سنن النسائي حدیث نمبر: 5101
Sunan an-Nasa'i 5101
کتاب #53: کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقٍ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ زَعْرَاءُ أَيَصْلُحُ أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِي؟ فَقَالَ: لَا، قَالَتْ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
مسروق سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا : میرے سر پر بال بہت کم ہیں ، کیا میرے لیے صحیح ہو گا کہ میں اپنے بال میں کچھ بال جوڑ لوں ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، اس نے کہا : کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا کتاب اللہ ( قرآن ) میں ہے ؟ کہا : نہیں ، بلکہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ اور اسے کتاب اللہ ( قرآن ) میں بھی پاتا ہوں … ، اور پھر آگے حدیث بیان کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5101]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9584)، مسند احمد (1/415) (صحیح)