سنن النسائي حدیث نمبر: 5143
Sunan an-Nasa'i 5143
کتاب #53: کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
39: بَابُ : الْكَرَاهِيَةِ لِلنِّسَاءِ فِي إِظْهَارِ الْحُلِيِّ وَالذَّهَبِ
باب: عورتوں کے لیے زیورات اور سونے کی نمائش ممنوع ہے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِير، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، قَالَ: جَاءَتْ بِنْتُ هُبَيْرَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي يَدِهَا فَتَخٌ، فَقَالَ: كَذَا فِي كِتَابِ أَبِي , أَيْ: خَوَاتِيمُ ضِخَامٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُ يَدَهَا , فَدَخَلَتْ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهَا الَّذِي صَنَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَزَعَتْ فَاطِمَةُ سِلْسِلَةً فِي عُنُقِهَا مِنْ ذَهَبٍ، وَقَالَتْ: هَذِهِ أَهْدَاهَا إِلَيَّ أَبُو حَسَنٍ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالسِّلْسِلَةُ فِي يَدِهَا، فَقَالَ: " يَا فَاطِمَةُ , أَيَغُرُّكِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ وَفِي يَدِهَا سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ؟" , ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ فَأَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ بِالسِّلْسِلَةِ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَتْهَا , وَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا غُلَامًا، وَقَالَ: مَرَّةً عَبْدًا وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا فَأَعْتَقَتْهُ فَحُدِّثَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْجَى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنت ہبیرہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، ان کے ہاتھ میں بڑی بڑی انگوٹھیاں تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاتھ پر مارنے لگے ، وہ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئیں تاکہ ان سے اس برتاؤ کا گلہ شکوہ کریں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ کیا تھا ، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گلے کا سونے کا ہار نکالا اور بولیں : یہ مجھے ابوالحسن ( علی ) نے تحفہ دیا تھا ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور ہار ان کے ہاتھ ہی میں تھا ، آپ نے فرمایا : ” فاطمہ ! تمہیں یہ بات پسند ہے کہ لوگ کہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور ہاتھ میں آگ کی زنجیر ؟ “ ، پھر آپ بیٹھے نہیں چلے گئے ، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہار بازار بھیج کر اسے بیچ دیا اور اس کی قیمت سے ایک غلام ( لڑکا ) خریدا اور اسے آزاد کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” شکر ہے اللہ کا جس نے فاطمہ کو آگ سے نجات دی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5143]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2110)، مسند احمد (5/278) (صحیح)