سنن النسائي حدیث نمبر: 5385
Sunan an-Nasa'i 5385
کتاب #55: کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
4: بَابُ : تَرْكِ اسْتِعْمَالِ مَنْ يَحْرِصُ عَلَى الْقَضَاءِ
باب: قاضی بنائے جانے کے خواہشمند کو قاضی نہ بنایا جائے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ: عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا؟ قَالَ: " إِنَّكُمْسَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ".
اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : کیا آپ مجھے کام نہیں دیں گے جیسے فلاں کو دیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے بعد تم پاؤ گے کہ ترجیحات ۱؎ ہوں گی ایسے حالات میں تم صبر سے کام لینا یہاں تک کہ حوض پر تم مجھ سے ملو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5385]
💡 وضاحت:
۱؎: مستحق اور اہلیت والے کو محروم کر کے نالائق کو کام پر رکھنا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الٔعنصار 8 (3792)، الفتن 2 (7057)، صحیح مسلم/الإمارة 11 (1845)، سنن الترمذی/الفتن 25 (2189)، (تحفة الأشراف: 148)، مسند احمد (4/351، 352) (صحیح)