📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل (كتاب آداب القضاة) 🏷️ باب: باب: عورتوں کو عدالت میں لانے سے بچانے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 5412 Sunan an-Nasa'i 5412
کتاب #55: کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
22: بَابُ : صَوْنِ النِّسَاءِ عَنْ مَجْلِسِ الْحُكْمِ
باب: عورتوں کو عدالت میں لانے سے بچانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ"، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا: " أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا". فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ان میں سے ایک نے کہا : ہمارے درمیان کتاب اللہ ( قرآن ) سے فیصلہ فرمایئے اور دوسرا جو زیادہ سمجھدار تھا بولا : ہاں ، اللہ کے رسول اور مجھے کچھ بولنے کی اجازت دیجئیے ، وہ کہنے لگا : میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں نوکر تھا ، اس نے اس کی عورت کے ساتھ زنا کیا ، تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے ، چنانچہ میں نے اسے بدلے میں سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی دے دی ، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا ، تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے ، اور رجم کی سزا اس کی عورت کی تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ ( قرآن ) کے مطابق فیصلہ کروں گا ، تمہاری بکریاں اور لونڈی تو تمہیں لوٹائی جائیں گی “ ، اور آپ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا ، اور انیس ( رضی اللہ عنہ ) کو حکم دیا کہ وہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائیں ۱؎ ، اگر وہ اس جرم کا اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دو ، چنانچہ اس نے اعتراف کر لیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5412]
💡 وضاحت:
۱؎: اسی میں باب سے مطابقت ہے، یعنی: وہ عورت مجلس قضاء میں طلب نہیں کی گئی، اسی لیے آپ نے انیس رضی اللہ عنہ کو اس کے پاس اس کے گھر بھیجا، ہاں اگر کسی معاملہ میں عورتوں کی حاضری مجلس قضاء میں ضروری ہو تو پردے کے ساتھ ان کو لایا جا سکتا ہے، اور پردے کی آڑ سے ان کا بیان لیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوکالة 13 (2314)، الصلح 5 (2695، 2696)، الشروط 9 (2724، 2725)، الأیمان 3 (6633، 6634)، الحدود 30 (6827، 6828)، 34 (6835)، 38 (6842)، 46 (6860)، الأحکام 43 (7193)، الآحاد 1 (7258)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1697)، سنن ابی داود/الحدود 25 (4445)، سنن ابن ماجہ/الحدود 7 (2549)، (تحفة الأشراف: 3755)، موطا امام مالک/الحدود 1 (6)، مسند احمد 4/115، 116، سنن الدارمی/الحدود 12 (2363) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #5412
5410 5411 5412 5413 5414

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#5413 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَ...
ابوہریرہ ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ت...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