سنن النسائي حدیث نمبر: 5328
Sunan an-Nasa'i 5328
کتاب #54: کتاب: زینت اور آرائش کے احکام و مسائل
101: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي جَرِّ الإِزَارِ
باب: ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکانے کی سنگینی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنِ الْخُيَلَاءِ خَسَفَ بِهِ , فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک شخص تکبر ( گھمنڈ ) سے اپنا تہبند لٹکاتا تھا ، ) تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا ، چنانچہ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جا رہا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5328]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر کسی مجبوری سے خود سے پاجامہ (تہبند) ٹخنے سے نیچے آ جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ”تکبر سے“ کی قید احتراز نہیں ہے، (کہ اگر تکبر سے تہبند لٹکائے تو حرام ہے، ورنہ نہیں) بلکہ یہ لفظ اس لیے آیا ہے کہ عام طور سے تہبند کا لٹکانا پہلے تکبر اور گھمنڈ ہی سے ہوتا تھا، بہت سی روایات میں لفظ «خیلاء» نہیں ہے، «ازار» میں وہ سارے کپڑے شامل ہیں جو تہبند (لنگی) کی جگہ پہنے جاتے ہیں، دیکھئیے حدیث نمبر ۵۳۳۱- ۵۳۳۷۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الٔنبیاء 54 (3485)، اللباس 5 (5790)، (تحفة الأشراف: 6998)، مسند احمد (2/66) (صحیح)