سنن النسائي حدیث نمبر: 5128
Sunan an-Nasa'i 5128
کتاب #53: کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
34: بَابُ : التَّزَعْفُرِ وَالْخَلُوقِ
باب: زعفران اور خلوق لگانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ يَعْقُوبَ الصَّبِيحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُوسَى يَعْنِي مُحَمَّدًا، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ، فَقَالَ: " أَيْ يَعْلَى , هَلْ لَكَ امْرَأَةٌ؟" , قُلْتُ: لَا، قَالَ: " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ"، قَالَ: فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ غَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ.
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، میں خلوق لگائے ہوئے تھا ، آپ نے فرمایا : ” یعلیٰ ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” جاؤ ، اسے دھوؤ ، پھر دھوؤ اور پھر دھوؤ ، پھر ایسا نہ کرنا “ ، میں گیا اور اسے دھویا پھر دھویا اور پھر دھویا پھر ایسا نہیں کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5128]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 5124 (ضعیف)