَى , وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ , قَالَ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ؟" قَالَ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ نَبِيِّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " مَا لَكُمْ إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ صَفَّحْتُمْ , إِنَّ ذَلِكَ لِلنِّسَاءِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کے دو قبیلوں کے درمیان تکرار ہوئی یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو پتھر مارنے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان صلح کرانے گئے ، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا ، تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور آپ کا انتظار کیا اور رکے رہے ، پھر اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، جب لوگوں نے آپ کو دیکھا تو ( بتانے کے لیے ) تالی بجا دی ۔ ( ابوبکر نماز میں کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے تھے ) پھر جب انہوں نے ان سب کی تالی کی آواز سنی تو مڑے ، دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا ، تو آپ نے وہیں رہنے کا اشارہ کیا ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور نماز پڑھائی ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا : ” تمہیں وہیں رکنے سے کس چیز نے روکا ؟ “ وہ بولے : یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ ابوقحافہ کے بیٹے کو اپنے نبی کے آگے دیکھے ، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آتی ہے تو تالی بجانے لگتے ہو ، یہ تو عورتوں کے لیے ہے ، تم میں سے کسی کو جب کوئی بات پیش آئے تو وہ «سبحان اللہ» کہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5415]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4693)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل فی الصلاة 3 (1201)، 16 (1218)، الصلح 1 (2690)، صحیح مسلم/الصلاة 22 (421)، مسند احمد (5/330، 331، 236) (صحیح)
|
|
|
25: بَابُ : إِشَارَةِ الْحَاكِمِ عَلَى الْخَصْمِ بِالصُّلْحِ
باب: حاکم فریقین میں سے کسی کو صلح کر لینے کا مشورہ دے سکتا ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ يَعْنِي دَيْنًا، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ، فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا كَعْبُ"، فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ , وَتَرَكَ نِصْفًا.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ پر ان کا قرضہ تھا ، وہ راستے میں مل گئے تو انہیں پکڑ لیا ، پھر ان دونوں میں تکرار ہو گئی ، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں ، ان کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو آپ نے فرمایا : ” کعب ! “ پھر اپنے ہاتھ سے ایک اشارہ کیا گویا آپ کہہ رہے تھے : ” آدھا “ ، چنانچہ انہوں نے آدھا قرضہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5416]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 5410 (صحیح)
|
|
|
26: بَابُ : إِشَارَةِ الْحَاكِمِ عَلَى الْخَصْمِ بِالْعَفْوِ
باب: حاکم فریقین میں کسی کو معاف کر دینے کا مشورہ دے سکتا ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلٍ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ بِالْقَاتِلِ يَقُودُهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ: " أَتَعْفُو؟" قَالَ: لَا، قَالَ: " فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ: " فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبْ بِهِ" , فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ: " أَتَعْفُو" قَالَ: لَا، قَالَ: " فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ: " فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبْ بِهِ" , فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ: " أَتَعْفُو؟" قَالَ: لَا، قَالَ: " فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ: " فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبْ بِهِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: " أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، فَعَفَا عَنْهُ وَتَرَكَهُ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا جب قاتل کو مقتول کا ولی ایک رسی میں باندھ کر گھسیٹتا ہوا لایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا : ” کیا تم معاف کر دو گے ؟ “ وہ بولا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا دیت لو گے ؟ “ وہ بولا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اسے قتل کرو گے ؟ “ کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے لے جاؤ “ ( اور قتل کرو ) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا : ” کیا معاف کر دو گے ؟ “ کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیت لو گے ؟ “ کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو اسے قتل کرو گے ؟ “ کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” لے جاؤ اسے “ ( اور قتل کرو ) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا : ” کیا معاف کر دو گے ؟ “ کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” دیت لو گے ؟ “ کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو اسے قتل کرو گے ؟ “ کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” لے جاؤ اسے “ ( اور قتل کرو ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا : ” اگر تم اسے معاف کر دو تو یہ اپنے گناہ اور تمہارے ( مقتول ) ساتھی کے گناہ سمیٹ لے گا “ ، یہ سن کر اس نے معاف کر دیا اور اسے چھوڑ دیا ، میں نے دیکھا کہ وہ اپنی رسی کھینچ رہا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5417]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)
|
|
|
27: بَابُ : إِشَارَةِ الْحَاكِمِ بِالرِّفْقِ
باب: حاکم پہلے نرمی کرنے کے لیے حکم دے سکتا ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلَا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ" , فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ"، قَالَ الزُّبَيْرُ: إِنِّي أَحْسَبُ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ سورة النساء آية 65 الْآيَةَ.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کی نالیوں کے سلسلے میں جھگڑا کیا ، ( جن سے وہ باغ کی سینچائی کرتے تھے ) اور مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے ، انصاری نے کہا : پانی کو بہتا چھوڑ دو ، تو انہوں نے انکار کیا ، ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ پیش کیا ، تو آپ نے فرمایا : ” زبیر ! سینچائی کر لو پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو “ ، انصاری کو غصہ آ گیا ، وہ بولا : اللہ کے رسول ! وہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں نا ؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا ، پھر آپ نے فرمایا : ” زبیر ! سینچائی کرو ، اور پانی مینڈوں تک روک لو “ ، زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ یہ آیت : «فلا وربك لا يؤمنون» ” نہیں ، تمہارے رب کی قسم ! وہ مومن نہیں ہوں گے “ ( النساء : ۶۵ ) اسی سلسلے میں اتری ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5418]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المساقات 6 (2359، 2360)، صحیح مسلم/الفضائل 36 (2357)، سنن ابی داود/الِٔقضیة 31 (3637)، سنن الترمذی/الٔؤحکام 26 (1363)، تفسیر سورة النساء (3027)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 2 (15)، (تحفة الأشراف: 5275)، مسند احمد (4/4) (صحیح)
|
|
|
28: بَابُ : شَفَاعَةِ الْحَاكِمِ لِلْخُصُومِ قَبْلَ فَصْلِ الْحُكْمِ
باب: فیصلہ سے پہلے حاکم کسی فریق کے حق میں سفارش کرے تو اس کے جواز کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا , يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: " يَا عَبَّاسُ , أَلَا تَعْجَبْ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا"، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْمُرُنِي؟، قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا شَفِيعٌ"، قَالَتْ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے جنہیں مغیث کہا جاتا تھا ، گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس ( بریرہ ) کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں ، اور ان کے آنسو ڈاڑھی پر بہہ رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے کہا : عباس ! کیا آپ کو حیرت نہیں ہے کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث سے کس قدر نفرت کرتی ہے ؟ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( بریرہ ) سے فرمایا : ” اگر تم اس کے پاس واپس چلی جاتی ( تو بہتر ہوتا ) اس لیے کہ وہ تمہارے بچے کا باپ ہے “ ، وہ بولیں : اللہ کے رسول ! کیا مجھے آپ حکم دے رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، میں تو سفارش کر رہا ہوں “ ، وہ بولیں : پھر تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5419]
💡 وضاحت:
