سنن النسائي حدیث نمبر: 5420
Sunan an-Nasa'i 5420
کتاب #55: کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
29: بَابُ : مَنْعِ الْحَاكِمِ رَعِيَّتَهُ مِنْ إِتْلاَفِ أَمْوَالِهِمْ وَبِهِمْ حَاجَةٌ إِلَيْهَا
باب: اگر کسی شخص کو مال کی حاجت ہو اور وہ اپنا مال برباد کرے تو حاکم اس کو اس کام سے روک سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ وَكَانَ مُحْتَاجًا , وَكَانَ عَلَيْهِ دَينٍ , فَبَاعهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَأَعْطَاهُ، فَقَالَ: " اقْضِ دَيْنَكَ وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے مدابرہ کے طور پر اپنا ایک غلام آزاد کر دیا ، حالانکہ وہ ضرورت مند تھا اور اس پر قرض بھی تھا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آٹھ سو درہم میں بیچ کر مال اسے دے دیا اور فرمایا : ” اپنا قرض ادا کرو اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5420]
💡 وضاحت:
۱؎: مدابرہ یہ کہنا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، سليمان الأعمش عنعن. والحديث السابق (الأصل: 4658) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 364
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 4658 (صحیح)