سنن النسائي حدیث نمبر: 5152
Sunan an-Nasa'i 5152
کتاب #53: کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
40: بَابُ : تَحْرِيمِ الذَّهَبِ عَلَى الرِّجَالِ
باب: مردوں کے لیے سونا استعمال کرنے کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا". خَالَفَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ رَوَاهُ , عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ.
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور سونا پہننے سے منع فرمایا مگر جب «مقطع» یعنی تھوڑا اور معمولی ہو ( یا ٹکڑے ٹکڑے ہو ) ۱؎ ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) عبدالوہاب نے سفیان کے برخلاف اس حدیث کو خالد سے ، خالد نے میمون سے اور میمون نے ابوقلابہ سے روایت کیا ہے ، ( یعنی : سند میں ایک راوی ” میمون “ کا اضافہ کیا ہے ) [سنن نسائي/حدیث: 5152]
💡 وضاحت:
۱؎: «مقطع» کی ایک تفسیر «یسیر» (یعنی کم) بھی ہے، جب یہ معنی ہو تو یہ رخصت و اجازت عورتوں کے لیے ہے، مردوں کے لیے سونا مطلقا حرام ہے چاہے تھوڑا ہو یا زیادہ۔ عورتوں کے لیے جنس سونا حرام نہیں سونے کی اتنی مقدار جس میں زکاۃ واجب نہیں وہ اپنے استعمال میں لا سکتی ہیں، البتہ اس سے زائد مقدار ان کے لیے بھی مناسب نہیں کیونکہ بسا اوقات بخل کے سبب وہ زکاۃ نکالنے سے گریز کرنے لگتی ہیں جو ان کے گناہ اور حرج میں پڑ جانے کا سبب بن جاتا ہے، اور «مقطع» کا دوسرا معنی ”ریزہ ریزہ“ کا بھی ہے، اس کے لیے دیکھئیے حدیث نمبر ۵۱۳۹ کا حاشیہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الخاتم 8 (4239)، (تحفة الأشراف: 11421)، مسند احمد (4/92، 93) (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”میمون“ لین الحدیث ہیں، اور ”ابو قلابہ‘‘ کا معاویہ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے)