سنن النسائي حدیث نمبر: 5145
Sunan an-Nasa'i 5145
کتاب #53: کتاب: زیب و زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
39: بَابُ : الْكَرَاهِيَةِ لِلنِّسَاءِ فِي إِظْهَارِ الْحُلِيِّ وَالذَّهَبِ
باب: عورتوں کے لیے زیورات اور سونے کی نمائش ممنوع ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ. ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: " سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , طَوْقٌ مِنْ ذَهَبٍ , قَالَ: " طَوْقٌ مِنْ نَارٍ"، قَالَتْ: قُرْطَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ , قَالَ: " قُرْطَيْنِ مِنْ نَارٍ"، قَالَ: وَكَانَ عَلَيْهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَمَتْ بِهِمَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا لَمْ تَتَزَيَّنْ لِزَوْجِهَا صَلِفَتْ عِنْدَهُ، قَالَ: " مَا يَمْنَعُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَصْنَعَ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تُصَفِّرَهُ بِزَعْفَرَانٍ، أَوْ بِعَبِيرٍ". اللَّفْظُ لِابْنِ حَرْبٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میرے پاس سونے کے دو کنگن ہیں ، آپ نے فرمایا : ” آگ کے دو کنگن ہیں “ وہ بولی : اللہ کے رسول ! سونے کا ہار ہے ، آپ نے فرمایا ” آگ کا ہار ہے “ ، وہ بولی : سونے کی دو بالیاں ہیں ، آپ نے فرمایا : ” آگ کی دو بالیاں ہیں “ ، اس عورت کے پاس سونے کے دو کنگن تھے ، اس نے انہیں اتار کر پھینک دئیے اور بولی : اگر عورت اپنے شوہر کے لیے بناؤ سنگار نہ کرے تو وہ اس کے لیے پھر کس کام کی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں چاندی کی بالیاں بنانے پھر اسے زعفران یا عبیر سے پیلا کرنے سے کون سی چیز مانع ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5145]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، أبو زيد مجهول (تقريب: 8111) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14934)، مسند احمد (2/440) (ضعیف) (اس کے راوی ابو زید صاحب ابی ہریرہ مجہول ہیں)