📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب الزينة من السنن

کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل

کتاب #53 • کل احادیث: 185
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : الْفِطْرَةِ
باب: دین فطرت والی عادات و سنن کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَشْرَةٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ"، قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ: الْمَضْمَضَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دس چیزیں فطرت ۲؎ ( انبیاء کی سنت ) ہیں ( جو ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں ) : مونچھیں کتروانا ، ناخن کاٹنا ، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا ، ڈاڑھی کا چھوڑنا ، مسواک کرنا ، ناک میں پانی ڈالنا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا ، استنجاء کرنا “ ۔ مصعب بن شبیہ کہتے ہیں : دسویں بات میں بھول گیا ، شاید وہ ” کلی کرنا ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5043]
💡 وضاحت:
۱؎: عنوان کتاب: «کتاب الزینۃ من السنن» ہے، یعنی یہ احادیث سنن کبریٰ سے ماخوذ ہیں، جن کے نمبرات کا حوالہ ہم نے ہر حدیث کے آخر میں دے دیا ہے، اس کے بعد دوسرا عنوان: «کتاب الزینۃ من المجتبیٰ» ہے، یعنی اب یہاں سے منتخب ابواب ہوں گے جو ظاہر ہے کہ سنن کبریٰ سے ماخوذ ہوں گے یا مؤلف کے جدید اضافے ہوں گے، اس تنبیہ کی ضرورت اس واسطے ہوئی کہ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کے نسخے میں عنوان کتاب صحیح آیا ہے، اور مولانا نے اس پر حاشیہ لکھ کر یہ واضح کر دیا ہے کہ اس کتاب میں یہ ابواب سنن کبریٰ سے منقول ہیں، لیکن مولانا وحیدالزماں کے مترجم نسخے میں «کتاب الزینۃ: باب من السنن الفطرۃ» مطبوع ہے، اور حدیث کے ترجمہ میں آیا ہے: دس باتیں پیدائشی سنت ہیں (یعنی ہمیشہ سے چلی آتی ہیں، سب نبیوں نے اس کا حکم کیا) (۳/۴۵۵) اور اس کا ترجمہ کتاب آرائش کے بیان میں، پھر نیچے پیدائشی سنتیں لکھا ہے، اور مشہور حسن کے نسخے میں «کتاب الزینۃ من السنن الفطرۃ» مطبوع ہے، جب کہ «من السنن» کا تعلق «کتاب الزینۃ» سے ہے۔ ۲؎: اکثر علماء نے فطرت کی تفسیر سنت سے کی ہے، گویا یہ خصلتیں انبیاء کی سنت ہیں جن کی اقتداء کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے قول: «فبهداهم اقتده» (سورة الأنعام: 90) میں دیا ہے، بعض علماء اس کی تفسیر فطرت ہی سے کرتے ہیں، یعنی یہ سب کام انسانی فطرت کے ہیں جس پر انسان کی خلقت ہوئی ہے، بعض علماء دونوں باتوں کو ملا کر یوں تفسیر کرتے ہیں کہ یہ سب حقیقی انسانی فطرت کے کام ہیں اسی لیے ان کو انبیاء علیہم السلام نے اپنایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الطھارة 16 (261)، سنن ابی داود/الطھارة 29 (53)، سنن الترمذی/الأدب 14 (2757)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 8 (293)، (تحفة الأشراف: 16188، 18850)، مسند احمد (1376) (حسن) (اس کے راوی ’’مصعب‘‘ ضعیف ہیں لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْقًا يَذْكُرُ: " عَشْرَةً مِنَ الْفِطْرَةِ: السِّوَاكَ، وَقَصَّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمَ الْأَظْفَارِ , وَغَسْلَ الْبَرَاجِمِ، وَحَلْقَ الْعَانَةِ، وَالِاسْتِنْشَاقَ، وَأَنَا شَكَكْتُ فِي الْمَضْمَضَةِ".
طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ دس باتیں فطرت ( انبیاء کی سنتیں ) ہیں : مسواک کرنا ، مونچھ کترنا ، ناخن کاٹنا ، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا ، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا ، ناک میں پانی ڈالنا ، مجھے شک ہے کہ کلی کرنا بھی کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5044]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ عَشْرَةٌ مِنْ السُّنَّةِ السِّوَاكُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَالْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَتَوْفِيرُ اللِّحْيَةِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَالْخِتَانُ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَغَسْلُ الدُّبُرِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَجَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ وَمُصْعَبٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ
طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ دس باتیں انبیاء کی سنت ہیں : مسواک کرنا ، مونچھ کاٹنا ، کلی کرنا ، ناک میں پانی ڈالنا ، ڈاڑھی بڑھانا ، ناخن کترنا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، ختنہ کرانا ، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا اور پاخانے کے مقام کو دھونا ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : سلیمان تیمی اور جعفر بن ایاس ( ابوالبشر ) کی حدیث مصعب کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے اور مصعب منکر الحدیث ہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5045]
💡 وضاحت:
۱؎: مصعب کی توثیق تجریح میں اختلاف ہے، امام مسلم، ابن معین اور عجلی نے ان کی توثیق کی ہے، اور اس حدیث کے اکثر مشمولات دیگر روایات سے ثابت ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أخبرنا حميد بن مسعدة عن بشر قال حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خمس من الفطرة الختان وحلق العانة ونتف الضبع وتقليم الظفر وتقصير الشارب ‏"‏ ‏.‏ وقفه مالك ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ چیزیں خصائل فطرت سے ہیں : ختنہ کرانا ، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، ناخن اور مونچھیں کاٹنا ۔‏‏‏‏“ مالک نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے ، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5046]
💡 وضاحت:
۱؎: پانچ چیزوں کے ذکر سے یہاں حصر مراد نہیں ہے، خود پچھلی حدیث میں دس کا تذکرہ ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ پانچ، یا دس چیزیں فطرت کے خصائل میں سے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض چیزیں فطرت کے خصائل میں سے ہیں جن کا تذکرہ کئی روایات میں آیا ہے (نیز دیکھئیے فتح الباری کتاب اللباس باب ۶۳)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12978) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: تَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَالْخِتَانُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پانچ چیزیں خصائل فطرت سے ہیں : ناخن کترنا ، مونچھ کاٹنا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5047]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13013) (صحیح)
2: بَابُ : إِحْفَاءِ الشَّارِبِ
باب: مونچھیں کٹانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحْفُوا الشَّوَارِبَ , وَأَعْفُوا اللِّحَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مونچھیں کاٹو اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5048]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7297)، مسند احمد (2/52) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْفُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ڈاڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کترو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5049]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے مونچھیں نہیں کاٹیں وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5050]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 13 (صحیح)
3: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي حَلْقِ الرَّأْسِ
باب: سر منڈانے کی اجازت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا حَلَقَ بَعْضَ رَأْسِهِ وَتَرَكَ بَعْضًا فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَال: " احْلِقُوهُ كُلَّهُ , أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا ، اس کے سر کا کچھ حصہ منڈا ہوا تھا اور کچھ نہیں ، آپ نے ایسا کرنے سے روکا اور فرمایا : ” یا تو پورا سر مونڈو ، یا پھر پورے سر پر بال رکھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5051]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 31 (2120)، سنن ابی داود/الترجل 14 (4195)، (تحفة الأشراف: 7525)، مسند احمد 2/88) (صحیح)
4: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ حَلْقِ الْمَرْأَةِ، رَأْسَهَا
باب: عورت کو سر منڈانے سے ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو سر منڈانے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5052]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج 75 (914)، (تحفة الأشراف: 10085)، 18617) (ضعیف) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے)
5: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْقَزَعِ
باب: قزع یعنی کچھ بال رکھنا اور کچھ منڈانا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَهَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، عَنِ الْقَزَعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اللہ تعالیٰ نے «قزع» ( سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے ) سے منع کیا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5053]
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس72(5921)، صحیح مسلم/اللباس31(2120)، سنن ابی داود/الترجل14(4193)، سنن ابن ماجہ/اللباس38(3637)، مسند احمد (2/4، 39، 55، 67، 83، 101، 106، 118، 137، 143، 154)، ویأتي عند المؤلف بأرقام5230- 5233 (منکر) (اس کے راوی ’’عبدالرحمن‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، لیکن اس کے بعد کی حدیث صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ أَوْلَى بِالصَّوَابِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» ( سر کے کچھ بال منڈانے اور کچھ رکھ چھوڑنے ) سے منع فرمایا ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5054]
💡 وضاحت:
۱؎: یحییٰ بن سعید اور محمد بن بشر کی حدیث باب «ذکر النہی عن أن یحلق بعض شعر الصبي و یترک بعضہ» کے ضمن میں نمبر ۵۲۳۲، ۵۲۳۳ کے تحت ذکر ہے۔ ان دونوں حدیثوں میں عبیداللہ اور نافع کے درمیان عمر بن نافع کا ذکر ہے، جب کہ سفیان کی اس روایت میں ایسا نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7901) (صحیح)
6: بَابُ : الأَخْذِ مِنَ الشَّعْرِ
باب: مونچھ کاٹنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخُو قَبِيصَةَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعْرٌ، فَقَالَ: ذُبَابٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ , فَقَالَ لِي: " لَمْ أَعْنِكَ , وَهَذَا أَحْسَنُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میرے سر پر ( لمبے ) بال تھے ، آپ نے فرمایا : ” نحوست ہے “ ، میں نے سمجھا کہ آپ مجھے کہہ رہے ہیں ، چنانچہ میں نے اپنے سر کے بال کٹوا دیے پھر میں آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : ” میں نے تم سے نہیں کہا تھا ، لیکن یہ بہتر ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5055]
💡 وضاحت:
۱؎: اکثر نسخوں میں یہ تبویب ہے، بعض نسخوں میں «الأخذ من الشعر» ہے جو احادیث کے سیاق کے مناسب ہے، کیونکہ ان میں صرف بال کاٹنے کا تذکرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الترجل 11 (4190)، سنن ابن ماجہ/اللباس 37 (3636)، (تحفة الأشراف: 11782)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5069) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرًا رَجْلًا , لَيْسَ بِالْجَعْدِ، وَلَا بِالسَّبْطِ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال درمیانے قسم کے تھے ، نہ بہت گھنگرالے تھے ، نہ بہت سیدھے ، کانوں اور مونڈھوں کے بیچ تک ہوتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5056]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 68 (5905، 5906)، صحیح مسلم/فضائل 26 (2338)، سنن الترمذی/الشمائل 3 (26)، سنن ابن ماجہ/اللباس 36 (3634)، (تحفة الأشراف: 1144)، مسند احمد (3/ 135، 203) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ".
حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کہتے ہیں کہ میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار سال رہا تھا ، اس نے کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5057]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اگلے باب سے متعلق ہے، ناسخین کتاب کی غلطی سے یہاں درج ہو گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 239 (صحیح)
7: بَابُ : التَّرَجُّلِ غِبًّا
باب: ایک دن چھوڑ کر (بالوں میں) کنگھی کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بالوں میں ) کنگھی کرنے سے منع فرمایا ، مگر ایک دن چھوڑ کر ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5058]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4159) ترمذي (1756) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الترجل 1 (4159)، سنن الترمذی/اللباس 22 (1756)، (تحفة الأشراف: 9650، 18562، 19306) مسند احمد (4/86) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا".
حسن بصری سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر ایک دن چھوڑ کر ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5059]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، ضعيف، قتادة عنعن. والحديث مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، وہ بھی حسن بصری کی جو مدلس بھی ہیں، لیکن پچھلی روایت متصل مرفوع ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ , وَمُحَمَّدٍ , قَالَا: " التَّرَجُّلُ غِبٌّ".
حسن بصری اور محمد بن سیرین کہتے ہیں : ( بالوں میں ) کنگھی ایک ایک دن چھوڑ کر کرنا چاہیئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5060]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، يونس بن عبيد عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
تخریج دارالدعوہ: انظر للمرفوع قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِلًا بِمِصْرَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَإِذَا هُوَ شَعِثُ الرَّأْسِ مُشْعَانٌّ، قَالَ: مَا لِي أَرَاكَ مُشْعَانًّا وَأَنْتَ أَمِيرٌ؟ قَالَ: " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا عَنِ الْإِرْفَاهِ"، قُلْنَا: وَمَا الْإِرْفَاهُ، قَالَ: " التَّرَجُّلُ كُلَّ يَوْمٍ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک صحابی رسول جو مصر میں افسر تھے ، ان کے پاس ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص آیا جو پراگندہ سر اور بکھرے ہوئے بال والا تھا ، تو انہوں نے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پراگندہ سرپا رہا ہوں حالانکہ آپ امیر ہیں ؟ وہ بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں «ارفاہ» سے منع فرماتے تھے ، ہم نے کہا : «ارفاہ» کیا ہے ؟ روزانہ بالوں میں کنگھی کرنا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5061]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9747، 15611) ویأتی عندہ برقم: 5241 (صحیح)
8: بَابُ : التَّيَامُنِ فِي التَّرَجُّلِ
باب: بالوں میں داہنی طرف سے کنگھی کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ يَأْخُذُ بِيَمِينِهِ، وَيُعْطِي بِيَمِينِهِ، وَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کاموں کو ) دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے ( کوئی چیز ) لیتے تھے تو دائیں ہاتھ سے ، دیتے تھے تو دائیں ہاتھ سے ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام میں داہنی طرف سے ابتداء کرنا پسند فرماتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5062]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16006) (صحیح)
9: بَابُ : اتِّخَاذِ الشَّعْرِ
باب: بال رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجُمَّتُهُ تَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے کسی کو لال جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا ، آپ کے بال آپ کے مونڈھوں تک تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5063]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال تین طرح تھے: آدھے کانوں تک، پورے کانوں تک، اور کندھے تک، تینوں صورتیں مختلف احوال میں ہوتی تھیں، ان میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المناقب 23 (3551)، اللباس 35 (5848)، 68(5901)، (تحفة الأشراف: 1802)، مسند احمد (4/295، 303) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کان کے آدھے حصہ تک ہوتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5064]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الترجل 9 (4185)، (تحفة الأشراف: 469)، مسند احمد (3/113، 165) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: " وَرَأَيْتُ لَهُ لِمَّةً تَضْرِبُ قَرِيبًا مِنْ مَنْكِبَيْهِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے لال جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی آدمی کو نہیں دیکھا ، اور میں نے دیکھا کہ آپ کے بال آپ کے مونڈھوں کے قریب تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5065]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1903) (صحیح)
10: بَابُ : الذُّؤَابَةِ
باب: سر پر چوٹی رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ؟ , لَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدًا لَصَاحِبُ ذُؤَابَتَيْنِ , يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ مجھے کس کی قرأت کے مطابق پڑھنے کے لیے کہتے ہو ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ستر سے زائد سورتیں پڑھیں ، اس وقت زید ( زید بن ثابت ) کی دو چوٹیاں تھیں ، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5066]
💡 وضاحت:
۱؎: لمبے بال کو «ذوابہ» کہتے ہیں، نہ کہ عورتوں کی طرح بندھی ہوئی چوٹی کو، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس اثر نیز اگلی حدیث سے سر کے اتنے بڑے بالوں کا جواز ثابت ہوتا ہے، کیونکہ ان دونوں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم و ابن مسعود) نے اس پر اعتراض نہیں کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبے بالوں کی بجائے انہیں چھوٹے کرنے کو زیادہ پسند کیا، جیسا کہ حدیث نمبر ۵۰۶۹ میں صراحت ہے (نیز ملاحظہ ہو: فتح الباری: کتاب اللباس، باب الذوائب)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9592) (صحیح) (اس کے راوی ”ابواسحاق‘‘ اور ”اعمش‘‘ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، مگر اگلی سند سے تقویف پا کر یہ صحیح لغیرہ ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: " كَيْفَ تَأْمُرُونِّي أَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بَعْدَ مَا قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدًا مَعَ الْغِلْمَانِ لَهُ ذُؤَابَتَانِ".
