سنن النسائي حدیث نمبر: 5319
Sunan an-Nasa'i 5319
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
95: بَابُ : ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَر
باب: زرد رنگ کا کپڑا پہننا منع ہے۔
أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " اذْهَبْ فَاطْرَحْهُمَا عَنْكَ"، قَالَ: أَيْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " فِي النَّارِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، وہ پیلے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے ، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے اور فرمایا : ” جاؤ اور اسے اپنے جسم سے اتار دو “ ۔ وہ بولے : کہاں ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” آگ میں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5319]
💡 وضاحت:
۱؎: چنانچہ انہوں نے اسے گھر کے تنور میں ڈال دیا، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ میں ڈال دینے کا حکم دیا، ایسا صرف زجر و توبیخ کے لیے تھا، ورنہ اس نوع کا کپڑا عورتوں کے لیے جائز ہے، نیز بیچ کر کے قیمت کا استعمال بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/اللباس 4 (2077)، (تحفة الأشراف: 8830) (صحیح)