سنن النسائي حدیث نمبر: 5382
Sunan an-Nasa'i 5382
کتاب #55: کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
2: بَابُ : الإِمَامِ الْعَادِلِ
باب: عادل اور منصف امام (حاکم) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ خَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلَاءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقًا فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا. فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سات لوگ ہیں اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن ( عرش کے ) سائے میں رکھے گا ، جس دن کہ اس کے سوا کسی کا سایہ نہ ہو گا : انصاف کرنے والا حاکم ، وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بڑھتا جائے ، وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں ، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے ، دو ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں دوست ہوں ، ایسا شخص جسے رتبے والی خوبصورت عورت ( اپنے ساتھ غلط کام کرنے کے لیے ) بلائے تو وہ کہہ دے : مجھے اللہ تعالیٰ کا ڈر لگ رہا ہے ، ایک ایسا شخص جو صدقہ کرے تو اس طرح چھپا کر کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا کیا ہے ؟ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5382]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 36 (660)، الزکاة 16 (1423)، الرقاق 24 (6479)، الحدود 19 (6806)، صحیح مسلم/الزکاة 30 (1031)، سنن الترمذی/الزہد 53 (2391)، (تحفة الأشراف: 12264)، موطا امام مالک/الشعر 5 (14)، مسند احمد (2/439) (صحیح)