سنن النسائي حدیث نمبر: 5296
Sunan an-Nasa'i 5296
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
82: بَابُ : ذِكْرِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ لُبْسِ الثِّيَابِ وَمَا يُكْرَهُ مِنْهَا
باب: مستحب اور مکروہ لباس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي سَيِّئَ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" , قَالَ: نَعَمْ، مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ، فَقَالَ: " إِذَا كَانَ لَكَ مَالٌ فَلْيُرَ عَلَيْكَ".
ابوالاحوص کے والد عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھے خستہ حالت میں دیکھا ، تو فرمایا : ” کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال دے رکھا ہے ، آپ نے فرمایا : ” جب تمہارے پاس مال ہو تو اس کے آثار بھی نظر آنے چاہئیں ۱؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5296]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: فضول خرچی اور ریاء و نمود کے کے بغیر، اور حیثیت کے مطابق آدمی کے اوپر اچھا لباس ہونا چاہیئے، ہاں۔ اسراف، فضول خرچی اور ریاء و نمود والا لباس ناپسندیدہ اور مکروہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 5225 (صحیح)