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ مجھ سے زید بن ثابت کی قرأت کے مطابق پڑھنے کو کہتے ہو ۱؎ ، اس کے بعد کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ستر سے زائد کئی سورتیں سن چکا ہوں ، اس وقت زید بچوں کے ساتھ تھے ، ان کی دو چوٹیاں تھیں ؟ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5067]
💡 وضاحت:
۱؎: جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا ہے کہ آپ عثمان رضی اللہ عنہ کے مصحف کے مطابق قرآن پڑھا کریں کیونکہ آپ کے مصحف اور اس میں فرق ہے، تب انہوں نے مصحف عثمانی کے جمع کرنے والے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات کہی، آپ کی نظر اس بات پر نہیں گئی کہ عام صحابہ نے مصحف عثمانی ہی پر اجماع کیا، بہرحال بتصریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سات قراءتوں پر نازل ہوا، ابن مسعود صحابی رسول تھے، اور ان کو اپنے اوپر اعتماد تھا، لیکن مصحف عثمانی پر اجماع کے بعد اس کے مطابق پڑھنے پر اجماع امت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9257)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 8 (5000)، صحیح مسلم/الفضائل 22 (2462)، مسند احمد (1/389، 405، 411، 442) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الْأَغَرِّ بْنِ حُصَيْنٍ النَّهْشَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْنُ مِنِّي، فَدَنَا مِنْهُ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى ذُؤَابَتِهِ، ثُمَّ أَجْرَى يَدَهُ وَسَمَّتَ عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُ".
حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینے میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا : ” میرے قریب آؤ “ ، وہ آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کی چوٹی پر رکھا اور اپنا ہاتھ پھرایا پھر اللہ کا نام لے کر انہیں دعا دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5068]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3415) (صحیح الإسناد)
11: بَابُ : تَطْوِيلِ الْجُمَّةِ
باب: لمبے بال رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي جُمَّةٌ، قَالَ: " ذُبَابٌ" , وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ , وَهَذَا أَحْسَنُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، میرے سر پر لمبے بال تھے ، آپ نے فرمایا : ” نحوست ہے “ ، میں سمجھا کہ آپ کی مراد میں ہی ہوں ۔ میں گیا اور اپنے بال کتروا دیئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری مراد تم نہیں تھے ، ویسے یہ زیادہ اچھا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5069]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5055 (صحیح)
12: بَابُ : عَقْدِ اللِّحْيَةِ
باب: داڑھی میں گرہ لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ , وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، أَنَّ شُيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رُوَيْفِعَ بْنَ ثَابِتٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَا رُوَيْفِعُ , لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي , فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ: مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ , أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا , أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّةٍ , أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا بَرِيءٌ مِنْهُ".
رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے رویفع ! شاید میرے بعد تمہاری عمر لمبی ہو ، لہٰذا تم لوگوں کو بتا دینا کہ جس نے کر اپنی داڑھی میں گرہ لگائی یا گھوڑے کے گلے میں تانت ڈالی ( کہ نظر نہ لگے ) یا کسی چوپائے کے گوبر یا ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد اس سے بری ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5070]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطہارة 20 (36)، (تحفة الأشراف: 3616)، مسند احمد (4/108، 109) (صحیح)
13: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ
باب: سفید بال اکھاڑنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید بال اکھاڑنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5071]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8764)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 59 (2821)، سنن ابن ماجہ/الأدب 25 (3721)، مسند احمد (2/206، 207، 210، 212) (حسن، صحیح)
14: بَابُ : الإِذْنِ بِالْخِضَابِ
باب: خضاب لگانے کی اجازت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وأَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْيَهُودُ , وَالنَّصَارَى لَا تَصْبُغُ فَخَالِفُوهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے ، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5072]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان کی مخالفت میں خضاب لگاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأنبیاء 50 (3462)، (تحفة الأشراف: 15190، 15347)، مسند احمد (2/240، 260، 309، 401) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی روایت مروی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5073]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15292) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى لَا تَصْبُغُ فَخَالِفُوا عَلَيْهِمْ فَاصْبُغُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے ، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو اور خضاب لگاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5074]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ , وَأبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبدِ الرَحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى لَا تَصْبُغُ فَخَالِفُوهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے ، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5075]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: واللباس 67 (5899)، صحیح مسلم/اللباس 25 (2103)، سنن ابی داود/الترجل 18 (4203)، سنن الترمذی/اللباس 20 (1752) (نحوہ) سنن ابن ماجہ/اللباس 33 (3621)، (تحفة الأشراف: 13480)، مسند احمد (2/240)، ویأتي عند المؤلف: 5243) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بڑھاپے کا رنگ بدلو اور یہود کی مشابہت اختیار نہ کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5076]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7325) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ". وَكِلَاهُمَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بڑھاپے کا رنگ بدلو اور یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو “ ، یہ دونوں روایتیں محفوظ نہیں ہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5077]
💡 وضاحت:
۱؎: عروہ کبھی اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے روایت کرتے ہیں، اور کبھی زبیر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے، اور کبھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے، اسی وجہ سے مؤلف نے غیر محفوظ کہا ہے، جب کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ عروہ نے تینوں سے یہ روایت کی ہو، نیز اس کے صحیح شواہد موجود ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3642)، مسند احمد (1/165) (صحیح)
15: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْخِضَابِ، بِالسَّوَادِ
باب: کالا خضاب لگانا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَلَبِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ: " قَوْمٌ يَخْضِبُونَ بِهَذَا السَّوَادِ آخِرَ الزَّمَانِ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اخیر زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو کبوتر کے پوٹوں کی طرح کالا خضاب لگائیں گے ، انہیں جنت کی خوشبو نصیب نہ ہو گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5078]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الترجل 20 (4212)، (تحفة الأشراف: 5548) مسند احمد (1/273) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ , وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ , وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے دن لایا گیا ، سفیدی میں ان کا سر اور ڈاڑھی دونوں «ثغامہ» کی طرح سفید تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو ، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5079]
💡 وضاحت:
۱؎: «ثغامہ» ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 24 (2102)، سنن ابی داود/الترجل 18 (4204)، (تحفة الأشراف: 2807)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 33 (3624)، مسند احمد (3/306، 322، 338) (صحیح)
16: بَابُ : الْخِضَابِ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ
باب: مہندی اور کتم لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بِهِ أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْضَلُ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّمَطَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو مہندی اور «کتم» ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5080]
💡 وضاحت:
۱؎: «کتم» ایک پودا ہے جسے مہندی کے ساتھ ملاتے ہیں، ان دونوں کو ملا کر استعمال سے بالوں کا رنگ سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11966) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو مہندی اور «کتم» ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5081]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الترجل 18(4205)، سنن الترمذی/اللباس 20 (1753)، سنن ابن ماجہ/اللباس 32(3622)، (تحفة الأشراف: 11927، 18885)، مسند احمد (5/147، 150، 154، 156، 169)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5082- 5084) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَشْعَثَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْأَجْلَحِ، فَلَقِيتُ الْأَجْلَحَ فَحَدَّثَنِي , عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءَ وَالْكَتَمَ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو ، مہندی اور کتم ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5082]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5080 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ". خَالَفَهُ الْجُرَيْرِيُّ، وَكَهْمَسٌ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو ، مہندی اور کتم ہے “ ۔ جریری اور کہمس نے ان کی مخالفت کی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5083]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اجلح کی مخالفت کی ہے، اور دونوں کی سندوں میں انقطاع ہے جو واضح ہے (ان دونوں کی روایتیں آگے آ رہی ہیں)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5081 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ".
عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو ، مہندی اور کتم ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5084]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5081 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، عبداللہ بن بریدہ تابعی ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ كَهْمَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ".
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہتر چیز جس سے تم بڑھاپے کا رنگ بدلو ، مہندی اور کتم ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5085]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5081 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، عبداللہ بن بریدہ تابعی ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: " أَتَيْتُ أَنَا وَأَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اس وقت آپ نے اپنی ڈاڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5086]
💡 وضاحت:
۱؎: آگے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث (نمبر: ۵۰۸۹) میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں اتنے سفید بال تھے ہی نہیں کہ آپ خضاب لگاتے۔ دونوں حدیثوں میں باہم یوں تطبیق دی جاتی ہے کہ واقعی اتنے زیادہ بال تھے نہیں کہ آپ کو ان کے رنگ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی (یعنی بذریعہ خضاب) مگر آپ نے ان کا رنگ تبدیل کیا تاکہ امت کے لیے نمونہ ہو، اس عمل کو انس رضی اللہ عنہ کو دیکھنے کا اتفاق نہ ہو سکا۔ رہی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اگلی حدیث (نمبر: ۵۰۸۸) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیلے رنگ سے اپنے بال رنگتے تھے تو پیلے رنگ کا استعمال بعد میں منسوخ ہو گیا تھا جس کی خبر ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نہیں ہو سکی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1573 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَأَيْتُهُ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے دیکھا کہ آپ اپنی داڑھی میں پیلے رنگ لگائے ہوئے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5087]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1573 (صحیح)
17: بَابُ : الْخِضَابِ بِالصُّفْرَةِ
باب: پیلا (زرد) خضاب لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْخَلُوقِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ بِالْخَلُوقِ، قَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَفِّرُ بِهَا لِحْيَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنَ الصِّبْغِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهَا , وَلَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ بِهَا ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ.
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے تھے ، میں نے کہا : ابوعبدالرحمٰن ! آپ اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے ہیں ؟ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس سے اپنی ڈاڑھی پیلی کرتے تھے ، اور کوئی بھی رنگ آپ کو اس سے زیادہ پسند نہیں تھا ، آپ اس سے اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ اپنی پگڑی بھی رنگتے تھے ۲؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : ابوقتیبہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5088]
💡 وضاحت:
۱؎: خلوق ایک قسم کی خوشبو ہے جو کئی چیز سے بنتی ہے، اس میں ورس اور زعفران بھی شامل ہے۔ ۲؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پیلے رنگ کی اجازت منسوخ ہو جانے کی خبر نہیں مل سکی تھی، پیلا رنگ عورتوں کا رنگ ہونے کے سبب مردوں کے لیے منسوخ کر دیا گیا۔ ۳؎: ابوقتیبہ کی روایت مؤلف کے یہاں آگے آ رہی ہے (حدیث نمبر ۵۲۴۵) اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرنے والے زید بن اسلم کی جگہ عبید ہیں، مؤلف یہی بتار ہے ہیں کہ سائل زید ہیں نہ کہ عبید۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس 18 (4064)، (تحفة الأشراف: 6728)، ویأتی برقم 5118 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَأَلَهُ: هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " لَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ شَيْءٌ فِي صُدْغَيْهِ".
قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب لگایا تھا ؟ کہا : آپ کو اس کی حاجت نہ تھی ، کیونکہ صرف تھوڑی سی سفیدی کان کے پاس تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5089]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المناقب 23 (3550) (وراجع أیضا اللباس 66 (5894)، (تحفة الأشراف: 1398)، مسند احمد (4/192، 251، 266) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَخْضِبُ إِنَّمَا كَانَ الشَّمَطُ عِنْدَ الْعَنْفَقَةِ يَسِيرًا وَفِي الصُّدْغَيْنِ يَسِيرًا، وَفِي الرَّأْسِ يَسِيرًا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خضاب نہیں لگاتے تھے ، کیونکہ تھوڑی سی سفیدی آپ کے ہونٹ کے نیچے تھے ، تھوڑی سی کان کے پاس ڈاڑھی میں اور تھوڑی سی سر میں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5090]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/فضائل29(2341)، (تحفة الأشراف: 1328)، مسند احمد (3/216) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِصَالٍ: الصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ، وَجَرَّ الْإِزَارِ، وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ، وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحَلِّهَا , وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَتَعْلِيقَ التَّمَائِمِ، وَعَزْلَ الْمَاءِ بِغَيْرِ مَحَلِّهِ، وَإِفْسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دس عادتیں ناپسند تھیں : پیلا رنگ لگانا یعنی خلوق ، بڑھاپے کا رنگ بدلنا ۱؎ ، تہبند ( لنگی ) ٹخنے سے نیچے لٹکانا ، سونے کی انگوٹھی پہننا ، چوسر شطرنج کھیلنا ، بے موقع و محل عورتوں کا اجنبیوں کے سامنے بن ٹھن کر نکلنا ، معوذات کے علاوہ دوسرے منتر پڑھنا ، تعویذ لٹکانا ، ناجائز جگہ میں منی بہانا ، بچے کو صحت مند نہ ہونے دینا ، ۲؎ البتہ آپ اسے حرام نہیں کہتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5091]
💡 وضاحت:
۱؎: بڑھاپے کا رنگ بدلنا یعنی انہیں اکھیڑنا یا ان میں کالا خضاب لگانا۔ بچے کو صحت مند نہ ہونے دینا یعنی ایام رضاعت میں بچے کی ماں سے صحبت کرنا۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4222) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الخاتم 3 (4222)، (تحفة الأشراف: 9355)، مسند احمد (3/380، 397، 439) (منکر) (اس کے راوی ’’قاسم‘‘ اور ”عبدالرحمن‘‘ لین الحدیث ہیں)
18: بَابُ : الْخِضَابِ لِلنِّسَاءِ
باب: عورتوں کے خضاب لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مَدَّتْ يَدَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ، فَقَبَضَ يَدَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَدَدْتُ يَدِي إِلَيْكَ بِكِتَابٍ، فَلَمْ تَأْخُذْهُ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَدْرِ أَيَدُ امْرَأَةٍ هِيَ، أَوْ رَجُلٍ؟" قَالَتْ: بَلْ يَدُ امْرَأَةٍ، قَالَ: " لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط دینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ، وہ بولی : اللہ کے رسول ! میں نے ایک خط دینے کے لیے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اسے نہیں لیا ۔ آپ نے فرمایا : ” مجھے نہیں معلوم کہ وہ عورت کا ہاتھ ہے یا مرد کا “ ، میں نے عرض کیا : عورت کا ہاتھ ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخنوں کو مہندی سے رنگا ہوتا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5092]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اس بات کی تاکید معلوم ہوتی ہے کہ عورتوں کو اپنی نسوانیت کی علامت اختیار کئے رہنا چاہیئے اور مردوں سے مشابہت کی کوئی بات اختیار نہیں کرنی چاہیئے اس کی حکمت دراصل اللہ کی تخلیق کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کی بات ہے، اللہ کی خلقت کو بدلنا حرام عمل ہے، اس کی خواہ کوئی صورت ہو، نسوانیت کی علامت کے سلسلے میں بھی خاص خاص مرد اور عورت کے امتیازی علامات کے علاوہ چیزوں میں علاقہ و سماج کے عزت و رواج کا لحاظ کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4166) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الترجل 4 (4164)، (تحفة الأشراف: 17868)، مسند احمد (6/262) (صحیح)
19: بَابُ : كَرَاهِيَةِ رِيحِ الْحِنَّاءِ
باب: مہندی کی بو کی کراہت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: سَمِعْتُ كَرِيمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ , سَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَنْ الْخِضَابِ بِالْحِنَّاءِ؟ قَالَتْ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَلَكِنْ أَكْرَهُ هَذَا لِأَنَّ حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ رِيحَهُ" تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
کریمہ کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا : ان سے کسی عورت نے مہندی لگانے کے بارے میں پوچھا تو وہ بولیں : اس میں کوئی حرج نہیں ، لیکن میں اسے اس لیے ناپسند کرتی ہوں کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو کو ناپسند کرتے تھے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5093]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4164) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الترجل 4 (4164)، (تحفة الأشراف: 17959)، مسند احمد (6/117، 210) (ضعیف) (اس کی راویہ ’’کریمہ‘‘ لین الحدیث ہیں)
20: بَابُ : النَّتْفِ
باب: سفید بال اکھاڑنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، وَأَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَيٍّ، وَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ شُفَيٌّ: إِنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُسَمَّى أَبَا عَامِرٍ، رَجُلٌ مِنْ الْمَعَافِرِ، نُصَلِّي بِإِيلِيَاءَ، وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلًا مِنْ الْأَزْدِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ: فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ: هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرٍ: عَنْ الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ، وَالنَّتْفِ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ أَسْفَلَ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، أَوْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا أَمْثَالَ الْأَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّهْبَى، وَعَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ، وَلُبُوسِ الْخَوَاتِيمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ".
ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر ۱؎ کا تھا دونوں ایلیاء ( بیت المقدس ) میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے ، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ صحابہ میں سے قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک شخص تھے ، میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے ، پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا : آپ نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا ؟ میں نے کہا : نہیں ، وہ بولے : میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے : ” دانت باریک کرنے سے ، گودنا گودنے سے ، ( سفید ) بال اکھیڑنے سے ، دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے ، دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے ، مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے ، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے ، دوسروں کے مال لوٹنے سے ، درندوں کی کھال پر سوار ہونے سے ، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ ( حاکم ) کے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5094]
💡 وضاحت:
۱؎: معافر یمن میں ایک جگہ کا نام ہے۔ ۲؎: اکثر سلف نے صرف زیب و زینت کی خاطر انگوٹھی پہننے سے منع کیا ہے، (کچھ علماء اس ممانعت کو مکروہ تنزیہی قرار دیتے ہیں) بادشاہ، یا بادشاہ کے نائبین جیسے عامل، گورنر، اسی طرح کسی بھی ادارے یا اس کے سربراہ کے لیے اپنی تحریر پر مہر لگانے کی خاطر انگوٹھی کے جواز کے سب قائل ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4049) ابن ماجه (3655) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس 11 (4049)، سنن ابن ماجہ/اللباس 46 (3655)، (تحفة الأشراف: 12039)، مسند احمد (4/134، 135)، سنن الدارمی/الإستئذان 20 (2690)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5113-5115 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ابو عامر معافری لین الحدیث ہیں، لیکن نمبر 5114 کی سند میں ان کا واسطہ نہیں ہے اس لیے اس سند سے یہ روایت صحیح ہے)
21: بَابُ : وَصْلِ الشَّعْرِ بِالْخِرَقِ
باب: بالوں میں دوسرے بال جوڑنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریب کاری ( یعنی اپنے بالوں میں دوسرے بال جوڑنے ) سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5095]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأنبیاء 54 (3488)، اللباس 83 (5938)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2127)، (تحفة الأشراف: 11418)، مسند احمد (4/91، 93، 101)، ویأتی عند المؤلف بأرقام 5248-5250 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَمَعَهُ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ مِنْ كُبَبِ النِّسَاءِ مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ: مَا بَالُ الْمُسْلِمَاتِ يَصْنَعْنَ مِثْلَ هَذَا؟! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَادَتْ فِي رَأْسِهَا شَعْرًا لَيْسَ مِنْهُ فَإِنَّهُ زُورٌ تَزِيدُ فِيهِ".
سعید مقبری کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو منبر پر دیکھا ان کے ساتھ ان کے ہاتھوں میں عورتوں کے بالوں کی ایک چوٹی تھی ، انہوں نے کہا : کیا حال ہے مسلمان عورتوں کا جو ایسا کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس عورت نے اپنے سر میں کوئی ایسا بال شامل کیا جو اس میں کا نہیں ہے تو وہ فریب کرتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5096]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11417) (صحیح)
22: بَابُ : الْوَاصِلَةِ
باب: بال جوڑنے والی عورت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور بال جوڑوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5097]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 83 (5935)، 85 (5941)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2122)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1988)، (تحفة الأشراف: 15747)، مسند احمد (6/111، 345، 346، 353)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5252 (صحیح)
23: بَابُ : الْمُسْتَوْصِلَةِ
باب: بال جوڑوانے والی عورت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ". أَرْسَلَهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی ، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) ولید بن ہشام نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5098]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8107)، ویأتي عند المؤلف: 5253 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَعَنَ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ".
نافع سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی ، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5099]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 83 (5937)، 85 (5940)، 87 (5947)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2124)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4168)، سنن الترمذی/اللباس 25 (1759)، الأدب 33 (2784)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1759)، مسند احمد (2/21)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5251 و 5253 (صحیح) (یہ مرسل ہے لیکن اوپر کی حدیث میں نافع نے اسے ابن عمر سے روایت کیا ہے اس سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی عورت پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5100]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 94 (5205)، اللباس 83 (5934)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2123)، (تحفة الأشراف: 17849)، مسند احمد (6/111، 116، 228) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقٍ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ زَعْرَاءُ أَيَصْلُحُ أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِي؟ فَقَالَ: لَا، قَالَتْ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
مسروق سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا : میرے سر پر بال بہت کم ہیں ، کیا میرے لیے صحیح ہو گا کہ میں اپنے بال میں کچھ بال جوڑ لوں ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، اس نے کہا : کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا کتاب اللہ ( قرآن ) میں ہے ؟ کہا : نہیں ، بلکہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ اور اسے کتاب اللہ ( قرآن ) میں بھی پاتا ہوں … ، اور پھر آگے حدیث بیان کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5101]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9584)، مسند احمد (1/415) (صحیح)
24: بَابُ : الْمُتَنَمِّصَاتِ
باب: منہ کے روئیں اکھاڑنے والی عورتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی ، گودوانے والی ، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی ، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی ، اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5102]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ یہ سارے اعمال ممنوع ہیں اس لیے ان کو کرنے والے اور ان کے کرنے میں مدد دینے والے سب پر لعنت کی گئی ہے، دانتوں میں کشادگی کے لیے، دانتوں کی تراش خراش کرنی پڑتی ہے اور یہ عمل قدرتی دانتوں میں تبدیلی ہے جو اللہ کی تخلیق میں دخل دینا ہے اس لیے یہ عمل بھی ممنوع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیرسورة الحشر 4 (4886)، اللباس 82 (5931)، 84 (5939)، 85 (5943)، 86 (5944)، 87 (5948)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2125)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4169)، سنن الترمذی/الأدب 33 (2782)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1989)، (تحفة الأشراف: 9450)، مسند احمد (1/433، 443، 465)، سنن الدارمی/الإستئذان 19 (2689)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5110- 5112، 5254- 5257 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " الْمُتَفَلِّجَاتِ" , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے ( «متفلجات للحسن» کے بجائے ) صرف «متفلجات» کہا اور حدیث بیان کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5103]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 33 (2125م)، (تحفة الأشراف: 9431)، ویأتي عند المؤلف: بأرقام: 5255، 5257) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَاشِمَةِ، وَالْمُسْتَوْشِمَةِ، وَالْوَاصِلَةِ، وَالْمُسْتَوْصِلَةِ، وَالنَّامِصَةِ، وَالْمُتَنَمِّصَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے ، گودوانے ، بال جوڑنے ، جڑوانے اور بال اکھاڑنے اور اکھڑوانے والی عورتوں کو ایسا کرے کرنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5104]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17975)، مسند احمد (6/257) (صحیح) (اس کی راویہ ’’ام ابان‘‘ لین الحدیث ہیں، نیز ”ابان“ آخر میں مختلط ہو گئے تھے، مگر اس حدیث کے تمام مشمولات کے صحیح شواہد موجود ہیں)
25: بَابُ : الْمُوتَشِمَاتِ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ وَالشَّعْبِيِّ فِي هَذَا
باب: گودوانے والی عورتوں کا بیان اور اس حدیث کی روایت میں عبداللہ بن مرہ اور شعبی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ يُحَدِّثُ , عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ، وَكَاتِبُهُ إِذَا عَلِمُوا ذَلِكَ، وَالْوَاشِمَةُ، وَالْمَوْشُومَةُ لِلْحُسْنِ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ، مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ” سود کھانے والا ، کھلانے والا ، اور اس کا لکھنے والا ۱؎ جب کہ وہ اسے جانتا ہو ( کہ یہ حرام ہے ) اور خوبصورتی کے لیے گودنے اور گودوانے والی عورتیں ، صدقے کو روکنے والا اور ہجرت کے بعد لوٹ کر اعرابی ( دیہاتی ) ہو جانے والا ۲؎ یہ سب قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ملعون ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5105]
💡 وضاحت:
۱؎: سود کھانا اور کھلانا تو اصل گناہ ہے، اور حساب کتاب گناہ میں تعاون کی قبیل سے ہے اس لیے وہ بھی حرام ہے اور موجب لعنت ہے۔ اسی طرح وہ کام جو اس حرام کام میں ممدو معاون ہوں موجب لعنت ہیں۔ ۲؎: یہ اس وقت کے تناظر میں تھا جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ کر ان کی مدد کرنی واجب تھی اور مدینہ کے علاوہ مسلمانوں کا کوئی مرکزی بھی نہیں تھا، اگر دنیا میں کہیں اب بھی ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو دنیاوی منفعت کی خاطر مرکز اسلام کو چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہو جانے کا یہی حکم ہو گا، مگر اب ایسا کہاں؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، حارث الأعور ضعيف،. ولبعض الحديث شواهد صحيحة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9195)، مسند احمد (1/409، 430، 465)، وراجع أیضا: صحیح مسلم/المساقاة 19 (1597)، سنن ابی داود/البیوع 4 (3333)، سنن الترمذی/البیوع 2 (1206)، سنن ابن ماجہ/التجارات 58 (2277)، مسند احمد (1/ 393، 394، 402، 453) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَابْنُ عَوْنٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ". أَرْسَلَهُ ابْنُ عَوْنٍ , وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، اس کا حساب لکھنے والے اور صدقہ نہ دینے والے پر لعنت فرمائی ہے ، نیز آپ نوحہ ( مردے پر چیخ چیخ کر رونے ) سے منع فرماتے تھے ۔ اسے ابن عون و عطا بن سائب نے مرسلاً روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5106]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، حارث الأعور ضعيف،. ولبعض الحديث شواهد صحيحة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10036، 18482)، مسند احمد (1/83، 87، 107، 133، 150، 158)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5107، 5108) (صحیح) (شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”حارث اعور“ ضعیف ہیں۔)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ" , قَالَ: " إِلَّا مِنْ دَاءٍ" , فَقَالَ: " نَعَمْ، وَالْحَالُّ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ، وَمَانِعُ الصَّدَقَةِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ" وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ.
حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے ، سود پر گواہی دینے والے ، سود کا حساب لکھنے والے پر ، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ، الا یہ کہ وہ کسی مرض کی وجہ سے ہو تو آپ نے فرمایا : ” ہاں “ اور آپ نے حلالہ کرنے اور کروانے والے پر ، اور زکاۃ نہ دینے والے پر ( لعنت فرمائی ) اور آپ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے ( نوحہ کے بارے میں ) «لعن» کا لفظ نہیں کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5107]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، حارث الأعور ضعيف،. ولبعض الحديث شواهد صحيحة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ یہ حارث اعور کی مرسل روایت ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ، وَنَهَى عَنِ النَّوْحِ" , وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ صَاحِبَ.
شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے ، سود کی گواہی دینے والے ، سود کا حساب لکھنے والے پر ، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ، اور نوحہ سے منع فرمایا ، ( اس روایت میں حلالہ کرنے والے اور صدقہ کو روکنے والے پر ) لعنت کا ذکر نہیں کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5108]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5106 (صحیح) (یہ روایت بھی مرسل ہے، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پاکر صحیح لغیرہ ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ تَشِمُ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , أَنَا سَمِعْتُهُ , قَالَ: فَمَا سَمِعْتَهُ؟ قُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لَا تَشِمْنَ وَلَا تَسْتَوْشِمْنَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو گودنا گودتی تھی تو انہوں نے کہا : میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، اس سلسلے میں تم میں سے کسی نے کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : چنانچہ میں نے کھڑے ہو کر کہا : امیر المؤمنین ! میں نے سنا ہے ۔ انہوں نے کہا : کیا سنا ہے ؟ میں نے کہا : میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : ” ( اے عورتو ! ) نہ گودو اور نہ گودواؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5109]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 87 (5946)، (تحفة الأشراف: 14909) (صحیح)
26: بَابُ : الْمُتَفَلِّجَاتِ
باب: دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والی عورتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چہرے کے بال اکھاڑنے والی ، دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی اور گودانے والی عورتوں پر لعنت فرماتے ہوئے سنا ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5110]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 9536)، مسند احمد (1/416، 417)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5111، 5112) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بال اکھاڑنے والی ، دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی اور گودوانے والی عورتوں پر لعنت کرتے سنا ، جو اللہ کی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5111]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5110 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے بال اکھاڑنے والی ، گودوانے والی اور دانتوں میں کشادگی کرانے والی عورتوں پر ، جو اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرتی ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5112]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5110 (صحیح)
27: بَابُ : تَحْرِيمِ الْوَشْرِ
باب: دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنے کی حرمت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحِمْيَرِيِّ، أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ يَلْزَمَانِ أَبَا رَيْحَانَةَ يَتَعَلَّمَانِ مِنْهُ خَيْرًا، قَالَ: فَحَضَرَ صَاحِبِي يَوْمًا , فَأَخْبَرَنِي صَاحِبِي , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رَيْحَانَةَ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَرَّمَ الْوَشْرَ، وَالْوَشْمَ، وَالنَّتْفَ".
