📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب الجهاد

کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل

کتاب #29 • کل احادیث: 111
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : وُجُوبِ الْجِهَادِ
باب: جہاد کی فرضیت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ , فَنَزَلَتْ: أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ سورة الحج آية 39 , فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَهِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا «إنا لله وإنا إليه راجعون» یہ لوگ ضرور ہلاک ہو جائیں گے ۔ تو یہ آیت نازل ہوئی «‏أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ على نصرهم لقدير» ” جن ( مسلمانوں ) سے ( کافر ) جنگ کر رہے ہیں ، انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ بھی مظلوم ہیں ۔ بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے “ ۔ ( الحج : ۳۹ ) تو میں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ ہو گی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ” یہ پہلی آیت ہے جو جنگ کے بارے میں اتری ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3087]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/تفسیرالحج (3171)، (تحفة الأشراف: 5618)، مسند احمد (1/216) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبِي، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَأَصْحَابًا لَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِكُونَ، فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّةً فَقَالَ: " إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا، فَلَمَّا حَوَّلَنَا اللَّهُ إِلَى الْمَدِينَةِ أَمَرَنَا بِالْقِتَالِ فَكَفُّوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ سورة النساء آية 77".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ دوست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب آپ مکہ میں تشریف فرما تھے آئے ، اور انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! جب ہم مشرک تھے عزت سے تھے ، اور جب سے ایمان لے آئے ذلیل و حقیر ہو گئے ۔ آپ نے فرمایا : ” مجھے عفو و درگزر کا حکم ملا ہوا ہے ۔ تو ( جب تک لڑائی کا حکم نہ مل جائے ) لڑائی نہ کرو “ ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ بھیج دیا ، اور ہمیں جنگ کا حکم دے دیا ۔ تو لوگ ( بجائے اس کے کہ خوش ہوتے ) باز رہے ( ہچکچائے ، ڈرے ) تب اللہ تعالیٰ نے آیت : «ألم تر إلى الذين قيل لهم كفوا أيديكم وأقيموا الصلاة» ” کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں حکم کیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو ، اور نمازیں پڑھتے رہو ، اور زکاۃ ادا کرتے رہو ۔ پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو ، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے : اے ہمارے رب ! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا ؟ کیوں ہمیں تھوڑی سی زندگی اور نہ جینے دی ؟ آپ کہہ دیجئیے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا ( النساء : ۷۷ ) اخیر تک نازل فرمائی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3088]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6171) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: عَنْ سَعِيدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدِي" , قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا،
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے جامع کلمات ۱؎ دے کر بھیجا گیا ہے اور میری مدد رعب ۲؎ سے کی گئی ہے ۔ اس دوران کہ میں سو رہا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں مجھے دی گئیں ، اور میرے ہاتھوں میں تھما دی گئیں “ ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس دنیا سے ) رخصت ہو گئے لیکن تم ان خزانوں کو نکال کر خرچ کر رہے ہو ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3089]
💡 وضاحت:
۱؎: «جامع کلمات» یعنی قرآن و حدیث جن کے الفاظ مختصر ہیں مگر معانی بہت، «جوامع الکلم» میں صفت کی اضافت موصوف کی طرف ہے، اس سے مراد «الکلم الجامعۃ» ہے۔ ۲؎: یعنی ایسے دبدبہ و دھاک سے کی گئی ہے جس سے بلا کسی عادی سبب کے دشمنوں کے دلوں میں خوف طاری ہو جاتا ہے۔ ۳؎: خزانوں سے مراد روم و ایران اور مصر و شام وغیرہ کی فتوحات اور وہاں کی دولت پر مسلمانوں کا تصرف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد (523)، (تحفة الأشراف: 13281، 13342)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 122 (2977)، والتعبیر 11 (6998)، 22 (7013)، والاعتصام1 (7273)، مسند احمد (2/268) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی طرح مروی ہے وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3090]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15346)، مسند احمد (2/250، 442) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدِي" , فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا میں جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہوں ۱؎ اور میری مدد رعب و دبدبہ سے کی گئی ہے ، مجھے سوتے میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں ( اور پیش کرتے ہوئے ) میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( اس کی وضاحت کرتے ہوئے ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس دنیا سے ) چلے گئے اور تم ان ( خزانوں ) سے فیض اٹھا رہے ہو ۔ ( انہیں نکال رہے اور خرچ کر رہے ہو ) [سنن نسائي/حدیث: 3091]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مختصر فصیح و بلیغ کلمے جن میں الفاظ تو تھوڑے ہوں لیکن مفہوم و معانی سے بھرے ہوئے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد (523)، (تحفة الأشراف: 13256) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ، وَنَفْسَهُ، إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں ۔ تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا ، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے ۱؎ ، اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ کے ذمہ ہے ۲؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3092]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسی صورت میں اس کی گردن ماری بھی جا سکتی ہے اور اس کا مال ضبط بھی کیا جا سکتا ہے۔ ۲؎: کس نے دکھانے کے لیے اسلام قبول کیا ہے اور کون سچے دل سے اسلام لایا ہے، یہ اللہ ہی فیصلہ کرے گا، یہاں صرف ظاہر کا اعتبار ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان8 (21)، (تحفة الأشراف: 13344)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد102 (2946)، مسند احمد (2/314، 423، 439، 475، 482، 502) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ، كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ"؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنا دیئے گئے ، اور عربوں میں سے جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے ۱؎ ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابوبکر ! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں ، تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا ، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے “ ، ( اور یہ زکاۃ نہ دینے والے «لا إله إلا اللہ» کے قائل ہیں ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : قسم اللہ کی میں ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا ، ( یعنی نماز پڑھے گا اور زکاۃ دینے سے انکار کرے گا ) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے ، ( جس طرح نماز بدن کا حق ہے ) قسم اللہ کی ، اگر لوگوں نے مجھے بکری کا سال بھر سے چھوٹا بچہ بھی دینے سے روکا جسے وہ زکاۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے ۔ تو اس روکنے پر بھی میں ان سے ضرور لڑوں گا ۔ ( عمر کہتے ہیں : ) قسم اللہ کی اس معاملے کو تو میں نے ایسا پایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے لیے شرح صدر بخشا ہے ، اور میں نے سمجھ لیا کہ حق یہی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3093]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی دین حق سے مرتد ہو گیا، اور زکاۃ جو اس پر واجب تھی اس کی ادائیگی کا منکر ہو بیٹھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2445 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُغِيرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ. ح وَأَنْبَأَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ"؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ، وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ ہوئے اور عربوں میں جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابوبکر ! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ۔ ( اور یہ زکاۃ نہ دینے والے «لا إله إلا اللہ» کے قائل ہیں ) تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : قسم اللہ کی ، میں ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا ، ( یعنی نماز پڑھے گا اور زکاۃ دینے سے انکار کرے گا ) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے ( جس طرح نماز بدن کا ) قسم اللہ کی ، اگر لوگوں نے مجھے بکری کا سال بھر سے چھوٹا بچہ بھی دینے سے روکا جسے وہ زکاۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے ۔ تو اس روکنے پر بھی میں ان سے ضرور لڑوں گا ۔ ( عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) قسم اللہ کی ، اس معاملے کو تو میں نے ایسا پایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے لیے شرح صدر بخشا ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ حق یہی ہے ۔ اس حدیث کے الفاظ احمد کے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3094]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2445 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَذَكَرَ آخَرَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا جَمَعَ أَبُو بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ، كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا"؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا، كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( لوگوں کو ) ان ( منکرین زکاۃ و مرتدین دین ) سے جنگ کے لیے اکٹھا کیا ۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے ؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں : ” مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں ، اور جب انہوں نے یہ کلمہ کہہ لیا تو اپنے خون اور اپنے مال کو مجھ سے بچا لیا ۔ مگر اس کے حق کے بدلے ( جان و مال پر جو حقوق لگا دیئے گئے ہیں اگر ان کی پاسداری نہ کرے گا تو سزا کا حقدار ہو گا ۔ مثلاً قصاص و حدود ضمانت وغیرہ میں ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تو ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ ( دونوں فریضوں ) میں فرق کرے گا ۔ اور قسم اللہ کی اگر انہوں نے مجھے بکری کا ایک چھوٹا بچہ بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے ۔ تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ کروں گا ۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : قسم اللہ کی میں نے اچھی طرح جان لیا کہ ان ( منحرفین ) سے جنگ کے معاملہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پورے طور پر شرح صدر حاصل ہے ۔ ( تبھی وہ اتنے مستحکم اور فیصلہ کن انداز میں بات کر رہے ہیں ) اور مجھے یقین آ گیا کہ وہ حق پر ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3095]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2445 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو الْعَوَّامِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتْ الْعَرَبُ، قَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ الْعَرَبَ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ"، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا كَانُوا يُعْطُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَأْيَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ شُرِحَ، عَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عِمْرَانُ الْقَطَّانُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ , وَهَذَا الْحَدِيثُ خَطَأٌ , وَالَّذِي قَبْلَهُ الصَّوَابُ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرما گئے ، تو عرب ( دین اسلام سے ) مرتد ہو گئے ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابوبکر ! آپ عربوں سے کیسے لڑائی لڑیں گے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ لوگ گواہی دینے لگیں کہ کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اور نماز قائم کرنے لگیں ، اور زکاۃ دینے لگیں ، قسم اللہ کی ، اگر انہوں نے ایک بکری کا چھوٹا بچہ دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( زکاۃ میں ) دیا کرتے تھے تو میں اس کی خاطر بھی ان سے لڑائی لڑوں گا ۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے دیکھی کہ انہیں اس پر شرح صدر حاصل ہے تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ حق پر ہیں “ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : عمران بن قطان حدیث میں قوی نہیں ہیں ۔ یہ حدیث صحیح نہیں ہے ، اس سے پہلے والی حدیث صحیح و درست ہے ، زہری کی حدیث کا سلسلہ «عن عبيد اللہ بن عبداللہ بن عتبة عن أبي هريرة‏» ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3096]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3979)، ویأتي عند المؤلف: 3974 (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ. ح وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ، وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے حکم ملا ہے کہ جب تک لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں میں ان سے لڑوں تو جس نے اسے کہہ لیا ( قبول کر لیا ) تو اس نے مجھ سے اپنی جان و مال محفوظ کر لیا ۔ اب ان پر صرف اسی وقت ہاتھ ڈالا جا سکے گا جب اس کا حق ( وقت و نوبت ) آ جائے ۱؎ ۔ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کرے گا ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3097]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلاً حد و قصاص و ضمان میں تو اس پر حد جاری کی جائے گی، قصاص لیا جائے گا اور اس سے مال دلایا جائے گا۔ ۲؎: کہ وہ ایمان خلوص دل سے لایا تھا یا صرف دکھاوے کے لیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 102 (2946)، (تحفة الأشراف: 13152)، و یأتي عند المؤلف: 3097 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ، وَأَيْدِيكُمْ، وَأَلْسِنَتِكُمْ".
