سنن النسائي حدیث نمبر: 5339
Sunan an-Nasa'i 5339
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
105: بَابُ : ذُيُولِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کے دامن کی لمبائی کی حد کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُيُولَ النِّسَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُرْخِينَ شِبْرًا" , قَالَتْ: أُمُّ سَلَمَةَ: إِذًا يَنْكَشِفَ عَنْهَا؟ قَالَ: " تُرْخِي ذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کے دامن لٹکانے کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ ایک بالشت لٹکائیں “ ۱؎ ، ام سلمہ رضی اللہ عنہا بولیں : تب تو کھلا رہے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” تب ایک ہاتھ لٹکائیں ، اس سے زیادہ نہ کریں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5339]
💡 وضاحت:
۱؎: عورتیں ایک بالشت یا ایک ہاتھ زیادہ کہاں سے لٹکائیں؟ اس بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ مردوں کی جائز حد (ٹخنوں) سے زیادہ ایک بالشت لٹکائیں یا حد سے حد ایک ہاتھ زیادہ لٹکا لیں، اس سے زیادہ نہیں، یہ اجازت اس لیے ہے تاکہ عورتوں کے قدم اور پنڈلیاں چلتے وقت ظاہر نہ ہو جائیں، آج ٹخنوں تک پاجامہ (شلوار) کے بعد لمبے موزوں سے عورتوں کا مذکورہ پردہ حاصل ہو سکتا ہے، لیکن عورتوں کے لباس اصلی شلوار وغیرہ میں اس بات کی احتیاط ہونی چاہیئے کہ وہ سلاتے وقت ٹخنے کے نیچے ناپ کر سلاتے جائیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18217) (صحیح)