سنن النسائي حدیث نمبر: 5301
Sunan an-Nasa'i 5301
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
85: بَابُ : ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ لُبْسِ الإِسْتَبْرَقِ
باب: استبرق نامی ریشم پہننا منع ہے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ فَرَأَى حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ , فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , اشْتَرِهَا فَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ , وَحِينَ يَقْدَمُ عَلَيْكَ الْوَفْدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ"، ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ حُلَلٍ مِنْهَا , فَكَسَا عُمَرَ حُلَّةً، وَكَسَا عَلِيًّا حُلَّةً , وَكَسَا أُسَامَةَ حُلَّةً فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ثُمَّ بَعَثْتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: " بِعْهَا , وَاقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ , أَوْ شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نکلے تو دیکھا بازار میں استبرق کی چادر بک رہی ہے ، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! اسے خرید لیجئے اور اسے جمعہ کے دن اور جب کوئی وفد آپ کے پاس آئے تو پہنئے ۔ آپ نے فرمایا : ” یہ تو وہ پہنتے ہیں جن کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہوتا “ ، پھر آپ کے پاس تین چادریں لائی گئیں تو آپ نے ایک عمر رضی اللہ عنہ کو دی ، ایک علی رضی اللہ عنہ کو اور ایک اسامہ رضی اللہ عنہ کو دی ، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے اس کے بارے میں کیا کیا فرمایا تھا ، پھر بھی آپ نے اسے میرے پاس بھیجوایا ؟ آپ نے فرمایا : ” اسے بیچ دو اور اس سے اپنی ضرورت پوری کر لو یا اسے اپنی عورتوں کے درمیان دوپٹہ بنا کر تقسیم کر دو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5301]
💡 وضاحت:
۱؎: ”استبرق“ ایک قسم کا ریشم ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 6759) (صحیح)