انس رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مشرکین سے جہاد کرو اپنے مالوں ، اپنے ہاتھوں ، اور اپنی زبانوں کے ذریعہ “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3098]
💡 وضاحت:
۱؎: مال اور ہاتھ سے جہاد کا مطلب بالکل واضح ہے، زبان سے جہاد کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے جہاد کے فضائل بیان کئے جائیں، اور لوگوں کو اس پر ابھارنے کے ساتھ انہیں اس کی رغبت دلائی جائے۔ اور کفار کو اسلام کی زبان سے دعوت دی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد18 (2504)، (تحفة الأشراف: مسند احمد (3/124، 153، 251)، سنن الدارمی/الجہاد38 (2475)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3194 (صحیح)
2: بَابُ : التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجِهَادِ
باب: جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْوَرْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مر گیا ، اور اس نے جہاد نہیں کیا ، اور نہ ہی جہاد کے بارے میں اس نے اپنے دل میں سوچا و ارادہ کیا ۱؎ ، تو وہ ایک طرح سے نفاق پر مرا ۲؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3099]
💡 وضاحت:
۱؎: دل میں سوچنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دل میں مجاہد بننے کی تمنا کرے، اور ارادہ کا مطلب یہ ہے کہ جہاد سے متعلق ساز و سامان کے حصول کی کوشش اور اس کے لیے تیاری کرے۔ ۲؎: گویا وہ جہاد سے پیچھے رہ جانے والے منافقین کے مشابہ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة (910)، سنن ابی داود/الجہاد 18 (2502)، (تحفة الأشراف: 12567)، مسند احمد (2/374) (صحیح)
3: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ السَّرِيَّة
باب: (غازی کا) سریہ (فوجی دستہ) سے پیچھے رہ جانے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ عُفَيْرٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ ابْنِ مُسَافِرٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَفنِّي، أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ اگر بہت سے مسلمانوں کو مجھ سے پیچھے رہنا ناگوار نہ ہوتا اور میں ایسی چیز نہ پاتا جس پر انہیں سوار کر کے لے جاتا تو کسی ایسے فوجی دستے سے جو اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا ہو پیچھے نہ رہتا ، ( لیکن چونکہ مجبوری ہے اس لیے ایسے مجبور کے لیے فوجی دستے کے ساتھ نہ جانے کی رخصت ہے ) اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر قتل کیا جاؤں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3100]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 7 (2797)، 119 (2972)، التمنی 1 (7226)، (تحفة الأشراف: 3186)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 1 (2753)، مسند احمد (2/231، 245، 384، 424، 473، 502) ویأتي عند المؤلف برقم 3153 (صحیح)
4: بَابُ : فَضْلِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ
باب: گھر بیٹھ رہنے والوں پر جہاد کے لیے نکلنے والوں کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا، فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنَا , أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: " لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَثَقُلَتْ عَلَيَّ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَتُرَضُّ فَخِذِي، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ , غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق هَذَا لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق يَرْوِي عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ لَيْسَ بِثِقَةٍ.
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو بیٹھے دیکھا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا ، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت : «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» ” اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں “ ۔ ( النساء : ۹۵ ) نازل ہوئی اور آپ اسے بول کر مجھ سے لکھوا رہے تھے کہ اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے ( وہ ایک نابینا صحابی تھے ) انہوں نے ( حسرت بھرے انداز میں ) کہا : اگر میں جہاد کر سکتا تو ضرور کرتا ( مگر میں اپنی آنکھوں سے مجبور ہوں ) تو اس وقت اللہ تعالیٰ ٰ نے ( کلام پاک کا یہ ٹکڑا ) «غير أولي الضرر» نازل فرمایا ۔ ” ضرر والے یعنی مجبور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں “ اور ( اس ٹکڑے کے نزول کے وقت کی صورت و کیفیت یہ تھی ) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر ٹکی ہوئی تھی ۔ اس آیت کے نزول کا بوجھ مجھ پر ( بھی ) پڑا اور اتنا پڑا کہ مجھے خیال ہوا کہ میری ران ٹوٹ ہی جائے گی ، پھر یہ کیفیت موقوف ہو گئی ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : اس روایت میں عبدالرحمٰن بن اسحاق ہیں ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق جو نعمان بن سعد سے روایت کرتے ہیں ثقہ نہیں ہیں ، اور عبدالرحمٰن بن اسحاق سے روایت کی ہے ، علی بن مسہر ، ابومعاویہ اور عبدالواحد بن زیاد روایت کرتے ہیں بواسطہ نعمان بن سعد جو ثقہ نہیں ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3101]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 31 (2832)، وتفسیرسورة النساء 18 (4592)، سنن ابی داود/الجہاد 20 (2507)، سنن الترمذی/تفسیرسورة النساء (3033)، مسند احمد (5/184، 191) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَأَخْبَرَنَا , أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمْلَى عَلَيْهِ: " لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , قَالَ: فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ، وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي حَتَّى هَمَّتْ تَرُضُّ فَخِذِي ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
زید بن ثابت رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بول کر لکھایا «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» ( النساء : ۹۵ ) کہ اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر میں جہاد کی استطاعت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا اور وہ ایک اندھے شخص تھے ۔ تو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت کا یہ حصہ «غير أولي الضرر» نازل فرمایا ، ( اس آیت کے اترتے وقت ) آپ کی ران میری ران پر چڑھی ہوئی تھی اور ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے نزول کے سبب ) ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میری ران چور چور ہو جائے گی ، پھر وحی موقوف ہو گئی ( تو وحی کا دباؤ و بوجھ بھی ختم ہو گیا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3102]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قَالَ: " ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَاللَّوْحِ، فَكَتَبَ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، خَلْفَهُ، فَقَالَ: هَلْ لِي رُخْصَةٌ فَنَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرمایا : کیا فرمایا ؟ وہ الفاظ راوی کو یاد نہیں رہے لیکن ) وہ کچھ ایسے الفاظ تھے جن کے معنی یہ نکلتے تھے : شانے کی ہڈی ، تختی ( کچھ ) لاؤ ۔ ( جب وہ آ گئی تو اس پر لکھا یا ) چنانچہ ( زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ) لکھا : «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اور عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے موجود تھے ۔ ( وہ اندھے تھے ۔ اسی مناسبت سے ) انہوں نے کہا : کیا میرے لیے رخصت ہے ؟ ( میں معذور ہوں ، جہاد نہیں کر پاؤں گا ) تب یہ آیت «غير أولي الضرر» ” ضرر ، نقصان و کمی والے کو یعنی مجبور ، معذور کو چھوڑ کر “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3103]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجہاد 1 (1670)، (تحفة الأشراف: 1859)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 31 (2831)، وتفسیرسورة النساء 18 (4593)، وفضائل القرآن 4 (4990)، صحیح مسلم/الإمارة 40 (1898)، مسند احمد (4/283، 290، 330)، سنن الدارمی/المناسک والجہاد 28 (2464) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 , جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: فَكَيْفَ فِيَّ وَأَنَا أَعْمَى؟ قَالَ: فَمَا بَرِحَ حَتَّى نَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت : «‏لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اتری تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو اندھے تھے آئے اور کہا : اللہ کے رسول ! میرے متعلق کیا حکم ہے ؟ ( میں بیٹھا رہنا تو نہیں چاہتا ) اور آنکھوں سے مجبور ہوں ، ( جہاد بھی نہیں کر سکتا ) پھر تھوڑا ہی وقت گذرا تھا کہ یہ آیت : «غير أولي الضرر» نازل ہوئی ( یعنی معذور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3104]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1909) (صحیح)
5: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي التَّخَلُّفِ لِمَنْ لَهُ وَالِدَانِ
باب: ماں باپ کی موجودگی میں جہاد میں نہ نکلنے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ: " أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لیے آیا ۔ آپ نے اس سے پوچھا : ” کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ “ اس نے کہا : جی ہاں ، تو آپ نے فرمایا : ” پھر تو تم انہیں دونوں کی خدمت کا ثواب حاصل کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3105]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان دونوں کی خدمت کر کے ان کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرو تمہارے لیے یہی جہاد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 138 (3004)، الأدب 3 (5972)، صحیح مسلم/البر 1 (2549)، سنن ابی داود/الجہاد 33 (2529)، سنن الترمذی/الجہاد 2 (1671)، (تحفة الأشراف: 8634)، مسند احمد (2/165، 172، 188، 197، 221) (صحیح)
6: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي التَّخَلُّفِ لِمَنْ لَهُ وَالِدَةٌ
باب: ماں کی موجودگی میں جہاد میں نہ نکلنے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا".
معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان سے ) پوچھا : کیا تمہاری ماں موجود ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ” انہیں کی خدمت میں لگے رہو ، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3106]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جنت کی حصول یابی ماں کی رضا مندی اور خوشنودی کے بغیر ممکن نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد 12 (2781)، (تحفة الأشراف: 11375)، مسند احمد (3/429) (حسن صحیح)
7: بَابُ : فَضْلِ مَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ
باب: اللہ کے راستے میں جان و مال سے جہاد کرنے والے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" قَالَ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں افضل کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” افضل وہ ہے جو اللہ کے راستے میں جان و مال سے جہاد کرے “ ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! پھر کون ؟ آپ نے فرمایا : ” پھر وہ مومن جو پہاڑوں کی کسی گھاٹی میں رہتا ہو ، اللہ سے ڈرتا ہو ، اور لوگوں کو ( ان سے دور رہ کر ) اپنے شر سے بچاتا ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3107]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 24 (2786)، الرقاق 34 (6494)، صحیح مسلم/الإمارة 34 (1888)، سنن ابی داود/الجہاد 5 (2485)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 24 (1660)، سنن ابن ماجہ/الفتن 13 (3978)، (تحفة الأشراف: 4151)، مسند احمد (3/16، 37، 56، 88) (صحیح)
8: بَابُ : فَضْلِ مَنْ عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى قَدَمِهِ
باب: اللہ کے راستے میں پیدل چل کر کام کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ , فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ؟ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، أَوْ عَلَى قَدَمِهِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ، رَجُلًا فَاجِرًا، يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے پیٹھ لگائے خطبہ دے رہے تھے ، آپ نے کہا : ” کیا میں تمہیں اچھے آدمی اور برے آدمی کی پہچان نہ بتاؤں ؟ بہترین آدمی وہ ہے جو پوری زندگی اللہ کے راستے میں گھوڑے یا اونٹ کی پیٹھ پر سوار ہو کر یا اپنے قدموں سے چل کر کام کرے ۔ اور لوگوں میں برا وہ فاجر شخص ہے جو کتاب اللہ ( قرآن ) تو پڑھتا ہے لیکن کتاب اللہ ( قرآن ) کی کسی چیز کا خیال نہیں کرتا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3108]
💡 وضاحت:
۱؎: نہ اس کے احکام پر عمل کرتا ہے، اور نہ ہی منہیات سے باز رہتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، سنده ضعيف، المستدرك (2/ 67،68) وصححه و تناقض قول الذهبي فيه. أبو الخطاب المصري: وثقه الحاكم وحده،واختلف قول الذهي فيه فهو مجهول الحال. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 344
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4412)، مسند احمد (3/37، 41، 57) (ضعیف الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " لَا يَبْكِي أَحَدٌ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، فَتَطْعَمَهُ النَّارُ حَتَّى يُرَدَّ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے خوف سے رونے والے کو جہنم کی آگ اس وقت تک لقمہ نہیں بنا سکتی جب تک کہ ( تھن سے نکلا ہوا ) دودھ تھن میں واپس نہ پہنچا دیا جائے ۱؎ ، اور کسی مسلمان کے نتھنے میں جہاد کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3109]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نہ کبھی دودھ تھن میں پہنچایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اللہ کے خوف سے رونے والا کبھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ۲؎: یعنی مجاہد فی سبیل اللہ جنت ہی میں جائے گا جہنم میں نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 8 (1633)، والزہد 8 (2311)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 9 (2774)، (تحفة الأشراف: 14285)، مسند احمد (2/298، 454) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ تَعَالَى، حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ نَارِ جَهَنَّمَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے خوف سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جا سکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے ۱؎ ، اور اللہ کے راستے کا گرد و غبار اور جہنم کی آگ کا دھواں اکٹھا نہیں ہو سکتے ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3110]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نہ کبھی دودھ تھن میں واپس ہو گا اور نہ ہی اللہ کے خوف سے رونے والا کبھی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ۲؎: یعنی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے والا جہنم میں نہ جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا، ثُمَّ سَدَّدَ وَقَارَبَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ مُؤْمِنٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفَيْحُ جَهَنَّمَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالْحَسَدُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان جس نے کسی کافر کو قتل کر دیا ، اور آخر تک ایمان و عقیدہ اور عمل کی درستگی پر قائم رہا تو وہ دونوں ( یعنی مومن قاتل اور کافر مقتول ) جہنم میں اکٹھا نہیں ہو سکتے ۔ اور نہ ہی کسی مومن کے سینے میں اللہ کے راستے کا گردوغبار اور جہنم کی آگ کی لپٹ و حرارت اکٹھا ہوں گے ۱؎ ، اور کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3111]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جہنم کی آگ کی لپٹ مجاہد کو نہیں چھو سکتی کیونکہ اس کا مقام جنت ہے۔ ۲؎: یعنی مومن کامل حاسد نہیں ہو سکتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12749)، مسند احمد (2/340، 353) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے اور بخل اور ایمان یہ دونوں بھی کسی بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3112]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی پکا مومن ہو گا تو وہ تنگ دل و بخیل نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12262)، مسند احمد (2/256، 342، 441) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي وَجْهِ رَجُلٍ أَبَدًا، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی آدمی کے چہرے پر اللہ کے راستے ( یعنی جہاد ) میں نکلنے کی گرد اور جہنم کی آگ دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے ، اور بخل اور ایمان کبھی کسی بندے کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3113]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو شخص صحیح معنی میں مومن ہو گا وہ بخیل نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي جَوْفِ عَبْدٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد کی گرد اور جہنم کا دھواں دونوں کسی بندے کے سینے میں جمع نہیں ہو سکتے ، اور نہ ہی کسی بندے کے سینے میں بخل اور ایمان اکٹھا ہو سکتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3114]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3112 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کے نتھنے میں اللہ کے راستے کا غبار ، اور جہنم کا دھواں کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3115]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3112 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخَرَيْ مُسْلِمٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں دونوں مسلمان کے نتھنے میں جمع نہیں ہو سکتے ، اور نہ ہی کسی مسلمان کے دل میں بخل اور ایمان اکٹھا ہو سکتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3116]
💡 وضاحت:
۱؎: نہ بخیل کامل مومن ہو سکتا ہے، اور نہ ہی کامل مومن بخیل ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3112 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: " لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانَ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، وَلَا يَجْمَعُ اللَّهُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، الْإِيمَانَ بِاللَّهِ وَالشُّحَّ جَمِيعًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں کسی مسلمان شخص کے پیٹ میں اللہ عزوجل اکٹھا نہ کرے گا ، اور نہ ہی کسی مسلمان کے دل میں اللہ پر ایمان اور بخالت ( کنجوسی ) کو اللہ تعالیٰ ایک ساتھ جمع کرے گا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3117]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3112 (صحیح)
9: بَابُ : ثَوَابِ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کے راستے میں جس کے قدم گرد آلود ہو جائیں اس کے ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: لَحِقَنِي عَبَايَةُ بْنُ رَافِعٍ وَأَنَا مَاشٍ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَبْشِرْ فَإِنَّ خُطَاكَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ حَرَامٌ عَلَى النَّارِ".
یزید بن ابی مریم کہتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز کے لیے جا رہا تھا کہ ( راستے میں ) مجھے عبایہ بن رافع ملے ، کہا : خوش ہو جاؤ ! آپ کے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں ( کیونکہ ) میں نے ابوعبس بن جبر انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے دونوں قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہو جائیں تو وہ آگ یعنی جہنم کے لیے حرام ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3118]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا، اللہ کرے ایسا ہی ہو، انہوں نے جمعہ کے لیے نکلنے کو بھی فی سبیل اللہ میں شامل فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة 18 (907)، الجہاد 16 (2811)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 7 (1632)، (تحفة الأشراف: 9692)، مسند احمد (3/479) (صحیح)
10: بَابُ : ثَوَابِ عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے میں جاگنے والی آنکھ کا ثواب۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَاب، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ شُمَيْرٍ الرُّعَيْنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ التُّجِيبِيَّ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رَيْحَانَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " حُرِّمَتْ عَيْنٌ عَلَى النَّارِ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ابوریحانہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو آنکھ اللہ کے راستے میں جاگی ہو وہ آنکھ جہنم پر حرام ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3119]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایسی آنکھ والا جہنم میں نہ جائے گا بلکہ جنت اس کا ٹھکانہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12040)، مسند احمد (4/134)، سنن الدارمی/الجہاد 11 (2445) (صحیح)
11: بَابُ : فَضْلِ غَدْوَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں صبح سویرے نکلنے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْغَدْوَةُ وَالرَّوْحَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَفْضَلُ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے راستے یعنی جہاد میں صبح یا شام ( کسی وقت بھی نکلنا ) دنیا وما فیہا سے افضل و بہتر ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3120]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 5 (2794)، 73 (2892)، والرقاق 2 (6415)، صحیح مسلم/الإمارة 30 (1881)، (تحفة الأشراف: 4682)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 17 (1648)، 26 (1664)، مسند احمد (3/433 و5/335، 337، 339)، سنن الدارمی/الجہاد 9 (2443) (صحیح)
12: بَابُ : فَضْلِ الرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: شام کے وقت جہاد میں جانے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ".
