سنن النسائي حدیث نمبر: 5413
Sunan an-Nasa'i 5413
کتاب #55: کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
22: بَابُ : صَوْنِ النِّسَاءِ عَنْ مَجْلِسِ الْحُكْمِ
باب: عورتوں کو عدالت میں لانے سے بچانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَشِبْلٍ , قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ , فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَّا مَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ , فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: " قُلْ"، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، وَكَأَنَّهُ أُخْبِرَ أَنَّ عَلَى ابْنِهِ الرَّجْمَ فَافْتَدَى مِنْهُ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ , فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَمَّا الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا , فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا"، فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
ابوہریرہ ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق فیصلہ کیجئے ، پھر اس کا فریق مخالف کھڑا ہوا اور وہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا ، اس نے کہا : اس نے ٹھیک کہا ہے ، آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق فیصلہ فرمایئے ۔ آپ نے فرمایا : ” بتاؤ “ تو اس نے کہا : میرا بیٹا اس کے یہاں نوکر تھا ، تو وہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر بیٹھا ۔ چنانچہ میں نے اس کے بدلے سو بکریاں اور ایک خادم ( غلام ) دے دیا ( گویا اسے معلوم تھا کہ اس کے بیٹے پر رجم ہے ، چنانچہ اس نے تاوان دے دیا ) ، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق فیصلہ کروں گا : رہیں سو بکریاں اور خادم ( غلام ) تو وہ تمہیں لوٹائے جائیں گے ، اور تمہارے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے ، اور انیس ! تم صبح اس کی عورت کے پاس جاؤ ، اگر وہ اقبال جرم کر لے تو اسے رجم کر دینا “ ، چنانچہ وہ گئے ، اس نے اقبال جرم کیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5413]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)