سنن النسائي حدیث نمبر: 5335
Sunan an-Nasa'i 5335
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
104: بَابُ : إِسْبَالِ الإِزَارِ
باب: تہبند ٹخنے سے نیچے لٹکانا کیسا ہے؟
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مِهْرَانَ الْأَعْمَشَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سَلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین لوگ ہیں ، جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا ، نہ انہیں ( گناہوں سے ) پاک کرے گا ، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے : کچھ دے کر حد سے زیادہ احسان جتانے والا ، ( ٹخنے سے نیچے ) تہبند لٹکانے والا ، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5335]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2565 (صحیح)