سنن النسائي حدیث نمبر: 5198
Sunan an-Nasa'i 5198
کتاب #53: کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
46: بَابُ : مِقْدَارِ مَا يُجْعَلُ فِي الْخَاتَمِ مِنَ الْفِضَّةِ
باب: انگوٹھی میں چاندی کتنی مقدار میں ہونی چاہئے؟
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ أَبُو طَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: " مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ؟"، فَطَرَحَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ، فَقَالَ: " مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ؟" , فَطَرَحَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ: " مِنْ وَرِقٍ , وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ لوہے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا ، آپ نے فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں جہنمیوں کا زیور پہنے دیکھ رہا ہوں ؟ “ یہ سن کر اس نے وہ انگوٹھی پھینک دی ۔ پھر پیتل کی انگوٹھی پہن کر آپ کے پاس آیا ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا وجہ ہے مجھے تم سے بتوں کی بو محسوس رہی ہے ؟ “ اس نے وہ انگوٹھی بھی پھینک دی اور بولا : اللہ کے رسول ! پھر کس چیز کی بناؤں ؟ آپ نے فرمایا : ” چاندی کی ، لیکن ایک مثقال سے کم رہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5198]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
الخاتم 4 (4223)، سنن الترمذی/اللباس 43 (1786)، (تحفة الأشراف: 1982)، مسند احمد (5/359) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابو طیبہ‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں وہم ہو جایا کرتا تھا، لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں)