سنن النسائي حدیث نمبر: 5069
Sunan an-Nasa'i 5069
کتاب #53: کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
11: بَابُ : تَطْوِيلِ الْجُمَّةِ
باب: لمبے بال رکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي جُمَّةٌ، قَالَ: " ذُبَابٌ" , وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ , وَهَذَا أَحْسَنُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، میرے سر پر لمبے بال تھے ، آپ نے فرمایا : ” نحوست ہے “ ، میں سمجھا کہ آپ کی مراد میں ہی ہوں ۔ میں گیا اور اپنے بال کتروا دیئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری مراد تم نہیں تھے ، ویسے یہ زیادہ اچھا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5069]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 5055 (صحیح)