سنن النسائي حدیث نمبر: 5408
Sunan an-Nasa'i 5408
کتاب #55: کتاب: قاضیوں اور قضا کے آداب و احکام اور مسائل
18: بَابُ : ذِكْرِ مَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يَجْتَنِبَهُ
باب: حاکم کو کن باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: كَتَبَ أَبِي , وَكَتَبْتُ لَهُ: إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضِي سِجِسْتَانَ: أَنْ لَا تَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ".
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے لکھوایا تو میں نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کے پاس لکھا وہ سجستان کے قاضی تھے ، تم دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5408]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الٔنحکام 13 (7158)، صحیح مسلم/الِٔقضیة 7 (1717)، سنن ابی داود/الٔدقضیة 9 (3589)، سنن الترمذی/الْٔحکام 7 (1334)، سنن ابن ماجہ/الٔرحکام 4 (2316)، (تحفة الأشراف: 11676)، مسند احمد (5/36، 37، 38، 46، 52)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5423 (صحیح)