سنن النسائي حدیث نمبر: 5403
Sunan an-Nasa'i 5403
کتاب #55: کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
13: بَابُ : الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ
باب: ظاہری دلائل کے مطابق فیصلہ کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ میرے سامنے مقدمات لاتے ہو ، میں تو بس تمہاری طرح ایک انسان ہوں ۱؎ ، ممکن ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو ، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا حق دلا دوں ( اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو ) تو اسے وہ نہ لے کیونکہ میں تو اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5403]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی غیب کا علم صرف اللہ کو ہے، میں تو صرف ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المظالم 16 (2498)، الشہادات 27 (2680)، الحیل 10 (6967)، الأحکام 20 (7169)، 29 (7181)، صحیح مسلم/الأقضیة 3 (1713)، سنن ابی داود/الأقضیة 7 (3583)، سنن الترمذی/الأحکام 11 (1339)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 11 (2317)، (تحفة الأشراف: 18261)، موطا امام مالک/الأقضیة 1(1)، مسند احمد (6/203، 290، 307، 308)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5424 (صحیح)