سنن النسائي حدیث نمبر: 5086
Sunan an-Nasa'i 5086
کتاب #53: کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
16: بَابُ : الْخِضَابِ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ
باب: مہندی اور کتم لگانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: " أَتَيْتُ أَنَا وَأَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ لَطَخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اس وقت آپ نے اپنی ڈاڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5086]
💡 وضاحت:
۱؎: آگے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث (نمبر: ۵۰۸۹) میں ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں اتنے سفید بال تھے ہی نہیں کہ آپ خضاب لگاتے۔“ دونوں حدیثوں میں باہم یوں تطبیق دی جاتی ہے کہ واقعی اتنے زیادہ بال تھے نہیں کہ آپ کو ان کے رنگ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی (یعنی بذریعہ خضاب) مگر آپ نے ان کا رنگ تبدیل کیا تاکہ امت کے لیے نمونہ ہو، اس عمل کو انس رضی اللہ عنہ کو دیکھنے کا اتفاق نہ ہو سکا۔ رہی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اگلی حدیث (نمبر: ۵۰۸۸) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیلے رنگ سے اپنے بال رنگتے تھے تو پیلے رنگ کا استعمال بعد میں منسوخ ہو گیا تھا جس کی خبر ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نہیں ہو سکی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1573 (صحیح)