ابوالحصین حمیری کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتے تھے اور خیر و بھلائی کی باتیں سیکھتے تھے ، ایک دن میرے ساتھی میرے یہاں آئے اور مجھے بتایا کہ انہوں نے ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنے ، گودنے اور بال اکھاڑنے کو حرام قرار دیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5113]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (5094) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5094 (ضعیف) (اس کے ایک راوی مبہم ہیں، اور وہ ابوعامر معافری ہیں جن کی صراحت سابقہ حدیث نمبر میں موجود ہے، یہ لین الحدیث ہیں، لیکن اگلی سند سے یہ روایت متصل اور صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، قَالَ: بَلَغَنَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ".
ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنے اور گودنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5114]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر حديث السابق (5094) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5094 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، قَالَ: بَلَغَنَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ".
ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنے اور گودنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5115]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر حديث السابق (5094) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5094 (صحیح)
28: بَابُ : الْكُحْلِ
باب: سرمہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ، إِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ". أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ لَيِّنُ الْحَدِيثِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہترین سرمہ اثمد ( ایک پتھر ) ہوتا ہے ، وہ نظر تیز کرتا اور بال اگاتا ہے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : عبداللہ بن عثمان بن خثیم لین الحدیث ہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5116]
💡 وضاحت:
۱؎: لیکن دیگر بہت سے أئمہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز بقول حافظ ابن حجر: ایک روایت کے مطابق خود امام نسائی نے ان کی توثیق کی ہے، (دیکھئیے تہذیب التہذیب)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الشمائل 7، سنن ابن ماجہ/الطب 25 (3497)، (تحفة الأشراف: 5535)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 14 (3878)، اللباس 16 (4061)، سنن الترمذی/اللباس 23 (1757)، الطب 9 (2038)، مسند احمد (1/231، 247، 274، 355، 363 (صحیح)
29: بَابُ : الدَّهْنِ
باب: خوشبو (دہن عود) اور تیل کے استعمال کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ سُئِلَ عَنْ شَيْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " كَانَ إِذَا ادَّهَنَ رَأْسَهُ لَمْ يُرَ مِنْهُ، وَإِذَا لَمْ يُدَّهَنْ رُئِيَ مِنْهُ".
سماک کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی سفیدی کے بارے میں پوچھا گیا ، تو انہوں نے کہا : جب آپ اپنے سر میں خوشبو ( دہن عود ) یا تیل لگاتے تو ان بالوں کی سفیدی نظر نہ آتی اور جب نہ لگاتے تو نظر آتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5117]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الفضائل 29 (2344)، سنن الترمذی/الشمائل 5 (39)، (تحفة الأشراف: 2182)، مسند احمد (5/86، 88، 90، 95) (صحیح)
30: بَابُ : الزَّعْفَرَانِ
باب: زعفران کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ بِالزَّعْفَرَانِ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ".
زید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کپڑوں کو زعفران میں رنگتے تھے ۔ ان سے ( اس بارے میں ) کہا گیا ۔ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی رنگتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5118]
💡 وضاحت:
۱؎: دیکھے حاشیہ حدیث نمبر: ۵۰۸۸
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5088 (صحیح الإسناد)
31: بَابُ : الْعَنْبَرِ
باب: عنبر کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ الْمُزَلِّقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَيَّبُ؟ قَالَتْ: " نَعَمْ، بِذِكَارَةِ الطِّيبِ الْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ".
محمد بن علی باقر کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو لگاتے تھے ؟ کہا : ہاں ، مردانہ خوشبو : مشک اور عنبر ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5119]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، عبداﷲ بن عطاء مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17592) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی بکر اور عبداللہ ہاشمی حافظے کے کمزور ہیں)
32: بَابُ : الْفَصْلِ بَيْنَ طِيبِ الرِّجَالِ وَطِيبِ النِّسَاءِ
باب: مرد اور عورت کی خوشبو میں فرق کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْحَفَرِيَّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ، وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ، وَخَفِيَ رِيحُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ چھپا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک چھپی ہو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5120]
💡 وضاحت:
۱؎: مردوں کے لیے رنگلین خوشبو اس لیے منع ہے کہ رنگ عورتوں کی چیز ہے جو مردانہ وجاہت کے خلاف ہے، رنگدار خوشبو جیسے زعفران اور خلوق جس کا تذکرہ حدیث نمبر: ۵۱۲۳ (وما بعدہ) میں آ رہا ہے، سند کے لحاظ سے گرچہ وہ روایتیں ضعیف ہیں مگر اس حدیث سے ان کے معنی کو تقویت حاصل ہو رہی ہے اور عورتوں کے لیے یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب عورت گھر سے باہر نکلے، ورنہ شوہر کے ساتھ گھر میں رہتے ہوئے ہر طرح کی خوشبو استعمال کر سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (2787) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/النکاح 50 (2174)، سنن الترمذی/الأدب 36 (الاستئذان70) (2787)، (تحفة الأشراف: 15486)، مسند احمد (2/447، 540) (حسن) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ الطَّفَاوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَخَفِيَ رِيحُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردوں کی خوشبو وہ ہے کہ جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ چھپا ہو ، عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک چھپی ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5121]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، ضعيف، انظر الحديث السابق (5120) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (حسن لغیرہ) (اس کے راوی ’’طفاوی‘‘ مبہم ہیں)
33: بَابُ : أَطْيَبِ الطِّيبِ
باب: سب سے عمدہ خوشبو کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ اتَّخَذَتْ خَاتِمًا مِنْ ذَهَبٍ وَحَشَتْهُ مِسْكًا"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنی اسرائیل کی ایک عورت نے سونے کی ایک انگوٹھی بنائی اور اس میں مشک بھر دی “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5122]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1906 (صحیح)
34: بَابُ : التَّزَعْفُرِ وَالْخَلُوقِ
باب: زعفران اور خلوق لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ حُكَيْمِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ رَدْعٌ مِنْ خَلُوقٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَانْهَكْهُ" , ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: " اذْهَبْ فَانْهَكْهُ" , ثُمَّ أَتَاهُ , فَقَالَ: " اذْهَبْ فَانْهَكْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ خلوق میں لتھڑا ہوا تھا تو اس سے آپ نے فرمایا : ” جاؤ اور اسے دھو ڈالو “ ، پھر وہ آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا ” : ” جاؤ اسے دھو ڈالو “ ۔ وہ پھر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : ” جاؤ اسے دھو ڈالو ، پھر آئندہ نہ لگانا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5123]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، عمران بن ظبيان: ضعيف، ورمي بالتشيع،تنا قض فيه ابن حبان (تقريب: 5158) وضعفه الجمهور. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12271) (ضعیف) (اس کا راوی عمران بن ظبیان شیعہ اور ضعیف ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو، وَقَالَ عَلَى إِثْرِهِ , يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ لَهُ: " هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ؟" , قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ".
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، اور وہ خلوق لگائے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” کیا تمہاری بیوی ہے ؟ “ کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” تو اسے دھوؤ اور دھوؤ پھر نہ لگانا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5124]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (2816) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأدب 51 (الإستئذان 85) (2816)، (تحفة الأشراف: 11849)، مسند احمد (4/171، 173)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5125-5128) (ضعیف) (اس کا راوی ابو حفص بن عمرو مجہول ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا مُتَخَلِّقًا، قَالَ: " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ".
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خلوق لگائے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ” جاؤ اسے دھو لو ، اور پھر دھو لو اور دوبارہ نہ لگانا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5125]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ يَعْلَى نَحْوَهُ , خَالَفَهُ سُفْيَانُ رَوَاهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى.
اس سند سے بھی یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) سفیان کی روایت اس کے برخلاف ہے ، چنانچہ انہوں نے اسے عطاء بن سائب سے ، انہوں نے عبداللہ بن حفص سے اور انہوں نے یعلیٰ سے روایت کیا ہے ۔ ( عبداللہ بن حفص وہی ابوحفص بن عمرو ہے جو پچھلی سند میں ہے ۔ ) [سنن نسائي/حدیث: 5126]
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5124 (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: أَبْصَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي رَدْعٌ مِنْ خَلُوقٍ، قَالَ: " يَا يَعْلَى , لَكَ امْرَأَةٌ؟" , قُلْتُ: لَا، قَالَ: " اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ"، قَالَ: فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ.
یعلیٰ بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ، مجھ پر خلوق کا داغ لگا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ” یعلیٰ ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” اسے دھو لو ، پھر نہ لگانا ، پھر دھو لو اور نہ لگانا اور پھر دھو لو اور نہ لگانا “ ، میں نے اسے دھو لیا اور پھر نہ لگایا ، میں نے پھر دھویا اور نہ لگایا اور پھر دھویا اور نہ لگایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5127]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، يإسناده ضعيف، تقدم (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5124 (ضعیف) (اس کا راوی عبداللہ بن حفص وہی ابو حفص بن عمرو ہے جو مجہول ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ يَعْقُوبَ الصَّبِيحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُوسَى يَعْنِي مُحَمَّدًا، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ: " أَيْ يَعْلَى , هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ؟" , قُلْتُ: لَا، قَالَ: " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ"، قَالَ: فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ.
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، میں خلوق لگائے ہوئے تھا ، آپ نے فرمایا : ” یعلیٰ ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” جاؤ ، اسے دھوؤ ، پھر دھوؤ اور پھر دھوؤ ، پھر ایسا نہ کرنا “ ، میں گیا اور اسے دھویا پھر دھویا اور پھر دھویا پھر ایسا نہیں کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5128]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5124 (ضعیف)
35: بَابُ : مَا يُكْرَهُ لِلنِّسَاءِ مِنَ الطِّيبِ
باب: عورتوں کے لیے ناپسندیدہ اور مکروہ خوشبو کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ وَهُوَ ابْنُ عُمَارَةَ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا مِنْ رِيحِهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو عورت عطر لگائے اور پھر لوگوں کے سامنے سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5129]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ عطر مہک والا ہو، اور مہک والا عطر لگا کر باہر نکلنا عورتوں کے لیے حرام ہے، گھر میں شوہر کے لیے لگا سکتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الترجل 7 (1473)، سنن الترمذی/الأدب 35 (الاستئذان 69) (2786)، (تحفة الأشراف: 9023)، مسند احمد (4/394، 400، 407، 413، 414، 418) (حسن)
36: بَابُ : اغْتِسَالِ الْمَرْأَةِ مِنَ الطِّيبِ
باب: مسجد جانے سے پہلے عورت نہا دھو کر اپنے جسم سے خوشبو زائل کرے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْهَاشِمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ، وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ صَفْوَانَ غَيْرَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ ثِقَةٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خَرَجَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلْتَغْتَسِلْ مِنَ الطِّيبِ كَمَا تَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ" مُخْتَصَرٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب عورت مسجد کے لیے نکلے تو خوشبو مٹانے کے لیے اس طرح غسل کرے جیسے غسل جنابت کرتی ہے “ ، یہ حدیث مختصر ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5130]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15507)، سنن ابی داود/فی الترجل7(4174)، وسنن ابن ماجہ/فی الفتن19 (4002)، وحم (2/297، 444، 461) بلفظ ’’لا تقبل صلاة لامرأة تطیب للمسجد حتی ترجع فتغسل غسلہا من الجنابة‘‘ (صحیح)
37: بَابُ : النَّهْىِ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَشْهَدَ الصَّلاَةَ إِذَا أَصَابَتْ مِنَ الْبَخُورِ
باب: عورت خوشبو لگا کر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہ جائے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عِيسَى الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَلَى قَوْلِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَقَدْ خَالَفَهُ يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ رَوَاهُ , عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب عورت خوشبو لگائے ہو تو ہمارے ساتھ عشاء کی جماعت میں نہ آئے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے یزید بن خصیفہ کی بسر بن سعید سے روایت کرتے ہوئے «عن ابی ھریرہ» کہنے میں متابعت کی ہو ۔ اس کے برعکس یعقوب بن عبداللہ بن اشج نے اسے روایت کرنے میں «عن زینب الثقفیۃ» کہا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5131]
💡 وضاحت:
۱؎: یزید بن خصیفہ کی روایت صحیح مسلم میں بھی ہے، یہ بالکل ممکن ہے کہ روایت یزید کے پاس دونوں سندوں سے ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 30 (444)، سنن ابی داود/الترجل 7 (4175)، (تحفة الأشراف: 12207)، مسند احمد (2/304)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5265 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَلَا تَمَسَّ طِيبًا".
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جب تم میں سے کوئی عورت عشاء پڑھنے کے لیے ( مسجد ) آئے تو خوشبو نہ لگائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5132]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 30 (443)، (تحفة الأشراف: 15888)، مسند احمد (6/363) ویأتي وبأرقام: 5133- 5137، 5262-5264) (حسن، صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْعِشَاءَ، فَلَا تَمَسَّ طِيبًا". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ يَحْيَى , وَجَرِيرٍ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ وُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں عشاء میں آئے تو خوشبو نہ لگائے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یحییٰ اور جریر کی حدیث وہب بن خالد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے ، واللہ اعلم ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5133]
💡 وضاحت:
۱؎: جریر کی روایت یہی ہے، اور جریر و یحییٰ کی مشترکہ روایت نمبر ۵۲۶۲ پر آ رہی ہے، مؤلف کا مقصد یہ ہے زینب رضی اللہ عنہا کی روایت میں بسر بن سعید سے روایت کرنے والے بکیر کا ہونا یعقوب بن عبداللہ کے بالمقابل زیادہ قرین صواب بات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيَّتُكُنَّ خَرَجَتْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا تَقْرَبَنَّ طِيبًا".
زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں جو کوئی عورت مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5134]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5132 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَهَا أَنْ لَا تَمَسَّ الطِّيبَ إِذَا خَرَجَتْ إِلَى الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ” جب عشاء کے لیے مسجد جائیں تو خوشبو نہ لگائیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5135]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5132 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِم، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا خَرَجَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، فَلَا تَمَسَّ طِيبًا".
زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب عورت عشاء کے لیے مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5136]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5132 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: بَلَغَنِي، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الصَّلَاةَ، فَلَا تَمَسَّ طِيبًا". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی عورت جب نماز کے لیے مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ روایت زہری کی روایت سے غیر محفوظ ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5137]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: بسر سے زہری کا راوی ہونا غیر محفوظ ہے، ان کی جگہ بکیر کا ہونا محفوظ ہے، بہرحال روایت محفوظ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5132 (صحیح)
38: بَابُ : الْبَخُورِ
باب: عود کی دھونی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ أَبُو طَاهِرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ" اسْتَجْمَرَ بِالْأَلُوَّةِ غَيْرَ مُطَرَّاةٍ , وَبِكَافُورٍ يَطْرَحُهُ مَعَ الْأَلُوَّةِ"، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب دھونی لیتے تو کبھی خالص عود کی دھونی جس میں کچھ نہ ملا ہوتا لیتے اور کبھی کافور ملا کر دھونی لیتے ، پھر کہتے کہ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دھونی لیتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5138]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ألفاظ من الأدب 5 (2254)، (تحفة الأشراف: 7605) (صحیح)
39: بَابُ : الْكَرَاهِيَةِ لِلنِّسَاءِ فِي إِظْهَارِ الْحُلِيِّ وَالذَّهَبِ
باب: عورتوں کے لیے زیورات اور سونے کی نمائش ممنوع ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ هُوَ الْمَعَافِرِيُّ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُخْبِرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْنَعُ أَهْلَهُ الْحِلْيَةَ وَالْحَرِيرَ، وَيَقُولُ: " إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ حِلْيَةَ الْجَنَّةِ وَحَرِيرَهَا , فَلَا تَلْبَسُوهَا فِي الدُّنْيَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کو زیورات اور ریشم سے منع فرماتے تھے اور فرماتے : ” اگر تم لوگ جنت کے زیورات اور اس کا ریشم چاہتے ہو تو اسے دنیا میں نہ پہنو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5139]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب میں مذکور بعض احادیث میں عورتوں کے لیے بھی سونے کے استعمال کو حرام بتایا گیا ہے، مؤلف نیز جمہور أئمہ عورتوں کے لیے سونے کے مطلق استعمال کے جواز کے قائل ہیں، اس لیے مؤلف نے ان احادیث کی گویا ایک طرح سے تاویل کرتے ہوئے یہ باب باندھا ہے، یعنی: ان احادیث میں جو عورتوں کے لیے سونے کے زیورات کو حرام قرار دیا گیا ہے، وہ اس صورت میں ہے جب وہ ان کو پہن کر بطور فخر و مباہات کی نمائش کرتی پھریں، ورنہ ہر طرح کا سونے کا زیور عورتوں کے لیے حلال ہے، بعض علماء ان احادیث کو اس حدیث سے منسوخ مانتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا اور ریشم کو مردوں کے لیے حرام کر دیا گیا ہے، اور عورتوں کے حلال کر دیا گیا ہے، اس حدیث میں کوئی قید نہیں کہ سونے کا زیور حلقہ دار ہو یا ٹکڑے والا، علامہ البانی نے دونوں طرح کی احادیث میں تطبیق کی راہ یہ نکالی ہے (جس کی تائید بعض احادیث سے بھی ہوتی ہے) کہ عورتوں کے لیے حلقہ دار سونے کا زیور (جیسے کنگن، بالی اور انگوٹھی وغیرہ) حرام ہے، ہاں ٹکڑے ٹکڑے والا زیور حلال ہے جیسے بٹن، ٹپ، اور ایسا ہار جس کا بعض حصہ دھاگہ ہو، وغیرہ وغیرہ، احتیاط علامہ البانی کے قول ہی میں ہے۔ (ملاحظہ ہو: آداب الزفاف للألبانی)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9920)، مسند احمد (4/145) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ امْرَأَتِهِ، عَنْ أُخْتِ حُذَيْفَةَ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ , أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ، أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ امْرَأَةٍ تَحَلَّتْ ذَهَبًا تُظْهِرُهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا تو فرمایا : ” اے عورتوں کی جماعت ! کیا تم چاندی کا زیور نہیں بنا سکتیں ؟ دیکھو ، تم میں سے جو عورت دکھانے کے لیے سونے کا زیور پہنے گی اسے عذاب ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5140]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4237) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الخاتم 8 (4237)، (تحفة الأشراف: 18043، 18386)، مسند احمد (6/357، 358، 369)، سنن الدارمی/الاستئذان 17 (2687) (ضعیف) (اس کی راویہ ’’ربعی کی اہلیہ‘‘ مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا، يُحَدِّثُ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ امْرَأَتِهِ، عَنْ أُخْتِ حُذَيْفَةَ، قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ , أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن کہتی ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب کیا اور فرمایا : ” اے عورتوں کی جماعت ! کیا تم چاندی کا زیور نہیں بنا سکتیں ، دیکھو ، تم میں سے جو عورت دکھانے کے لیے سونے کا زیور پہنے گی اسے عذاب ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5141]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4237) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (ضعیف)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ عَمْرٍو، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ حَدَّثَتْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَحَلَّتْ , يَعْنِي بِقِلَادَةٍ مِنْ ذَهَبٍ جُعِلَ فِي عُنُقِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أُذُنِهَا مِثْلَهُ خُرْصًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو عورت سونے کا ہار پہنے گی اللہ تعالیٰ اس کی گردن میں اسی جیسا آگ کا ہار پہنائے گا ، اور جو کان میں سونے کی بالیاں پہنے گی ، اللہ تعالیٰ اس کے کان میں اسی جیسی آگ کی بالیاں قیامت کے دن پہنائے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5142]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4238) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الخاتم 8 (4238)، (تحفة الأشراف: 15776)، مسند احمد (6/453، 457، 458) (ضعیف) (اس کے راوی ’’محمود‘‘ لین الحدیث ہیں)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِير، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، قَالَ: جَاءَتْ بِنْتُ هُبَيْرَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي يَدِهَا فَتَخٌ، فَقَالَ: كَذَا فِي كِتَابِ أَبِي , أَيْ: خَوَاتِيمُ ضِخَامٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُ يَدَهَا , فَدَخَلَتْ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهَا الَّذِي صَنَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَزَعَتْ فَاطِمَةُ سِلْسِلَةً فِي عُنُقِهَا مِنْ ذَهَبٍ، وَقَالَتْ: هَذِهِ أَهْدَاهَا إِلَيَّ أَبُو حَسَنٍ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالسِّلْسِلَةُ فِي يَدِهَا، فَقَالَ: " يَا فَاطِمَةُ , أَيَغُرُّكِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ وَفِي يَدِهَا سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ؟" , ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ فَأَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ بِالسِّلْسِلَةِ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَتْهَا , وَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا غُلَامًا، وَقَالَ: مَرَّةً عَبْدًا وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا فَأَعْتَقَتْهُ فَحُدِّثَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْجَى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنت ہبیرہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، ان کے ہاتھ میں بڑی بڑی انگوٹھیاں تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاتھ پر مارنے لگے ، وہ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئیں تاکہ ان سے اس برتاؤ کا گلہ شکوہ کریں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ کیا تھا ، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گلے کا سونے کا ہار نکالا اور بولیں : یہ مجھے ابوالحسن ( علی ) نے تحفہ دیا تھا ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور ہار ان کے ہاتھ ہی میں تھا ، آپ نے فرمایا : ” فاطمہ ! تمہیں یہ بات پسند ہے کہ لوگ کہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور ہاتھ میں آگ کی زنجیر ؟ “ ، پھر آپ بیٹھے نہیں چلے گئے ، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہار بازار بھیج کر اسے بیچ دیا اور اس کی قیمت سے ایک غلام ( لڑکا ) خریدا اور اسے آزاد کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” شکر ہے اللہ کا جس نے فاطمہ کو آگ سے نجات دی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5143]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2110)، مسند احمد (5/278) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: جَاءَتْ بِنْتُ هُبَيْرَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا فَتَخٌ مِنْ ذَهَبٍ , أَيْ: خَوَاتِيمُ ضِخَامٌ نَحْوَهُ.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہبیرہ کی صاحب زادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، ان کے ہاتھ میں سونے کی موٹی موٹی انگوٹھیاں تھیں ، پھر آگے اسی طرح بیان کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5144]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ. ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: " سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , طَوْقٌ مِنْ ذَهَبٍ , قَالَ: " طَوْقٌ مِنْ نَارٍ"، قَالَتْ: قُرْطَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ , قَالَ: " قُرْطَيْنِ مِنْ نَارٍ"، قَالَ: وَكَانَ عَلَيْهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَمَتْ بِهِمَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا لَمْ تَتَزَيَّنْ لِزَوْجِهَا صَلِفَتْ عِنْدَهُ، قَالَ: " مَا يَمْنَعُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَصْنَعَ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تُصَفِّرَهُ بِزَعْفَرَانٍ، أَوْ بِعَبِيرٍ". اللَّفْظُ لِابْنِ حَرْبٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میرے پاس سونے کے دو کنگن ہیں ، آپ نے فرمایا : ” آگ کے دو کنگن ہیں “ وہ بولی : اللہ کے رسول ! سونے کا ہار ہے ، آپ نے فرمایا ” آگ کا ہار ہے “ ، وہ بولی : سونے کی دو بالیاں ہیں ، آپ نے فرمایا : ” آگ کی دو بالیاں ہیں “ ، اس عورت کے پاس سونے کے دو کنگن تھے ، اس نے انہیں اتار کر پھینک دئیے اور بولی : اگر عورت اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگار نہ کرے تو وہ اس کے لیے پھر کس کام کی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں چاندی کی بالیاں بنانے پھر اسے زعفران یا عبیر سے پیلا کرنے سے کون سی چیز مانع ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5145]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو زيد مجهول (تقريب: 8111) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14934)، مسند احمد (2/440) (ضعیف) (اس کے راوی ابو زید صاحب ابی ہریرہ مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَيْهَا مَسَكَتَيْ ذَهَبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا؟ لَوْ نَزَعْتِ هَذَا وَجَعَلْتِ مَسَكَتَيْنِ مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ صَفَّرْتِهِمَا بِزَعْفَرَانٍ كَانَتَا حَسَنَتَيْنِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کی پازیب پہنے دیکھا ، تو فرمایا : ” میں تمہیں اس سے بہتر چیز بتاتا ہوں ، تم اسے اتار دو اور چاندی کی پازیب بنا لو ، پھر انہیں زعفران سے رنگ کر پیلا کر لو ، یہ بہتر ہے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ حدیث محفوظ نہیں ہے ۔ واللہ اعلم ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5146]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، الزهري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16575) (صحیح)
40: بَابُ : تَحْرِيمِ الذَّهَبِ عَلَى الرِّجَالِ
باب: مردوں کے لیے سونا استعمال کرنے کی حرمت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ ابْنِ زُرَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ، وَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا ، اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا ، پھر فرمایا : ” یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5147]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان دونوں کا استعمال مردوں کے لیے حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس 14 (4057)، سنن ابن ماجہ/اللباس 19 (3595)، (تحفة الأشراف: 10183)، مسند احمد (1/115)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5148-4850) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ، عَنْ رَجُلٍ مَنْ هَمْدَانَ يُقَالُ لَهُ: أَبُو صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ زُرَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا , فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ، وَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے دائیں ہاتھ میں رکھا ، سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا پھر فرمایا : ” یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5148]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هَمْدَانَ يُقَالُ لَهُ: أَفْلَحُ , عَنْ ابْنِ زُرَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا , يَقُولُ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ، وَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَحَدِيثُ ابْنِ الْمُبَارَكِ أَوْلَى بِالصَّوَابِ، إِلَّا قَوْلَهُ: أَفْلَحَ فَإِنَّ أَبَا أَفْلَحَ أَشْبَهُ , وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا ، اور سونا لے کر اسے اپنے بائیں ہاتھ میں رکھا ، پھر فرمایا : ” یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : ابن مبارک کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے سوائے ان کے قول ” افلح “ کے ، اس لیے کہ ” ابو افلح “ زیادہ صحیح ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5149]
💡 وضاحت:
۱؎: مولف کا مقصد یہ ہے کہ اس حدیث کی سند میں لیث بن سعد سے روایت کرنے والے پہلے عبداللہ بن مبارک کا ہونا بمقابلہ دوسروں کے زیادہ صواب ہے۔ (جیسا کہ اس سند میں ہے) مگر ابن مبارک سے ابو افلح کے بارے میں وہم ہو گیا ہے، صحیح ابوافلح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5147 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ، عَنْ أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبًا بِيَمِينِهِ، وَحَرِيرًا بِشِمَالِهِ، فَقَالَ: " هَذَا حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا لیا اور بائیں ہاتھ میں ریشم ، پھر فرمایا : ” یہ میری امت کے مردوں پر حرام ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5150]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5147 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُحِلَّ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ لِإِنَاثِ أُمَّتِي، وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5151]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 1 (1720)، (تحفة الأشراف: 8998)، مسند احمد (4/394، 407) ویأتي عند المؤلف برقم: 5267 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا". خَالَفَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ رَوَاهُ , عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ.
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور سونا پہننے سے منع فرمایا مگر جب «مقطع» یعنی تھوڑا اور معمولی ہو ( یا ٹکڑے ٹکڑے ہو ) ۱؎ ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) عبدالوہاب نے سفیان کے برخلاف اس حدیث کو خالد سے ، خالد نے میمون سے اور میمون نے ابوقلابہ سے روایت کیا ہے ، ( یعنی : سند میں ایک راوی ” میمون “ کا اضافہ کیا ہے ) [سنن نسائي/حدیث: 5152]
💡 وضاحت:
۱؎: «مقطع» کی ایک تفسیر «یسیر» (یعنی کم) بھی ہے، جب یہ معنی ہو تو یہ رخصت و اجازت عورتوں کے لیے ہے، مردوں کے لیے سونا مطلقا حرام ہے چاہے تھوڑا ہو یا زیادہ۔ عورتوں کے لیے جنس سونا حرام نہیں سونے کی اتنی مقدار جس میں زکاۃ واجب نہیں وہ اپنے استعمال میں لا سکتی ہیں، البتہ اس سے زائد مقدار ان کے لیے بھی مناسب نہیں کیونکہ بسا اوقات بخل کے سبب وہ زکاۃ نکالنے سے گریز کرنے لگتی ہیں جو ان کے گناہ اور حرج میں پڑ جانے کا سبب بن جاتا ہے، اور «مقطع» کا دوسرا معنی ریزہ ریزہ کا بھی ہے، اس کے لیے دیکھئیے حدیث نمبر ۵۱۳۹ کا حاشیہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الخاتم 8 (4239)، (تحفة الأشراف: 11421)، مسند احمد (4/92، 93) (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”میمون“ لین الحدیث ہیں، اور ”ابو قلابہ‘‘ کا معاویہ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا، وَعَنْ رُكُوبِ الْمَيَاثِرِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ، مگر ریزہ ریزہ کر کے اور سرخ گدوں پر بیٹھنے سے ( بھی منع فرمایا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5153]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ , أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ , وَعِنْدَهُ جَمْعٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا" , قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ.
ابوشیخ سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ان کے پاس کے صحابہ کرام کی ایک جماعت بھی تھی ، انہوں نے کہا : کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے مگر ریزہ ریزہ کر کے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5154]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/المناسک 23 (1794)، (تحفة الأشراف: 11456)، مسند احمد (4/92، 95، 98، 99)، ویأتي عندالمؤلف برقم: (5162) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ مُعَاوِيَةَ , فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ , إِذْ جَمَعَ رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا" , قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، خَالَفَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَلَى اخْتِلَافٍ بَيْنَ أَصْحَابِهِ عَلَيْهِ.