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد میں صبح کو نکلنا ہو ، یا شام کے وقت یہ کائنات کی ان تمام چیزوں سے افضل و برتر ہے جن پر سورج نکلتا اور ڈوبتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3121]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة30 (1883)، (تحفة الأشراف: 3466)، مسند احمد (5/422) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین طرح کے لوگ ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق اور واجب ہے ، ( ایک ) اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا ( دوسرا ) ایسا نکاح کرنے والا ، جو نکاح کے ذریعہ پاکدامنی کی زندگی گزارنا چاہتا ہو ( تیسرا ) وہ مکاتب ۱؎ جو مکاتبت کی رقم ادا کر کے آزاد ہو جانے کی کوشش کر رہا ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3122]
💡 وضاحت:
۱؎: مکاتب ایسا غلام ہے جو اپنی ذات کی آزادی کی خاطر مالک کیلئے کچھ قیمت متعین کر دے، قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ آزاد ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 20 (1655)، سنن ابن ماجہ/العتق 3 (2518)، (تحفة الأشراف: 13039)، ویأتی عند المؤلف فی النکاح5 (برقم3220) (حسن)
13: بَابُ : الْغُزَاةِ وَفْدُ اللَّهِ تَعَالَى
باب: غازی اللہ کے وفد (اس کے مقرب) ہیں۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَفْدُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ: الْغَازِي، وَالْحَاجُّ، وَالْمُعْتَمِرُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے وفد میں تین ( طرح کے لوگ شامل ) ہیں ( ایک ) مجاہد ( دوسرا ) حاجی ، ( تیسرا ) عمرہ کرنے والا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3123]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ تینوں اللہ کے مقرب ہیں اور اس کے ایلچی کا درجہ رکھتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: وانظر حدیث رقم: 2626 (صحیح)
14: بَابُ : مَا تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِهِ
باب: اللہ اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے کس بات کی ضمانت لیتا ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَكَفَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ، بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اپنی راہ کے مجاہد کا کفیل و ضامن ہے جو خالص جہاد ہی کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے ، اور اس ایمان و یقین کے ساتھ نکلتا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ اسے ( شہید کا درجہ دے کر ) جنت میں داخل فرمائے گا یا پھر اسے ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس کے اس ٹھکانے پر واپس لائے گا ، جہاں سے نکل کر وہ جہاد میں شریک ہوا تھا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3124]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان 26 (36)، الجہاد 2 (2787)، فرض الخمس 8 (3123)، التوحید 28 (6457)، 30 (7463)، (تحفة الأشراف: 13833)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 1 (2753)، موطا امام مالک/الجہاد 1 (2)، مسند احمد (2/231، 384، 399، 494)، سنن الدارمی/الجہاد 2 (2436) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَاب، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي، أَنَّهُ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِأَيِّهِمَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ، أَوْ وَفَاةٍ، أَوْ أَرُدَّهُ، إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَالَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو جو اس کے راستے میں نکلتا ہے ( یعنی جہاد کے لیے ) اور اس کا یہ نکلنا محض اللہ پر اپنے ایمان کے تقاضے ، اور اس کے راستے میں جہاد کے جذبے سے ہے ( تو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو ) اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا چاہے وہ قتل ہو کر مرا ہو ، یا اپنی فطری موت پائی ہو ، یا میں اسے اس اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے ملا ہو ، اور جو بھی ملا ہو ، اس کے اپنے اس گھر پر واپس پہنچا دوں گا جہاں سے وہ جہاد کے لیے نکلا تھا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3125]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14211)، مسند احمد (2/494، ویأتي عند المؤلف 5025 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ، وَتَوَكَّلَ اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ، بِأَنْ يَتَوَفَّاهُ فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يُرْجِعَهُ سَالِمًا بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال ( اور اللہ کو معلوم ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے ) دن بھر روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کی مثال ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ذمہ لیا ہے کہ اسے موت دے گا ، تو اسے جنت میں داخل کرے گا یا ( موت نہیں دے گا تو ) صحیح و سالم حالت میں اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ جو اسے حاصل ہوا ہے اسے واپس اس کے گھر بھیج دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3126]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 2 (2787)، (تحفة الأشراف: 13153) (صحیح)
15: بَابُ : ثَوَابِ السَّرِيَّةِ الَّتِي تُخْفِقُ
باب: خالی ہاتھ لوٹ کر آنے والے غازیوں کے ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَذَكَرَ آخَرَ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ، وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ، فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں ، اور مال غنیمت پاتے ہیں ، تو وہ اپنی آخرت کے اجر کا دو حصہ پہلے پا لیتے ہیں ۱؎ ، اور آخرت میں پانے کے لیے صرف ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے ، اور اگر غنیمت نہیں پاتے ہیں تو ان کا پورا اجر ( آخرت میں ) محفوظ رہتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3127]
💡 وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ جو مجاہد کفار سے جہاد کر کے مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس لوٹ آیا تو سردست اسے دو فائدے دنیا میں حاصل ہو گئے ایک سلامتی دوسرا مال غنیمت اور اللہ کے دشمنوں سے اس نے جہاد کا جو ارادہ کیا تھا اس کے سبب اسے اس کے اجر کا تیسرا حصہ آخرت میں ثواب کی شکل میں ملے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 44 (1906)، سنن ابی داود/الجہاد 13 (2497)، سنن ابن ماجہ/الجہاد (2785)، مسند احمد 2/1629 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَحْكِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي، ضَمِنْتُ لَهُ أَنْ أَرْجِعَهُ، إِنْ أَرْجَعْتُهُ بِمَا أَصَابَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ، وَإِنْ قَبَضْتُهُ غَفَرْتُ لَهُ وَرَحِمْتُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث قدسی میں اپنے رب سے نقل فرماتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ میری رضا چاہتے ہوئے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا تو میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اگر میں اس کو لوٹاؤں گا ( یعنی زندہ واپس گھر بھیجوں گا ) تو لوٹاؤں گا اجر و ثواب اور غنیمت دے کر اور اگر اس کی روح قبض کر لوں گا تو اس کو بخش دوں گا اور اسے اپنی رحمت سے نوازوں گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3128]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6688)، مسند احمد (2/117) (صحیح)
