سنن النسائي حدیث نمبر: 5387
Sunan an-Nasa'i 5387
کتاب #55: کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
5: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ مَسْأَلَةِ الإِمَارَةِ
باب: حکومت اور عہدہ منصب کی خواہش منع ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ، وَإِنَّهَا سَتَكُونُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَةُ، وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب تم لوگ منصب کی خواہش کرو گے ، لیکن وہ باعث ندامت و حسرت ہو گی پس دودھ پلانے والی کتنی اچھی ہوتی ہے ، اور دودھ چھڑانے والی کتنی بری ہوتی ہے ، ( اس لیے کہ ملتے وقت وہ بھلی لگتی ہے اور جاتے وقت بری لگتی ہے “ ) ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5387]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: حکومت اور منصب والی زندگی تو بھلی لگے گی لیکن اس کے بعد والی زندگی ابتر اور بری ہو گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4216 (صحیح)