ابوشیخ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ حج میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، اسی دوران انہوں نے صحابہ کرام کی ایک جماعت اکٹھا کی اور ان سے کہا : کیا آپ کو نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ مگر ریزہ ریزہ کر کے ۔ لوگوں نے کہا : جی ہاں ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) یحییٰ بن ابی کثیر نے مطر کے خلاف روایت کی ہے جب کہ یحییٰ بن ابی کثیر کے شاگرد خود ان سے روایت کرنے میں مختلف ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5155]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو شَيْخٍ الْهُنَائِيُّ، عَنْ أَبِي حِمَّانَ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ عَامَ حَجَّ جَمَعَ نَفَرًا مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُمْ: أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ: " أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ"؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ، خَالَفَهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ رَوَاهُ , عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي شَيْخٍ، عَنْ أَخِيهِ حِمَّانَ.
ابوحمّان سے روایت ہے کہ جس سال معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا ، اس سال کعبے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ کو جمع کر کے کہا : میں آپ کو قسم دیتا ہوں ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ۔ وہ بولے : میں بھی اس کا گواہ ہوں ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) حرب بن شداد نے اسے علی بن مبارک کے خلاف روایت کرتے ہوئے «عن یحییٰ عن ابی شیخ عن أخیہ» حمان کہا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5156]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5152 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو شَيْخٍ، عَنْ أَخِيهِ حِمَّانَ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ عَامَ حَجَّ جَمَعَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُمْ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ , هَلْ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ لُبُوسِ الذَّهَبِ"؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ. خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَلَى اخْتِلَافِ أَصْحَابِهِ عَلَيْهِ فِيهِ.
ابوشیخ کے بھائی حمان سے روایت ہے کہ جس سال معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا ، صحابہ کرام کی ایک جماعت کو کعبے میں اکٹھا کر کے ان سے کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ، انہوں نے کہا : میں بھی اس کا گواہ ہوں ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) اوزاعی نے حرب بن شداد کے خلاف روایت کی ہے جب کہ خود اوزاعی کے شاگرد ان سے روایت کرنے میں مختلف ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5157]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5156 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو شَيْخٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حِمَّانُ، قَالَ: حَجَّ مُعَاوِيَةُ فَدَعَا نَفَرًا مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ , أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى عَنِ الذَّهَبِ"؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ.
حمان بیان کرتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو انصار کے کچھ لوگوں کو کعبے میں بلا کر کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ۔ کیا آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونا سے منع فرماتے نہیں سنا ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ۔ وہ بولے : اور میں بھی اس کا گواہ ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5158]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5156 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي حِمَّانُ، قَالَ: حَجَّ مُعَاوِيَةُ فَدَعَا نَفَرًا مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْكَعْبَةِ , فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ , أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الذَّهَبِ"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ.
حمان کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو کعبہ میں انصار کے کچھ لوگوں کو بلا کر کہا : میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، کیا آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونا سے منع فرماتے نہیں سنا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، وہ بولے : اور میں بھی اس کا گواہ ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5159]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5156 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
وَأَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، عَنْ عُقْبَةَ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي حِمَّانَ، قَالَ: حَجَّ مُعَاوِيَةُ فَدَعَا نَفَرًا مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الذَّهَبِ"؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ.
ابوحمان کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا ، تو انصار کے کچھ لوگوں کو کعبے میں بلا کر کہا : میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونا سے منع فرماتے نہیں سنا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ وہ بولے : اور میں بھی اس کا گواہ ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5160]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5156 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي حِمَّانُ، قَالَ: حَجَّ مُعَاوِيَةُ، فَدَعَا نَفَرًا مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ , أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْهَى عَنِ الذَّهَبِ"؟، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عُمَارَةُ أَحْفَظُ مِنْ يَحْيَى , وَحَدِيثُهُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ.
حمان بیان کرتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا ، اور انصار کے کچھ لوگوں کو کعبے میں بلا کر کہا : میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ! کیا آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونا سے منع فرماتے نہیں سنا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ وہ بولے : اور میں بھی اس کا گواہ ہوں ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : عمارہ یحییٰ ( یحییٰ بن حمزہ ) سے حفظ میں زیادہ پختہ ہیں اور ان کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5161]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یحییٰ بن ابی کثیر اور حمان کے درمیان ابواسحاق کا واسطہ اولیٰ و انسب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5156 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَيْهَسُ بْنُ فَهْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شَيْخٍ الْهُنَائِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُمْ: " أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ"؟ فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: " وَنَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا"، قَالُوا: نَعَمْ. خَالَفَهُ عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ رَوَاهُ , عَنْ بَيْهَسٍ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا ، ان کے اردگرد مہاجرین و انصار کے کچھ لوگ تھے ، معاویہ نے ان سے کہا : کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، وہ بولے : اور سونا پہننے سے منع فرمایا ہے ، مگر جب «مقطع» ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہاں ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) علی بن غراب نے نضر بن شمیل کے خلاف اس حدیث کو بیھس سے انہوں نے ابوشیخ سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5162]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5156 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَيْهَسُ بْنُ فَهْدَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو شَيْخٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ، إِلَّا مُقَطَّعًا". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ النَّضْرِ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ , وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ابوشیخ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ وہ «مقطع» ہو ( تو جائز ہے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : نضر کی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ۔ ( یعنی : بیھس کی سند سے بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہونا زیادہ صواب ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5163]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8588) (صحیح)
41: بَابُ : مَنْ أُصِيبَ أَنْفُهُ هَلْ يَتَّخِذُ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ
باب: کیا جس کی ناک کٹ جائے وہ سونے کی ناک لگوا سکتا ہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ، عَنْ جَدِّهِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ، أَنَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ , فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ ," فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ".
عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جنگ کلاب کے دن ان کی ناک کٹ گئی ، تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوا لی ، پھر اس میں بدبو آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کا حکم دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5164]
💡 وضاحت:
۱؎: کلاب ایک چشمے یا کنویں کا نام ہے، زمانہ جاہلیت میں اس کے پاس ایک عظیم جنگ لڑی گئی تھی۔ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے علماء نے بوقت حاجت سونے کی ناک بنوانے اور دانتوں کو سونے کے تار سے باندھنے کو مباح قرار دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الخاتم 7 (4232، 4233)، سنن الترمذی/اللباس 31 (1770)، (تحفة الأشراف: 9895)، مسند احمد (5/13، 23) (حسن)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ كُرَيْبٍ، قَالَ: وَكَانَ جَدُّهُ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَأَى جَدَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ فِضَّةٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ , فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَهُ مِنْ ذَهَبٍ".
عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ جاہلیت میں جنگ کلاب کے دن ان کے دادا ( عرفجہ بن اسد رضی اللہ عنہ ) کی ناک کٹ گئی ، تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوائی ، پھر اس میں بدبو آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ سونے کی ناک بنوا لیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5165]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (حسن)
42: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ لِلرِّجَالِ
باب: مردوں کو سونے کی انگوٹھی پہننے کی اجازت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِصُهَيْبٍ: " مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ خَاتَمَ الذَّهَبِ؟ قَالَ: قَدْ رَآهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ فَلَمْ يَعِبْهُ، قَالَ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھتا ہوں ؟ انہوں نے کہا : اسے تو انہوں نے بھی دیکھا ہے جو آپ سے بہتر تھے ، لیکن اسے معیوب نہیں سمجھا ۔ پوچھا : وہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5166]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث منکر ہے، کیونکہ عطاء خراسانی مدلس ہیں اور عنعنہ کے ساتھ روایت کی ہے، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، عطاء الخراساني عنعن (وكان يدلس،انظر تقريب التهذيب: 4600 والفتح المبين فى تحقيق طبقات المدلسين ص 215 رقم 50 طبع جديد) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4961) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”عطاء خراسانی‘‘ مدلس اور حافظہ کے کمزور ہیں)
43: بَابُ : خَاتَمِ الذَّهَبِ
باب: سونے کی انگوٹھی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ الذَّهَبِ، فَلَبِسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ وَإِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا"، فَنَبَذَهُ، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی ، پھر اسے پہنا ، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھی بنوائی ، آپ نے فرمایا : ” میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا لیکن اب کبھی نہیں پہنوں گا “ اور اسے پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5167]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7145)، مسند احمد (2/109)، ویأتي عند المؤلف برقم: (5277) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ، وَعَنِ الْجِعَةِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی ، ریشم ، سرخ گدیوں اور گیہوں یا جو کی شراب سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5168]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس 11 (4051)، سنن الترمذی/الأدب 45 (2808)، سنن ابن ماجہ/اللباس 46 (3654)، (تحفة الأشراف: 10304)، مسند احمد (1/93، 409، 127، 137)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: (5169، 5170) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی ، ریشمی کپڑے اور سرخ زین ( گدے ) کے استعمال سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5169]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5168 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هُبَيْرَةَ، سَمِعَهُ مِنْ عَلِيّ يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ، وَعَنِ الثِّيَابِ الْقَسِّيَّةِ، وَعَنِ الْجِعَةِ شَرَابٌ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ، وَالْحِنْطَةِ". وَذَكَرَ مِنْ شِدَّتِهِ خَالَفَهُ عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ رَوَاهُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صَعْصَعَةَ، عَنْ عَلِيٍّ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے چھلوں ، سرخ زین ، ریشمی کپڑے اور جعہ سے منع فرمایا ، جعہ ایک قسم کی شراب ہے جو جو اور گیہوں سے بنائی جاتی ہے ۔ اور راوی نے اس کی شدت ( تیزی ) کا ذکر کیا ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) عمار بن رزیق نے اس حدیث کو زہیر کے برخلاف ابواسحاق سے ، ابواسحاق نے صعصعہ سے ، اور صعصہ نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5170]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5168 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ صُوحَانَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ، وَالْجِعَةِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الَّذِي قَبْلَهُ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کے چھلوں ، ریشمی کپڑوں ، سرخ زین ، جَو اور گیہوں کے شراب سے منع فرمایا ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : اس سے پہلی حدیث زیادہ قرین صواب ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5171]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ابواسحاق کا ہبیرہ سے اور ان کا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا اولیٰ و انسب ہے بمقابلہ: عن ابی اسحاق عن صعصعہ عن علی رضی اللہ عنہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10130، 10260)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5172- 5174، 5614، 5615) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ صُوحَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ: انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَهَانِي عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَحَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَلُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ".
صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ہمیں منع فرمایئے اس چیز سے جس سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ، وہ بولے : مجھے منع فرمایا : کدو سے بنے اور سبز رنگ کے برتن سے ، سونے کے چھلے ، ریشمی لباس اور حریر اور سرخ زین کے استعمال سے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5172]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5171 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل هُوَ ابْنُ سُمَيْعٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَ: انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْجِعَةِ، وَنَهَانَا عَنْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَلُبْسِ الْحَرِيرِ، وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ".
مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ صعصعہ بن صوحان نے علی رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر عرض کیا : آپ ہمیں اس چیز سے منع کریں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو منع فرمایا ہے ، کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو سے بنے ، سبز رنگ والے اور کھجور کی لکڑی سے بنے برتنوں کے استعمال سے اور جَو اور گیہوں کی شراب پینے سے منع فرمایا اور ہمیں سونے کے چھلے ، ریشم اور حریر کے لباس اور سرخ زین کے استعمال سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5173]
💡 وضاحت:
۱؎: «دبّاء» : کدو سے بنا ہوا برتن، حنتم: سبز رنگ کا برتن جس میں نبیذ بناتے ہیں، «نقیر» : کھجور کی جڑ کی لکڑی کھود کر بنایا ہوا برتن، «مزفت» : رنگ کیا ہوا برتن، ان برتنوں سے متعلق نہی منسوخ ہے، ممکن ہے علی رضی اللہ عنہ کو اس کے منسوخ ہونے کا علم نہ ہو سکا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5171 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قَتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ لِعَلِيّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْجِعَةِ، وَعَنْ حِلَقِ الذَّهَبِ، وَلُبْسِ الْحَرِيرِ، وَعَنِ الْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثُ مَرْوَانَ , وَعَبْدِ الْوَاحِدِ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ.
مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ صعصعہ بن صوحان نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ امیر المؤمنین ! ہمیں اس چیز سے منع فرمائیے جس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو منع فرمایا تو وہ بولے : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو سے بنے ، اور سبز رنگ والے برتن کے استعمال سے اور جو اور گیہوں سے بنی شراب کے پینے سے ، سونے کے چھلے ، ریشمی لباس اور سرخ زین کے استعمال سے منع فرمایا ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : مروان اور عبدالواحد کی روایت ( نمبر ۵۱۷۳ و ۵۱۷۴ ) اسرائیل کی روایت ( نمبر ۵۱۷۲ ) سے زیادہ قرین صواب ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5174]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5171 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: حَدَّثَنَا , قَال عُثْمَانُ: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَانِي حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ: لَا أَقُولُ نَهَى النَّاسَ، " نَهَانِي عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنِ الْمُعَصْفَرِ الْمُفَدَّمَةِ، وَلَا أَقْرَأُ سَاجِدًا وَلَا رَاكِعًا". تَابَعَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں سے منع فرمایا ، میں یہ نہیں کہتا کہ آپ نے لوگوں کو منع فرمایا ، بلکہ مجھے منع فرمایا : سونے کی انگوٹھی پہننے سے ، ریشمی لباس پہننے سے ، زرد رنگ سے جو چمکیلا اور لال ہو ، اور رکوع و سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ۱؎ ۔ ضحاک بن عثمان نے داود بن قیس کی متابعت کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5175]
💡 وضاحت:
۱؎: قرآن نہ پڑھنے کی بات مرد عورت سب کے لیے عام ہے، بقیہ باتوں میں مخاطب صرف مرد ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1042 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَقُولُ: نَهَاكُمْ , عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْمُفَدَّمِ، وَالْمُعَصْفَرِ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ رَاكِعًا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ، میں نہیں کہتا کہ تمہیں بھی منع فرمایا : سونے کی انگوٹھی پہننے سے ، ریشمی کپڑا پہننے سے ، سرخ اور چمکیلے لباس پہننے سے اور زرد رنگ کا لباس پہننے سے ، اور رکوع ( نیز سجدہ ) کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5176]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1042 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا , يَقُولُ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقِرَاءَةِ وَأَنَا رَاكِعٌ , وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ، وَالْمُعَصْفَرِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ، اور سونا اور زرد رنگ کا لباس پہننے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5177]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1044 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا , يَقُولُ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ , عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَالْمُعَصْفَرِ، وَأَنْ لَا أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع فرمایا : سونے کی انگوٹھی ، ریشمی کپڑے اور زرد رنگ کے کپڑے کے استعمال سے اور اس بات سے کہ میں رکوع میں قرآن پڑھوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5178]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1044 (حسن، صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ بْنِ سُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى عَلِيّ , عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْمُعَصْفَرِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے ، زرد رنگ کا لباس پہننے اور ریشمی لباس پہننے سے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5179]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10021) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَلِيًّا , قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَالْمُعَصْفَرِ، وَعَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑے پہننے ، زرد رنگ کے لباس پہننے اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5180]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1044 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنْ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ، وَعَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ". وَوَافَقَهُ أَيُّوبُ , إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُسَمِّ الْمَوْلَى.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار باتوں سے منع فرمایا : سونے کی انگوٹھی پہننے ، ریشمی کپڑے پہننے ، اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے ، اور زرد رنگ کا لباس پہننے سے ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں ) ایوب نے عبیداللہ کی موافقت کی ہے مگر انہوں نے مولیٰ کا نام ذکر نہیں کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5181]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1044 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ مَوْلًى لِلْعَبَّاسِ , أَنَّ عَلِيًّا، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَعَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ، وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زرد رنگ کے لباس ، ریشمی کپڑے اور سونے کی انگوٹھی پہننے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5182]
💡 وضاحت:
۱؎: یحییٰ بن ابی کثیر کے چار شاگرد ہیں اور یہ چاروں کے چاروں یحییٰ کے شیوخ کے ذکر کرنے میں مختلف ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1044 (صحیح)
43: بَابُ : الاِخْتِلاَفِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِيهِ
باب: حدیث مذکور میں یحییٰ بن ابی کثیر کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ الْفَدَكِيُّ , أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ حُنَيْنٍ، أَنَّ عَلِيًّا حَدَّثَهُ , قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثِيَابِ الْمُعَصْفَرِ، وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ". خَالَفَهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زرد رنگ کے کپڑے ، سونے کی انگوٹھی اور ریشمی کپڑے پہننے اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں ) لیث بن سعد نے عمرو بن سعید کے برخلاف روایت کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5183]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1044 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ بَعْضِ مَوَالِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَلِيٍّ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُعَصْفَرِ، وَالثِّيَابِ الْقَسِّيَّةِ، وَعَنْ أَنْ يَقْرَأَ وَهُوَ رَاكِعٌ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زرد رنگ سے ، ریشمی کپڑے سے ، اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5184]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1044 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ، … پھر پوری حدیث بیان کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5185]
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1044 (صحیح) (یحییٰ ابن ابی کثیر کی ملاقات علی رضی الله عنہ سے نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے)
44: بَابُ : حَدِيثِ عَبِيدَةَ
باب: عبیدہ کی روایت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَسِّيِّ، وَالْحَرِيرِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ، وَأَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا". خَالَفَهُ هِشَامٌ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑوں ، ریشم ، سونے کی انگوٹھی سے اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں ) ہشام نے اشعث کے برخلاف غیر مرفوع روایت کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5186]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1041 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " نَهَى عَنْ مَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ، وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے لال زین ، ریشمی کپڑوں اور سونے کی انگوٹھی استعمال کرنے سے منع کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5187]
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف والأصح الرفع
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1041 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، قَالَ: " نَهَى عَنْ مَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ، وَخَوَاتِيمِ الذَّهَبِ".
عبیدہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سرخ زین اور سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5188]
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع والمرفوع هو الأصح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1041 (صحیح)
45: بَابُ : حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالاِخْتِلاَفِ عَلَى قَتَادَةَ
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اور قتادہ کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ الْحَجَّاجِ هُوَ ابْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5189]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 45 (5864)، صحیح مسلم/اللباس 11 (2089)، (تحفة الأشراف: 12214)، مسند احمد (2/468)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5275 و5276 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ اللَّيْثِيُّ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى عِمْرَانَ أَنَّهُ حَدَّثَنَا، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَعَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنَاتِمِ".
عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے ، سونے کی انگوٹھی پہننے اور ہرے یا لال برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5190]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 13 (1738)، (تحفة الأشراف: 10818)، مسند احمد (4/428، 443) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ , أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " إِنَّكَ جِئْتَنِي وَفِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نجران سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا ، آپ نے اس سے منہ پھیر لیا اور فرمایا : ” تم میرے پاس اپنے ہاتھ میں جہنم کی آگ کا انگارہ لے کر آئے ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5191]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4042 ألف)، مسند احمد (3/14)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5209 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِخْصَرَةٌ , أَوْ جَرِيدَةٌ , فَضَرَبَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " أَلَا تَطْرَحُ هَذَا الَّذِي فِي إِصْبَعِكَ؟" فَأَخَذَهُ الرَّجُلُ، فَرَمَى بِهِ , فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: " مَا فَعَلَ الْخَاتَمُ؟" قَالَ: رَمَيْتُ بِهِ، قَالَ: " مَا بِهَذَا أَمَرْتُكَ إِنَّمَا أَمَرْتُكَ أَنْ تَبِيعَهُ، فَتَسْتَعِينَ بِثَمَنِهِ". وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، وہ سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چھڑی تھی یا ٹہنی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کی انگلی پر مارا ۔ اس شخص نے کہا : کیا وجہ ہے اللہ کے رسول ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا تم اسے نہیں پھینکو گے جو تمہارے ہاتھ میں ہے ؟ “ چنانچہ اس شخص نے اسے نکال کر پھینک دیا ، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور فرمایا : ” انگوٹھی کیا ہوئی ؟ “ وہ بولا : میں نے اسے پھینک دی ۔ آپ نے فرمایا : ” میں نے تمہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا ، میں نے تو تمہیں صرف اس بات کا حکم دیا تھا کہ اسے بیچ دو اور اس کی قیمت کو کام میں لاؤ “ ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) یہ حدیث منکر ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5192]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، رجل (من قومه): مجهول. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1927) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ فِي يَدِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَقْرَعُهُ بِقَضِيبٍ مَعَهُ، فَلَمَّا غَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلْقَاهُ، قَالَ: " مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ". خَالَفَهُ يُونُسُ رَوَاهُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ مُرْسَلًا ,
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ ایک چھڑی سے جو آپ کے پاس تھی اس پر مارنے لگے ، جب آپ کی توجہ ہٹ گئی تو انہوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی ، آپ نے فرمایا : ” ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے تمہیں تکلیف دی اور تمہارا نقصان کیا “ ۔ یونس نے نعمان بن راشد کے خلاف اسے زہری سے انہوں نے ابوادریس سے مرسلاً روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5193]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، نعمان بن راشد: تكلموا فى روايته عن الزهري فحديثه شاذ،وفيه علة أخري. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11870، 19338)، مسند احمد (4/195)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5194-5197) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , أَنَّ رَجُلًا مِمَّنْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتِمًا مِنْ ذَهَبٍ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَحَدِيثُ يُونُسَ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ النُّعْمَانِ.
ابوادریس خولانی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانے والے لوگوں میں سے ایک شخص نے سونے کی انگوٹھی پہنی … پھر آگے اسی طرح بیان کیا ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یونس کی روایت نعمان کی روایت کی نسبت سے زیادہ قرین صواب ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5194]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، السند مرسل انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5193 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ قِرَاءَةً , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَائِذٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ نَحْوَهُ.
ابوادریس خولانی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھا پھر آگے اسی طرح بیان کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5195]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، السند مرسل انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5193 (صحیح) (یہ سند مرسل ہے، اس لیے کہ عائذ بن عبداللہ ابو ادریس الخولانی نے راوی صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، لیکن حدیث دوسرے طرق سے آنے کی وجہ سے صحیح لغیرہ ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمَ ذَهَبٍ، فَضَرَبَ إِصْبَعَهُ بِقَضِيبٍ كَانَ مَعَهُ حَتَّى رَمَى بِهِ"،
ابوادریس خولانی سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی ایک انگوٹھی دیکھی تو آپ نے اس کی انگلی کو ایک لکڑی سے مارا جو آپ کے پاس تھی ، یہاں تک کہ اس نے وہ انگوٹھی پھینک دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5196]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، السند مرسل انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5193 (صحیح) (یہ سند بھی مرسل ہے، اس لیے کہ عائذ بن عبداللہ ابو ادریس خولانی نے راوی صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، لیکن حدیث دوسرے طرق سے آنے کی وجہ سے صحیح لغیرہ ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَرْكَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مُرْسَلٌ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَالْمَرَاسِيلُ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ , وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
اس سند سے بھی ابن شہاب زہری سے ، اسی طرح مرسلاً روایت ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : مرسل روایتیں زیادہ قرین صواب ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5197]
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، السند مرسل انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5193 (صحیح) (یہ سند بھی ضعیف ہے، اس لیے کہ ابن شہاب زہری نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے، لیکن دوسرے طرق سے آنے کی وجہ سے یہ صحیح لغیرہ ہے)
46: بَابُ : مِقْدَارِ مَا يُجْعَلُ فِي الْخَاتَمِ مِنَ الْفِضَّةِ
باب: انگوٹھی میں چاندی کتنی مقدار میں ہونی چاہئے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ أَبُو طَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: " مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ؟"، فَطَرَحَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ، فَقَالَ: " مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ؟" , فَطَرَحَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ: " مِنْ وَرِقٍ , وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ لوہے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا ، آپ نے فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں جہنمیوں کا زیور پہنے دیکھ رہا ہوں ؟ “ یہ سن کر اس نے وہ انگوٹھی پھینک دی ۔ پھر پیتل کی انگوٹھی پہن کر آپ کے پاس آیا ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا وجہ ہے مجھے تم سے بتوں کی بو محسوس رہی ہے ؟ “ اس نے وہ انگوٹھی بھی پھینک دی اور بولا : اللہ کے رسول ! پھر کس چیز کی بناؤں ؟ آپ نے فرمایا : ” چاندی کی ، لیکن ایک مثقال سے کم رہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5198]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: الخاتم 4 (4223)، سنن الترمذی/اللباس 43 (1786)، (تحفة الأشراف: 1982)، مسند احمد (5/359) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابو طیبہ‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں وہم ہو جایا کرتا تھا، لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں)
47: بَابُ : صِفَةِ خَاتَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے وصف کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَصُّهُ حَبَشِيٌّ وَنُقِشَ فِيهِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس کا نگینہ حبشی تھا ۱؎ اور اس میں ـ «محمد رسول اللہ» نقش کیا گیا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5199]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک دوسری حدیث نمبر (۵۲۰۱) کے مطابق نگینہ چاندی ہی کا تھا، تطبیق کی صورت یہ ہے کہ حبشی طرز کا تھا یا اس کا بنانے والا حبشی تھا، ایک قول یہ بھی ہے کہ ممکن ہے آپ کے پاس دو انگوٹھیاں رہی ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 47 (5866)، 50 (5874)، 52 (5875)، 54 (5877)، صحیح مسلم/اللباس 12، 13 (92)، سنن ابی داود/الخاتم 1 (2416)، سنن الترمذی/اللباس 14 (1739)، الشمائل 11 (92)، سنن ابن ماجہ/اللباس39(3641)، (تحفة الأشراف: 1554)، مسند احمد (3/161، 181، 209، 223)، وانظر الأرقام: 5279، 5281 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ فِضَّةٍ يَتَخَتَّمُ بِهِ فِي يَمِينِهِ، فَصُّهُ حَبَشِيٌّ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی ایک انگوٹھی تھی ، اسے آپ دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے ، اس کا نگینہ حبشی تھا ۔ آپ نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5200]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح) (اس کے راوی ”طلحہ“ حافظہ کے کچھ کمزور ہیں، لیکن باب کی احادیث سے تقویت پا کر صحیح لغیرہ ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ، وَكَانَ أَبُوهُ خَالِدٌ عَلَى قَضَاءِ حِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَوْصِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ وَهُوَ ابْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ , عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَخَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ وَكَانَ فَصُّهُ مِنْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی ہی کا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5201]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 697) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا، عَنْ أَنَسٍ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَاتَمُهُ مِنْ وَرِقٍ فَصُّهُ مِنْهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی ہی کا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5202]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 48 (5870)، (تحفة الأشراف: 773) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ فَصُّهُ مِنْهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5203]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الخاتم 1 (4216)، سنن الترمذی/اللباس15(1740)، (تحفة الأشراف: 662)، مسند احمد (3/266) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ، فَقَالُوا: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا، " فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ , وَنُقِشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی بادشاہ کو کچھ لکھنا چاہا تو لوگوں نے عرض کیا کہ وہ لوگ کوئی ایسی تحریر نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ لگی ہو ، چنانچہ آپ نے چاندی کی مہر بنوائی ، گویا میں آپ کے ہاتھ میں اس کی سفیدی کو ( ابھی ابھی ) دیکھ رہا ہوں ، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5204]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 7 (65)، والجہاد 101 (2938)، اللباس 50 (5874)، 52 (5875)، الأحکام 15 (7162)، صحیح مسلم/اللباس 13 (2092)، (تحفة الأشراف: 1256)، مسند احمد (3/168-169، 170، 223، 275)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5280 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَوْزَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: " أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حَتَّى مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ , فَصَلَّى بِنَا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَاتَمِهِ فِي يَدِهِ مِنْ فِضَّةٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی ، پھر آپ نکلے اور ہمیں نماز پڑھائی ، گویا میں آپ کے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی کی سفیدی ( ابھی بھی ) دیکھ رہا ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5205]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 39 (640)، (تحفة الأشراف: 1326) (صحیح)
48: بَابُ : مَوْضِعِ الْخَاتَمِ مِنَ الْيَدِ ذِكْرِ حَدِيثِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ
باب: انگوٹھی کس ہاتھ میں پہنی جائے؟ اس باب میں علی و عبداللہ بن جعفر (رضی الله عنہما) کی حدیث کا ذکر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ هُوَ ابْنُ بِلَالٍ، عَنْ شَرِيكٍ هُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ شَرِيكٌ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ فِي يَمِينِهِ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے داہنے ہاتھ میں پہنتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5206]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الخاتم 5 (4226)، (تحفة الأشراف: 10180) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَخَتَّمُ بِيَمِينِهِ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5207]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 16 (1744)، (تحفة الأشراف: 5222)، مسند احمد (1/204 204) (صحیح)
49: بَابُ : لُبْسِ خَاتَمِ حَدِيدٍ مَلْوِيٍّ عَلَيْهِ بِفِضَّةٍ
باب: چاندی چڑھی لوہے کی انگوٹھی پہننا کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي عَتَّابٍ سَهْلِ بْنِ حَمَّادٍ. ح وَأَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلِ بْنِ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَيْقِيبِ، عَنْ جَدِّهِ مُعَيْقِيبٍ , أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيدًا مَلْوِيًّا عَلَيْهِ فِضَّةٌ"، قَالَ: وَرُبَّمَا كَانَ فِي يَدِي، فَكَانَ مُعَيْقِيبٌ عَلَى خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی جس پر چاندی چڑھی ہوئی تھی اور کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں بھی ہوتی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5208]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الخاتم 4 (4224)، (تحفة الأشراف: 11486) (ضعیف شاذ) (اوپر گزرا کہ رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم چاندی کی انگوٹھی پہنتے تھے)
50: بَابُ : لُبْسِ خَاتَمِ صُفْرٍ
باب: پیتل کی انگوٹھی پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مَنْصُورٍ مِنْ أَهْلِ ثَغْرٍ ثِقَةٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي النَّجِيبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ الْبَحْرَيْنِ , إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ فَلَمْ يُرَدَّ عَلَيْهِ، وَكَانَ فِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ وَجُبَّةُ حَرِيرٍ فَأَلْقَاهُمَا، ثُمَّ سَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَيْتُكَ آنِفًا فَأَعْرَضْتَ عَنِّي، فَقَالَ: " إِنَّهُ كَانَ فِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ" , قَالَ: لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ , قَالَ: " إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ لَيْسَ بِأَجْزَأَ عَنَّا مِنْ حِجَارَةِ الْحَرَّةِ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا"، قَالَ: فَمَاذَا أَتَخَتَّمُ؟ قَالَ: " حَلْقَةً مِنْ حَدِيدٍ، أَوْ وَرِقٍ، أَوْ صُفْرٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بحرین ( احساء ) سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سلام کیا ، آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا ، اس کے ہاتھ میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی اور ریشم کا جبہ ، اس نے وہ دونوں اتار کر پھینک دیے اور پھر سلام کیا ، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا ، اب اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں تو سیدھا آپ کے پاس آیا ہوں اور آپ نے مجھ سے رخ پھیر لیا ؟ آپ نے فرمایا : ” تمہارے ہاتھ میں جہنم کی آگ کا انگارہ تھا “ ، وہ بولا : تب تو اس میں سے بہت سارے انگارے لے کر آیا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تم جو کچھ بھی لے کر آئے ہو وہ ہمارے لیے اس حرہ کے پتھروں سے زیادہ فائدہ مند نہیں ہے ، البتہ وہ دنیا کی زندگی کی متاع ہے “ ، وہ بولا : تو پھر میں کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں ؟ آپ نے فرمایا : ” لوہے کا یا چاندی کا یا پیتل کا ایک چھلا بنا لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5209]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5191 (ضعیف) (اس کے راوی ”داود بن منصور“ حافظے کے کمزور ہیں، اور ان کی اس روایت میں حدیث نمبر 5191 سے متن میں جو اضافہ ہے وہ منکر ہے۔ مذکورہ روایت صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اتَّخَذَ حَلْقَةً مِنْ فِضَّةٍ، فَقَالَ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُوغَ عَلَيْهِ فَلْيَفْعَلْ , وَلَا تَنْقُشُوا عَلَى نَقْشِهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکلے اور آپ نے چاندی ایک چھلا بنوایا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ” جو اس طرح کا چھلا بنوانا چاہے تو بنوا لے ، البتہ جو کچھ اس پر نقش ہے اسے نقش نہ کرائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5210]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1062) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا وَنَقَشَ عَلَيْهِ نَقْشًا، قَالَ: " إِنَّا قَدِ اتَّخَذْنَا خَاتَمًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ". ثُمَّ قَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِهِ فِي يَدِهِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پر نقش کرایا اور فرمایا : ” ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں کچھ نقش کرایا ہے ، تو تم میں سے کوئی اسے نقش نہ کرائے “ ، پھر انس رضی اللہ عنہ نے کہا : گویا اس کی چمک میں آپ کے ہاتھ میں ( ابھی بھی ) دیکھ رہا ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5211]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1060)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس51 (5884)، 54 (5877)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3639)، مسند احمد (3/1011، 161) (صحیح)
51: بَابُ : قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاَ تَنْقُشُوا عَلَى خَوَاتِيمِكُمْ عَرَبِيًّا
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: ”اپنی انگوٹھیوں پر عربی میں نقش نہ کراؤ“۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْخُوَارِزْمِيُّ , بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ، وَلَا تَنْقُشُوا عَلَى خَوَاتِيمِكُمْ عَرَبِيًّا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مشرکین کی آگ سے روشنی مت لو اور نہ اپنی انگوٹھیوں پر عربی نقش کراؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5212]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أزهر بن راشد: مجهول (تقريب: 304) وضعفه ابن حبان وغيره. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 167)، مسند احمد (3/9999) (ضعیف) (اس کے راوی ”ازہر بن راشد“ مجہول ہیں)
52: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْخَاتَمِ، فِي السَّبَّابَةِ
باب: شہادت والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَلِيٌّ , سَلِ اللَّهَ الْهُدَى , وَالسَّدَادَ , وَنَهَانِي أَنْ أَجْعَلَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ، وَهَذِهِ، وَأَشَارَ يَعْنِي بِالسَّبَّابَةِ، وَالْوُسْطَى".
ابوبردہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علی ! اللہ سے ہدایت اور میانہ روی طلب کرو “ ، اور آپ نے مجھے روکا کہ انگوٹھی اس میں اور اس میں پہنوں ۔ اور اشارہ کیا یعنی شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کی طرف ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5213]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ نہی تنزیہی ہے، یعنی زیادہ بہتر اس کا نہ پہننا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الٔلشراف: 10320) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَاتَمِ فِي هَذِهِ، وَهَذِهِ يَعْنِي السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى". وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی اس میں اور اس میں پہننے سے منع فرمایا یعنی شہادت کی اور بیچ کی انگلی میں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5214]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 16 (2087)، الذکر 18 (2725)، سنن ابی داود/الخاتم 4 (4225)، سنن الترمذی/اللباس 44 (1787)، سنن ابن ماجہ/اللباس 43 (3658)، (تحفة الأشراف: 10318)، مسند احمد (1/109، 124، 134، 138، 150، 154)، ویأتي عند المؤلف: بأرقام: 5288، 5289، 5378 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ اهْدِنِي، وَسَدِّدْنِي، وَنَهَانِي أَنْ أَضَعَ الْخَاتَمِ فِي هَذِهِ، وَهَذِهِ وَأَشَارَ بِشْرٌ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى". قَالَ: وَقَالَ عَاصِمٌ: " أَحَدُهُمَا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہو : «اللہم اهدني وسددني» اللہ ! مجھے ہدایت دے ، مجھے درست رکھ “ ، اور آپ نے منع فرمایا کہ میں انگوٹھی اس میں اور اس میں پہنوں ۔ اور اشارہ کیا شہادت کی اور بیچ کی انگلی کی طرف ۔ عاصم بن کلیب نے ان میں سے صرف ایک کا تذکرہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5215]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
53: بَابُ : نَزْعِ الْخَاتَمِ عِنْدَ دُخُولِ الْخَلاَءِ
باب: پاخانہ جاتے وقت انگوٹھی اتار دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ نَزَعَ خَاتَمَهُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار لیتے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5216]
💡 وضاحت:
۱؎: بہتر یہی ہے کہ جس انگوٹھی میں قرآنی آیات اور ذکر الٰہی ہو اسے پاخانہ میں لے جانے سے بچا جائے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (29) ترمذي (1746) ابن ماجه (303) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطہارة 10 (19)، سنن الترمذی/اللباس 16 (1746)، الشمائل 11 (88)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 11 (303)، (تحفة الٔ شراف: 1512)، مسند احمد (3/9999، 101، 282) (ضعیف) (اس میں ”ہمام“ سے وہم ہو گیا ہے، انس رضی الله عنہ سے انگوٹھی کی بابت جو روایت ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی للہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی، پھر اسے اتار کر پھینک دی) (بقول امام ابوداود: اس روایت میں ہمام بن یحییٰ سے وہم ہو گیا ہے، (ان سے اکثر وہم ہو جاتا تھا) اصل روایت اس سند سے یوں ہے: آپ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، پھر اسے پھینک دی)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِنْ قِبَلِ كَفِّهِ , فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ، فَأَلْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ وَقَالَ: " لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا" , وَأَلْقَى النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کی طرف رکھا ، پھر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں ، تو آپ نے اپنی انگوٹھی نکال پھینکی اور فرمایا : ” میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا “ پھر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں نکال پھینک دیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5217]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی اس حدیث اور بعد کی آنے والی حدیثوں کا تعلق مذکورہ باب سے نہیں ہے، ممکن ہے صاحب کتاب نے کوئی عنوان قائم کیا ہو، مگر نساخ حدیث اسے سہوا درج نہ کر سکے ہوں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ان تمام طرق کے ذکر سے مصنف کا مقصد یہ ہے کہ پاخانہ میں داخل ہوتے وقت انگوٹھی اتار پھینکنے کی روایت ہمام کے وہم سے خالی نہیں ہے کیونکہ عام صحیح روایات سے جو ثابت ہے وہ کسی سبب سے سونے کی انگوٹھی کا اتار پھینکنا ہے نہ کہ پاخانہ جاتے وقت انگوٹھی کا اتارنا ہے، یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ ہمام کی حدیث غیر محفوظ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الٔسشراف: 8124) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ , وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ , فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ , فَطَرَحَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ: " لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا ۔ پھر لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں ، تو آپ نے وہ انگوٹھی نکال پھینکی اور فرمایا : ” میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5218]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 11 (2091)، (تحفة الٔحشراف: 7881) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخَتَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ طَرَحَهُ وَلَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: " لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَنْقُشَ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا، ثُمَّ جَعَلَ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی پہنی پھر اسے نکال کر پھینک دی اور چاندی کی انگوٹھی پہنی اور اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا اور فرمایا : ” کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ میری اس انگوٹھی کے نقش کی طرح نقش کرائے “ ، پھر آپ نے اس کے نگینے کو ہتھیلی کی جانب کر لیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5219]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 11 (2091)، سنن ابی داود/الخاتم 1 (4219)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3639)، (تحفة الأشراف: 7599)، ویأتي عند المؤلف 5290) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا رَآهُ أَصْحَابُهُ فَشَتْ خَوَاتِيمُ الذَّهَبِ , فَرَمَى بِهِ، فَلَا نَدْرِي مَا فَعَلَ، ثُمَّأَمَرَ بِخَاتَمٍ مِنْ فِضَّةٍ فَأَمَرَ أَنْ يُنْقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ , وَكَانَ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَ". وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ، وَفِي يَدِ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ , وَفِي يَدِ عُثْمَانَ سِتَّ سِنِينَ مِنْ عَمَلِهِ، فَلَمَّا كَثُرَتْ عَلَيْهِ الْكُتُبُ دَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ، فَخَرَجَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى قَلِيبٍ لِعُثْمَانَ , فَسَقَطَ , فَالْتُمِسَ فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَمَرَ بِخَاتَمٍ مِثْلِهِ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک سونے کی انگوٹھی پہنی ، پھر جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کو دیکھا تو سونے کی انگوٹھی عام ہو گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ نے اسے نکال پھینکا ۔ پھر معلوم نہیں وہ کیا ہوئی ، پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی کا حکم دیا اور حکم دیا کہ اس میں ” محمد رسول اللہ “ نقش کر دیا جائے ، وہ انگوٹھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی ، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ان کی مدت خلافت کے چھ سال تک رہی ، پھر جب خطوط کثرت سے لکھے جانے لگے تو اسے انصار کے ایک شخص کے حوالے کر دیا ، وہ اس سے مہریں لگاتا تھا ۔ ایک بار وہ انصاری عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک کنوئیں پر گیا ، تو وہ انگوٹھی ( اس میں ) گر گئی ، اور تلاش کے باوجود نہ ملی ۔ پھر اسی جیسی انگوٹھی بنانے کا حکم ہوا اور اس میں ” محمد رسول اللہ “ نقش کیا گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5220]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الخاتم 1 (4220)، (تحفة الأشراف: 8450) (حسن الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ فَصُّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَطَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ , فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی ، اس کا نگینہ آپ اپنی ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے ، پھر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں ، یہ دیکھ کر آپ نے اسے نکال پھینکی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں نکال پھینکیں ، پھر آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، اس سے آپ ( خطوط پر ) مہریں لگاتے تھے ، اسے پہنتے نہیں تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5221]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اکثر اوقات میں نہیں پہنتے تھے، ورنہ یہ ثابت ہے کہ آپ انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ولا يلبسه فإنه شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7614)، سنن الترمذی/الشمائل 11، رقم: 83، ویأتي عند المؤلف برقم: 5294 (صحیح) (حدیث میں ’’ولایلبسہ‘‘ کا لفظ ’’شاذ‘‘ ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے)
54: بَابُ : الْجَلاَجِلِ
باب: گھونگھرو اور گھنٹے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ مِنْ وَلَدِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْخٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سَالِمٍ، فَمَرَّ بِنَا رَكْبٌ لِأُمِّ الْبَنِينَ مَعَهُمْ أَجْرَاسٌ، فَحَدَّثَ نَافِعًا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رَكْبًا مَعَهُمْ جُلْجُلٌ , كَمْ تَرَى مَعَ هَؤُلَاءٍ مِنَ الْجُلْجُلِ".
ابوبکر بن ابی شیخ کہتے ہیں کہ میں سالم کے ساتھ بیٹھا ہو تھا ۔ اتنے میں ام البنین کا ایک قافلہ ہمارے پاس سے گزرا ان کے ساتھ کچھ گھنٹیاں تھیں ، تو نافع سے سالم نے کہا کہ ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں ہوتے جن کے ساتھ گھنگھرو یا گھنٹے ہوں ، ان کے ساتھ تو بہت سارے گھنٹے دکھائی دے رہے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5222]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الٔ شراف: 7039)، مسند احمد (2/27)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5223، 5223م) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَفَعَهُ، قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جُلْجُلٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے ساتھ گھنگھرو ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5223]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5222 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَفَعَهُ، قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جُلْجُلٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے ساتھ گھنگھرو ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5223M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 5222 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بَابَيْهِ مَوْلَى آلِ نَوْفَلٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جُلْجُلٌ وَلَا جَرَسٌ وَلَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ، جس میں گھنگھرو یا گھنٹہ ہو ، اور نہ فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ چلتے ہیں جن کے ساتھ گھنٹی ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5224]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18156) (حسن)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَآنِي رَثَّ الثِّيَابِ , فَقَالَ: " أَلَكَ مَالٌ؟" , قُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ كُلِّ الْمَالِ، قَالَ: " فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُهُ عَلَيْكَ".
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، آپ نے مجھے پھٹے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا : ” کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! سب کچھ ہے ، آپ نے فرمایا : ” جب تمہیں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہے تو اس کے آثار بھی تمہارے اوپر ہونے چاہئیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5225]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کی دی ہوئی نعمت کی قدر کرو اور اس کی شکر گزاری کرتے ہوئے فضول خرچی کئے بغیر اسے حسب ضرورت استعمال کرو اور اس میں سے دوسروں کے حقوق ادا کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس 17 (4063)، (تحفة الٔنشراف: 11203)، مسند احمد (4/137)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5296 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ دُونٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَكَ مَالٌ" , قَالَ: نَعَمْ، مِنْ كُلِّ الْمَالِ، قَالَ: " مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟" قَالَ: قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْغَنَمِ، وَالْخَيْلِ، وَالرَّقِيقِ، قَالَ: " فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ".
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھٹیا کپڑے پہن کر آئے ۔ تو آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے ؟ “ وہ بولے : جی ہاں ، سب کچھ ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” کس طرح کا مال ہے ؟ “ وہ بولے : اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ ، بکریاں ، گھوڑے اور غلام عطا کئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل کے تم پر آثار بھی دکھائی دینے چاہیئے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5226]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
← پچھلی کتاب #52 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #54 →