سنن النسائي حدیث نمبر: 5244
Sunan an-Nasa'i 5244
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
64: بَابُ : الأَمْرِ بِالْخِضَابِ
باب: بالوں میں خضاب لگانے کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي قُحَافَةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَيِّرُوا , أَوِ اخْضِبُوا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ابوبکر کے والد ) ابوقحافہ رضی اللہ عنہما لائے گئے ، ان کا سر اور داڑھی ثغامہ نامی گھاس کی طرح تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کے بالوں کا رنگ بدلو “ ، یا ( فرمایا ) ” خضاب لگاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5244]
💡 وضاحت:
۱؎: ثغامہ ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2885) (صحیح)