سنن النسائي حدیث نمبر: 5252
Sunan an-Nasa'i 5252
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
70: بَابُ : لَعْنِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ
باب: بال جوڑنے اور جوڑوانے والی عورت پر وارد لعنت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِنْتًا لِي عَرُوسٌ وَإِنَّهَا اشْتَكَتْ , فَتَمَزَّقَ شَعْرُهَا فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ وَصَلْتُ لَهَا فِيهِ , فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ".
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میری ایک بیٹی نئی نویلی دلہن ہے ، اسے ایک بیماری ہو گئی ہے کہ اس کے بال جھڑ رہے ہیں اگر میں اس کے بال جوڑوا دوں تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” بال جوڑنے اور جوڑوانے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5252]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 5097 (صحیح)