16: بَابُ : مَثَلِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کی مثال۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِهِ، كَمَثَلِ الصَّائِمِ، الْقَائِمِ، الْخَاشِعِ، الرَّاكِعِ، السَّاجِدِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے ( اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں ( واقعی ) جہاد کرنے والا کون ہے ) ۔ اس کی مثال مسلسل روزے رکھنے والے ، نمازیں پڑھنے والے ، اللہ سے ڈرنے والے ، رکوع اور سجدہ کرنے والے کی سی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3129]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جتنے وقت تک مجاہد جہاد میں مشغول رہے اتنا ہی وقت تک نماز پڑھنے والا، اللہ سے ڈرنے والا، رکوع اور سجدہ کرنے والا جس ثواب عظیم کا مستحق ہے اسی ثواب عظیم کا مستحق وہ مجاہد بھی ہے جس خالص نیت سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13308)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد2 (2787) إلی قولہ: ’’القائم‘‘، صحیح مسلم/الإمارة 29 (1878)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 1 (1619) (کلاہما فی سیاق الحدیث الآتی) ما: الجہاد 1 (1)، مسند احمد (2/424، 438، 459، 465) (صحیح)
17: بَابُ : مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: جہاد فی سبیل اللہ کے برابر کیا چیز ہے؟ (کوئی نہیں)۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حُصَيْنٍ، أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ؟ قَالَ: " لَا أَجِدُهُ هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ تَدْخُلُ مَسْجِدًا، فَتَقُومَ لَا تَفْتُرَ، وَتَصُومَ لَا تُفْطِرَ؟" , قَالَ: مَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ؟.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، پھر اس نے کہا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو ( یعنی وہی درجہ رکھتا ہو ) آپ نے فرمایا : ” میں نہیں پاتا کہ تو وہ کر سکے گا ، جب مجاہد جہاد کے لیے ( گھر سے ) نکلے تو تم مسجد میں داخل ہو جاؤ ، اور کھڑے ہو کر نمازیں پڑھنی شروع کرو ( اور پڑھتے ہی رہو ) پڑھنے میں کوتاہی نہ کرو ، اور روزے رکھو ( رکھتے جاؤ ) افطار نہ کرو “ ، اس نے کہا یہ کون کر سکتا ہے ؟ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3130]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کوئی نہیں کر سکتا ہے، معلوم ہوا کہ مجاہد جس درجہ پر فائز ہے اس تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 1 (2785)، (تحفة الأشراف: 12842)، صحیح مسلم/الإمارة 29 (1878)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 1 (1619)، مسند احمد (2/344، 424) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّهُ سَأَلَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کون سا عمل سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3131]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العتق 2 (2518)، صحیح مسلم/الإیمان 35 (84)، سنن ابن ماجہ/العتق 4 (2523)، (تحفة الأشراف: 12004)، مسند احمد (5/150، 163، 171، سنن الدارمی/الرقاق 28 (2780) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ" قَالَ: ثُمَّ مَاذَا، قَالَ: " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: " حَجٌّ مَبْرُورٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کون سا عمل سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ پر ایمان لانا “ ، اس نے کہا : پھر کون سا عمل ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں جہاد کرنا “ ، اس نے کہا : پھر کون سا عمل ؟ آپ نے فرمایا : ” ایسا حج جو اللہ کے نزدیک قبول ہو جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3132]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2625 (صحیح)
18: بَابُ : دَرَجَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے درجات و مراتب۔
مکمل مطالعہ →
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ ," مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ"، قَالَ: فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَفَعَلَ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ"، قَالَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوسعید ! جو شخص راضی ہو گیا اللہ کے رب ۱؎ ہونے پر اور اسلام کو بطور دین قبول کر لیا ۲؎ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ۳؎ کا اقرار کر لیا ، تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی ۴؎ ، ( راوی کہتے ہیں ) یہ کلمات ابوسعید کو بہت بھلے لگے ۔ ( چنانچہ ) عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان کلمات کو آپ مجھے ذرا دوبارہ سنا دیجئیے ، تو آپ نے دہرا دیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لیکن جنت میں بندے کو سو درجوں کی بلندی تک پہنچانے کے لیے ایک دوسری عبادت بھی ہے ( اور درجے بھی کیسے ؟ ) ایک درجہ کا فاصلہ دوسرے درجے سے اتنا ہے جتنا فاصلہ آسمان و زمین کے درمیان ہے ۔ انہوں نے کہا : یہ دوسری عبادت کیا ہے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ( یہ دوسری عبادت ) اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3133]
💡 وضاحت:
۱؎: رب اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے، جس کے معنی ہیں ہر چیز کو پیدا کر کے اس کی ضروریات مہیا کرنے اور اس کو تکمیل تک پہنچانے والا، بغیر اضافت کے اس کا استعمال اللہ کی ذات کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز نہیں، اور اسی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ آدمی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، کیونکہ وہی برتر و بالا مقدس ذات عبادت کی مستحق ہے یہاں رب ماننے کا معنی و مطلب اس رب کے لیے ہر طرح کی عبادت کو خاص کرنا ہے، اس لیے کہ اللہ کو کائنات کے خالق و مالک ماننے اور اس کی ربوبیت کو تسلیم کرنے میں مشرکین عرب و غیر عرب کو اعتراض نہ تھا، ان کا اصل مرض یہی تھا کہ وہ اللہ کو رب اور خالق و مالک مانتے ہوئے اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ ۲؎: اسلام کو بطور دین تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے طریقہ کو چھوڑ کر کوئی اور طریقہ اپنی زندگی میں نہ اپنائے۔ ۳؎: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر و نواہی کو ہر چیز پر مقدم رکھے۔ اور ہر چھوٹے بڑے معاملے میں آپ کے حکم کو بغیر کسی بحث و اعتراض کے قبول کرے۔ ۴؎: بشرطیکہ اس نے شرک، بدعات کی ان میں آمیزش نہ کی ہو اور بدعملی کا شکار نہ ہوا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 31 (1884)، (تحفة الأشراف: 4112)، مسند احمد (3/14) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ سُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " مَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ، وَآتَى الزَّكَاةَ، وَمَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ , هَاجَرَ أَوْ مَاتَ فِي مَوْلِدِهِ" , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَا نُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا بِهَا؟ فَقَالَ: " إِنَّ لِلْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ، بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ، وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي، مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ".
