سنن النسائي حدیث نمبر: 5107
Sunan an-Nasa'i 5107
کتاب #53: کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
25: بَابُ : الْمُوتَشِمَاتِ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ وَالشَّعْبِيِّ فِي هَذَا
باب: گودوانے والی عورتوں کا بیان اور اس حدیث کی روایت میں عبداللہ بن مرہ اور شعبی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ، قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ" , قَالَ: " إِلَّا مِنْ دَاءٍ" , فَقَالَ: " نَعَمْ، وَالْحَالُّ وَالْمُحَلَّلُ لَهُ، وَمَانِعُ الصَّدَقَةِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ" وَلَمْ يَقُلْ لَعَنَ.
حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے ، سود پر گواہی دینے والے ، سود کا حساب لکھنے والے پر ، اور گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ، الا یہ کہ وہ کسی مرض کی وجہ سے ہو تو آپ نے فرمایا : ” ہاں “ اور آپ نے حلالہ کرنے اور کروانے والے پر ، اور زکاۃ نہ دینے والے پر ( لعنت فرمائی ) اور آپ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے ( نوحہ کے بارے میں ) «لعن» کا لفظ نہیں کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5107]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، حارث الأعور ضعيف،. ولبعض الحديث شواهد صحيحة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ یہ حارث اعور کی مرسل روایت ہے)