📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل (كتاب آداب القضاة) 🏷️ باب: باب: حاکم کے لیے اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ وہ حقیقت تک پہنچنے کے لیے کہے کہ میں ایسا کروں گا حالاں کہ اس کا ارادہ کرنے کا نہ ہو۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 5405 Sunan an-Nasa'i 5405
کتاب #55: کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
15: بَابُ : السَّعَةِ لِلْحَاكِمِ فِي أَنْ يَقُولَ لِلشَّىْءِ الَّذِي لاَ يَفْعَلُهُ افْعَلْ لِيَسْتَبِينَ الْحَقَّ
باب: حاکم کے لیے اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ وہ حقیقت تک پہنچنے کے لیے کہے کہ میں ایسا کروں گا حالاں کہ اس کا ارادہ کرنے کا نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا صَبِيَّانِ لَهُمَا، فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ وَلَدَهَا، فَأَصْبَحَتَا تَخْتَصِمَانِ فِي الصَّبِيِّ الْبَاقِي إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَمْرُكُمَا؟ فَقَصَّتَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّ الْغُلَامَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: أَتَشُقُّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ حَظِّي مِنْهُ لَهَا، قَالَ: هُوَ ابْنُكِ فَقَضَى بِهِ لَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو عورتیں نکلیں ، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے ، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کر دیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا ، وہ دونوں اس بچے کے سلسلے میں جو باقی تھا جھگڑتی ہوئی داود علیہ السلام کے پاس آئیں ، تو انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا ، پھر وہ سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں ، وہ بولے : تم دونوں کا کیا قضیہ ہے ؟ چنانچہ انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا ، تو انہوں نے کہا : چھری لاؤ ، بچے کے دو حصے کر کے ان دونوں کے درمیان تقسیم کروں گا ۱؎ ، چھوٹی عورت بولی : کیا آپ اسے کاٹیں گے ؟ کہا : ہاں ، وہ بولی : ایسا نہ کیجئیے ، اس میں جو میرا حصہ ہے وہ بھی اسی کو دے دیجئیے ، سلیمان علیہ السلام نے کہا : یہ تمہارا بیٹا ہے ، چنانچہ آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5405]
💡 وضاحت:
۱؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے، سلیمان علیہ السلام کا مقصد بچے کو حقیقت میں ٹکڑے کر کے تقسیم کرنا نہیں تھا، بس اس طریقے سے وہ بچے کی حقیقی ماں کو پہچاننا چاہتے تھے، واقعی میں جس کا بچہ تھا وہ (چھوٹی عورت) بچے کے ٹکڑے کرنے پر راضی نہیں ہوئی، جب کہ جس کا بچہ نہیں تھا وہ خاموش رہی، اسے دوسری کے بچے سے کیا محبت ہو سکتی تھی؟ اس لیے ٹکڑے کرنے پر خاموش رہی، اس طرح آپ نے حقیقت کا پتہ چلا لیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الَٔقضیة 10 (1720)، (تحفة الأشراف: 13867) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #5405
5403 5404 5405 5406 5407
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