سنن النسائي حدیث نمبر: 5336
Sunan an-Nasa'i 5336
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
104: بَابُ : إِسْبَالِ الإِزَارِ
باب: تہبند ٹخنے سے نیچے لٹکانا کیسا ہے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِسْبَالُ فِي الْإِزَارِ، وَالْقَمِيصِ، وَالْعِمَامَةِ، مَنْ جَرَّ مِنْهَا شَيْئًا خُيَلَاءَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تہبند ، قمیص اور پگڑی میں کسی کو بھی کوئی تکبر ( گھمنڈ ) سے لٹکائے تو قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5336]
💡 وضاحت:
۱؎: تکبر اور گھمنڈ اللہ تعالیٰ کو قطعی پسند نہیں ہے، نیز تہبند، قمیص اور عمامہ (پگڑی) میں تکبر اور گھمنڈ کے قبیل سے جو زائد حصہ لگ رہا ہے وہ اسراف سے خالی نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/اللباس 30 (4094)، سنن ابن ماجہ/اللباس 9 (3576)، (تحفة الأشراف: 6768) (صحیح)