۱؎: مغیث اور بریرہ (رضی اللہ عنہما) کے معاملہ میں عدالتی قانونی فیصلہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ”بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزادی مل جانے کے بعد مغیث کے نکاح میں نہ رہنے کا حق حاصل ہے“ مگر اس عدالتی فیصلہ سے پہلے بریرہ رضی اللہ عنہا سے قانوناً نہیں اخلاقی طور پر مغیث کے نکاح میں باقی رہنے کی سفارش کی، یہی باب سے مناسبت ہے، اور اس طرح کی سفارش صرف ایسے ہی معاملات میں کی جا سکتی ہے، جس میں مدعی کو اختیار ہو (جیسے بریرہ کا معاملہ اور قصاص ودیت والا معاملہ وغیرہ) لیکن چوری و زنا کے حدود کے معاملے میں اس طرح کی سفارش نہیں کی جا سکتی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطلاق 16 (5283)، سنن ابی داود/الطلاق 19 (2231)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 29 (2077)، (تحفة الأشراف: 6048)، مسند احمد (1/215) (صحیح)
|
|
|
29: بَابُ : مَنْعِ الْحَاكِمِ رَعِيَّتَهُ مِنْ إِتْلاَفِ أَمْوَالِهِمْ وَبِهِمْ حَاجَةٌ إِلَيْهَا
باب: اگر کسی شخص کو مال کی حاجت ہو اور وہ اپنا مال برباد کرے تو حاکم اس کو اس کام سے روک سکتا ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ وَكَانَ مُحْتَاجًا , وَكَانَ عَلَيْهِ دَينٍ , فَبَاعهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَأَعْطَاهُ، فَقَالَ: " اقْضِ دَيْنَكَ وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے مدابرہ کے طور پر اپنا ایک غلام آزاد کر دیا ، حالانکہ وہ ضرورت مند تھا اور اس پر قرض بھی تھا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آٹھ سو درہم میں بیچ کر مال اسے دے دیا اور فرمایا : ” اپنا قرض ادا کرو اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5420]
💡 وضاحت:
۱؎: مدابرہ یہ کہنا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، سليمان الأعمش عنعن. والحديث السابق (الأصل: 4658) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 364
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4658 (صحیح)
|
|
|
30: بَابُ : الْقَضَاءِ فِي قَلِيلِ الْمَالِ وَكَثِيرِهِ
باب: مال تھوڑا ہو یا زیادہ ہر حال میں فیصلہ ہو گا۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو آدمی کسی مسلمان آدمی کا حق قسم کھا کر مار لے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا اور جنت اس پر حرام کر دے گا “ ، ایک شخص نے آپ سے کہا : اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” گرچہ وہ پیلو کی ایک ڈال ہو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5421]
💡 وضاحت:
۱؎: جب جھوٹی قسم کھا کر پیلو کی ایک ڈال ہڑپ کر لینے پر اتنی سخت وعید ہے تو اتنی سی معمولی چیز کے بارے میں عدالتی فیصلہ بھی ہو سکتا ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 61 (137)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 8 (2324)، موطا امام مالک/الأقضیة 8 (11)، (تحفة الأشراف: 1744)، مسند احمد (5/260) (صحیح)
|
|
|
31: بَابُ : قَضَاءِ الْحَاكِمِ عَلَى الْغَائِبِ إِذَا عَرَفَهُ
باب: حاکم اگر کسی کو پہچانتا ہو تو اس کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ , وَلَا يُنْفِقُ عَلَيَّ وَوَلَدِي مَا يَكْفِينِي، أَفَآخُذُ مِنْ مَالِهِ وَلَا يَشْعُرُ، قَالَ: " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدِكِ بِالْمَعْرُوفِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہند رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! ابوسفیان بخیل شخص ہیں ، وہ مجھ پر اور میرے بچوں پر اس قدر نہیں خرچ کرتے ہیں جو کافی ہو ، تو کیا میں ان کے مال میں سے کچھ لے لیا کروں اور انہیں پتا بھی نہ چلے ؟ آپ نے فرمایا : ” بھلائی کے ساتھ اس قدر لے لو کہ تمہارے لیے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5422]
💡 وضاحت:
۱؎: اس غائب اور غیر موجود کو پہچانتا ہو، اور مدعی کی صداقت اور مدعی علیہ کے حالات سے گہری واقفیت رکھتا ہو جیسا کہ ہند اور ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے معاملہ کی بابت آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے، ہر مدعی علیہ کے بارے میں اس طرح فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عام حالات میں مدعی کی گواہی یا قسم اور مدعا علیہ کے بیان سننے کی ضرورت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الٔاقضیة 4 (1714)، (تحفة الأشراف: 17261)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 95 (2211)، والمظالم 18 (2460)، النفقات 5 (5359)، 9 (5364)، 14 (537)، الأیمان 3 (6641)، الأحکام 14 (7161)، 28 (7180)، سنن ابی داود/البیوع 81 (3532)، سنن ابن ماجہ/التجارات 65 (2293)، مسند احمد (396، 50، 206)، سنن الدارمی/النکاح 54 (2305) (صحیح)
|
|
|
32: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ أَنْ يُقْضَى فِي قَضَاءٍ بِقَضَاءَيْنِ
باب: ایک قضیہ میں دو فیصلہ کرنا منع ہے۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، وَكَانَ عَامِلًا عَلَى سِجِسْتَانَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَقْضِيَنَّ أَحَدٌ فِي قَضَاءٍ بِقَضَاءَيْنِ، وَلَا يَقْضِي أَحَدٌ بَيْنَ خَصْمَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ".
عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ ( سجستان کے گورنر تھے ) کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کوئی ایک قضیہ میں دو فیصلے نہ کرے ۱؎ ، اور نہ کوئی دو فریقوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5423]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ قضاء کا مقدمہ جھگڑے کو ختم کرنا ہے، اور ایک ہی معاملہ میں دو طرح کے فیصلے سے جھگڑا ختم نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 5408 (صحیح)
|
|
|
33: بَابُ : مَا يَقْطَعُ الْقَضَاءُ
باب: فیصلہ کی بنیاد پر حاصل ہونے مال کی شرعی حقیقت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو ، حالانکہ میں ایک انسان ہوں ، اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے دلیل دینے میں چرب زبان ہو ۔ میں تو صرف اس کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں ، اب اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں ( اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو ) تو گویا میں اس کو جہنم کا ٹکڑا دلا رہا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5424]
💡 وضاحت:
۱؎: تو کیا وہ پانے والے کے لیے ہر حال میں حلال ہو گا؟ نہیں، خود جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر ملنے سے حلال نہیں ہو سکتا، (اگر حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو دوسرے کسی قاضی کے فیصلے سے کیسے جائز ہو سکتا ہے، اس لیے اس طرح کے معاملے میں سخت محتاط رہنے کی ضرورت ہے، جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے تو یہ فیصلہ ٹھیک ہے، لیکن اس طرح کے فیصلے حرام کو حلال، اور حلال کو حرام نہیں کر سکتے، اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے فیصلے پر یہ عرض کیا کہ حقیقت میں غلط فیصلہ پر عمل آدمی کو جہنم پہنچا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 5403 (صحیح)
|
|
|
34: بَابُ : الأَلَدِّ الْخَصِمِ
باب: لڑاکے اور جھگڑالو کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ. ح، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ بغض و نفرت لڑاکے اور جھگڑالو شخص سے ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5425]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد: باطل کے لیے جھگڑا کرنے والا اور چرب زبانی کرنے والا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المظالم 15 (2457)، تفسیر البقرة 37 (4523)، الَٔحکام 34 (7188)، صحیح مسلم/العلم 2 (2668)، سنن الترمذی/تفسیر سورة البقرة (2976)، (تحفة الأشراف: 16248)، مسند احمد (6/55، 63، 205) (صحیح)
|
|
|
35: بَابُ : الْقَضَاءِ فِيمَنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ
باب: جس کا کوئی گواہ نہ ہو اس کے بارے میں کیوں کر فیصلہ ہو۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى: " أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَضَى بِهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو لوگ ایک جانور کے بارے میں جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ، ان میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا ، تو آپ نے اس کے آدھا کیے جانے کا فیصلہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5426]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الٔرقضیة 22 (3613)، سنن ابن ماجہ/الٔوحکام 11 (2330)، (تحفة الأشراف: 9088)، مسند احمد (4/403) (ضعیف) (اس روایت کی سند اور متن دونوں میں سخت اختلاف ہے، اس کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے، دیکھیے الإرواء رقم 2656)
|
|
|
36: بَابُ : عِظَةِ الْحَاكِمِ عَلَى الْيَمِينِ
باب: قسم کھلاتے وقت حاکم کی نصیحت کا بیان۔
|
|
|
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَانَتْ جَارِيَتَانِ تَخْرُزَانِ بِالطَّائِفِ , فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا وَيَدُهَا تَدْمَى، فَزَعَمَتْ أَنَّ صَاحِبَتَهَا أَصَابَتْهَا وَأَنْكَرَتِ الْأُخْرَى، فَكَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي ذَلِكَ فَكَتَبَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى: " أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ , وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ أَمْوَالَ نَاسٍ، وَدِمَاءَهُمْ" , فَادْعُهَا وَاتْلُ عَلَيْهَا هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لا خَلاقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ سورة آل عمران آية 77 حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ , فَدَعَوْتُهَا فَتَلَوْتُ عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ بِذَلِكَ فَسَرَّهُ.
