سنن النسائي حدیث نمبر: 5226
Sunan an-Nasa'i 5226
کتاب #53: کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
54: بَابُ : الْجَلاَجِلِ
باب: گھونگھرو اور گھنٹے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ دُونٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَكَ مَالٌ" , قَالَ: نَعَمْ، مِنْ كُلِّ الْمَالِ، قَالَ: " مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟" قَالَ: قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْغَنَمِ، وَالْخَيْلِ، وَالرَّقِيقِ، قَالَ: " فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ".
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھٹیا کپڑے پہن کر آئے ۔ تو آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے ؟ “ وہ بولے : جی ہاں ، سب کچھ ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” کس طرح کا مال ہے ؟ “ وہ بولے : اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ ، بکریاں ، گھوڑے اور غلام عطا کئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل کے تم پر آثار بھی دکھائی دینے چاہیئے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5226]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)