سنن النسائي حدیث نمبر: 5404
Sunan an-Nasa'i 5404
کتاب #55: کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
14: بَابُ : حُكْمِ الْحَاكِمِ بِعِلْمِهِ
باب: حاکم اپنے علم اور تجربے سے فیصلہ کر سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ , مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ , مِمَّا ذَكَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ , فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا , فَقَالَتْ هَذِهِ لِصَاحِبَتِهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الْأُخْرَى: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى: فَخَرَجَتَا إِلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ , فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ مَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو عورتیں تھیں ان دونوں کے ساتھ ان کا ایک ایک بچہ تھا ، اتنے میں بھیڑیا آیا اور ایک کا بچہ اٹھا لے گیا ، تو اس نے دوسری سے کہا : وہ تمہارا بچہ لے گیا ، دوسری بولی : تمہارا بچہ لے گیا ، پھر وہ دونوں مقدمہ لے کر داود علیہ السلام کے پاس گئیں تو آپ نے بڑی کے حق میں فیصلہ کیا ۔ پھر وہ دونوں سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : ایک چھری لاؤ ، میں اسے دونوں کے درمیان تقسیم کر دیتا ہوں ، چھوٹی بولی : ایسا نہ کیجئیے ، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، وہ اسی کا بیٹا ہے ، تو انہوں نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ دے دیا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! سوائے اس دن کے ہم نے کبھی چھری کا نام «سکین» نہیں سنا ، ہم ) تو اسے «مدیہ» کہا کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5404]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الَٔنبیاء 40 (3427)، والفرائض 30 (6769)، (تحفة الُٔشراف: 13728)، مسند احمد 2/32222، 340، وانظر حدیث رقم: 5405، 5406 (صحیح)