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ دو لڑکیاں طائف میں موزے ( خف ) بنایا کرتی تھیں ، ان میں سے ایک باہر نکلی ، تو اس کے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا ، اس نے بتایا کہ اس کی سہیلی نے اسے زخمی کیا ہے ، لیکن دوسری نے انکار کیا ، تو میں نے اس سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا تو انہوں نے جواب لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ قسم تو مدعا علیہ سے لی جائے گی ، اگر لوگوں کو ان کے دعوے کے مطابق ( فیصلہ ) مل جایا کرے تو بعض لوگ دوسرے لوگوں کے مال اور ان کی جان کا بھی دعویٰ کر بیٹھیں ، اس لیے اس عورت کو بلا کر اس کے سامنے یہ آیت پڑھو : «إن الذين يشترون بعهد اللہ وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة» ” جو لوگ اللہ کے عہد اور قسموں کو معمولی قیمت سے بیچ دیتے ہیں ، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں “ ( آل عمران : ۷۷ ) یہاں تک کہ آیت ختم کی ، چنانچہ میں نے اسے بلایا اور یہ آیت اس کے سامنے تلاوت کی تو اس نے اس کا اعتراف کیا ، جب انہیں ( ابن عباس کو ) یہ بات معلوم ہوئی تو خوش ہوئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5427]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: کسی معاملہ میں قسم کی ضرورت پڑے تو پہلے حاکم جس سے قسم لے اس کو نصیحت کرے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الرہن 6 (2514)، الشہادات 20 (2668) (بدون ذکر القصة) تفسیر سورة آل عمران 3 (4552)، صحیح مسلم/الأقضیة 1 (1711)، سنن ابی داود/الأقضیة 23 (3619)، سنن الترمذی/الأحکام 12 (1342)، سنن ابن ماجہ/الأحکام (2321)، (تحفة الأشراف: 5792)، مسند احمد (1/342، 351، 356، 363) (صحیح)
|
|
|
37: بَابُ : كَيْفَ يَسْتَحْلِفُ الْحَاكِمُ
باب: حاکم قسم (حلف) کیسے لے؟
|
|
|
أَخْبَرَنَا سَوُّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ يَعْنِي مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَا أَجْلَسَكُمْ؟" , قَالُوا: جَلَسْنَا نَدْعُو اللَّهَ , وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِدِينِهِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ، قَالَ: " آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟"، قَالُوا: آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ: " أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهَمَةً لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے حلقے کی طرف نکل کر آئے اور فرمایا : ” کیوں بیٹھے ہو ؟ “ وہ بولے : ہم بیٹھے ہیں ، اللہ سے دعا کر رہے ہیں ، اس کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی ہدایت بخشی اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا ، آپ نے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! ۲؎ تم اسی لیے بیٹھے ہو ؟ “ وہ بولے : اللہ کی قسم ! ہم اسی لیے بیٹھے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” سنو ، میں نے تم سے قسم اس لیے نہیں لی کہ تمہیں جھوٹا سمجھا ، بلکہ میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں پر تمہاری وجہ سے فخر کرتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5428]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب کسی معاملہ میں قاضی کو قسم لینے کی ضرورت ہو تو کن الفاظ کے ساتھ قسم لے۔ ۲؎: اسی لفظ میں باب سے مناسبت ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم لفظ «واللہ» سے قسم کھایا یا لیا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الدعوات (الذکر والدعاء) 11 (2701)، سنن الترمذی/الدعوات 7 (3379)، (تحفة الأشراف: 11416)، مسند احمد (4/92) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ لَهُ: أَسَرَقْتَ؟ قَالَ: لَا , وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، قَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ بَصَرِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا ، تو اس سے پوچھا : کیا تم نے چوری کی ؟ وہ بولا : نہیں ، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۱؎ ، عیسیٰ علیہ السلام نے کہا : میں نے یقین کیا اللہ پر اور جھوٹا سمجھا اپنی آنکھ کو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5429]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں یہی قسم کے الفاظ ہیں، ان الفاظ کے ساتھ بھی کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھایا یا لیا کرتے تھے، دونوں حدیثوں میں مذکور دونوں الفاظ کے علاوہ بھی کچھ الفاظ کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھایا یا کرتے تھے جیسے «لا ومصرف القلوب» ، «لا ومقلب القلوب» وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الٔلنبیاء 48 (3444 تعلیقًا)، (تحفة الٔاشراف: 14223)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل40 (2368)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 4 (2102)، مسند احمد (2/314، 383) (صحیح)
|
|