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز قائم کی اور زکاۃ دی ، اور اللہ کے ساتھ کسی طرح کا شرک کئے بغیر مرا تو چاہے ہجرت کر کے مرا ہو یا ( بلا ہجرت کے ) اپنے وطن میں مرا ہو ، اللہ پر اس کا یہ حق بنتا ہے کہ اللہ اسے بخش دے ، ہم صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم یہ خبر لوگوں کو نہ پہنچا دیں جسے سن کر لوگ خوش ہو جائیں ؟ آپ نے فرمایا : ” جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجے کے درمیان آسمان و زمین اتنا فاصلہ ہے ، اور یہ درجے اللہ تعالیٰ نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے بنائے ہیں ، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں مسلمانوں کو مشکل و مشقت میں ڈال دوں گا اور انہیں سوار کرا کے لے جانے کے لیے سواری نہ پاؤں گا اور میرے بعد میرا ساتھ چھوٹ جانے کی انہیں ناگواری اور تکلیف ہو گی تو میں کسی سریہ ( فوجی دستے ) کے ساتھ جانے سے بھی نہ چوکتا اور میں تو پسند کرتا اور چاہتا ہوں کہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ، اور پھر قتل کیا جاؤں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3134]
💡 وضاحت:
۱؎: اس طرح میں بلند سے بلند تر جنت کا درجہ و مرتبہ حاصل کر سکوں گا تو تم بھی صرف جنت میں چلے جانے کو کافی نہ سمجھو بلکہ بلند سے بلند درجے حاصل کرنے کی کوشش کرو، گویا مغفرت کے لیے ایمان کافی تو ہے لیکن جنت میں ترقی درجات جہاد پر موقوف ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10943) (حسن الإسناد)
19: بَابُ : مَا لِمَنْ أَسْلَمَ وَهَاجَرَ وَجَاهَدَ
باب: اسلام لانے، ہجرت کرنے اور جہاد میں حصہ لینے والے کے اجر و ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا زَعِيمٌ، وَالزَّعِيمُ الْحَمِيلُ لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ، وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَأَنَا زَعِيمٌ لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ، وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى غُرَفِ الْجَنَّةِ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلَمْ يَدَعْ لِلْخَيْرِ مَطْلَبًا، وَلَا مِنَ الشَّرِّ مَهْرَبًا يَمُوتُ حَيْثُ شَاءَ أَنْ يَمُوتَ".
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو مجھ پر ایمان لایا ، اور میری اطاعت کی ، اور ہجرت کی ، تو میں اس کے لیے جنت کے احاطے ( فصیل ) میں ایک گھر اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا ذمہ لیتا ہوں ۔ اور میں اس شخص کے لیے بھی جو مجھ پر دل سے ایمان لائے ، اور میری اطاعت کرے ، اور اللہ کے راستے میں جہاد کرے ضمانت لیتا ہوں جنت کے گرد و نواح میں ( فصیل کے اندر ) ایک گھر کا ، اور جنت کے وسط میں ایک گھر کا اور جنت کے بلند بالا خانوں ( منزلوں ) میں سے بھی ایک گھر ( اونچی منزل ) کا ۔ جس نے یہ سب کیا ( یعنی ایمان ، ہجرت اور جہاد ) اس نے خیر کے طلب کی کوئی جگہ نہ چھوڑی ا؎ اور نہ ہی شر سے بچنے کی کوئی جگہ ۲؎ جہاں مرنا چاہے مرے “ ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3135]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی خیر کے طلب کے لیے کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں وہ پہنچا نہ ہو۔ ۲؎: یعنی شر سے اپنے آپ کو بچانے اور اس سے محفوظ رکھنے کے لیے شر کی کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں سے اس نے اپنے آپ کو دور نہ رکھا ہو۔ ۳؎: یعنی ہر طرح کا خیر اس نے حاصل کر لیا ہے، اور ہر طرح کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا ہے، اب اس کے لیے فکر و غم کی کوئی بات نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11037) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ، فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: تُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائِكَ وَآبَاءِ أَبِيكَ، فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: تُهَاجِرُ وَتَدَعُ أَرْضَكَ، وَسَمَاءَكَ، وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ، فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ، فَقَالَ: تُجَاهِدُ فَهُوَ جَهْدُ النَّفْسِ وَالْمَالِ، فَتُقَاتِلُ، فَتُقْتَلُ، فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقْسَمُ الْمَالُ، فَعَصَاهُ فَجَاهَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ وَقَصَتْهُ دَابَّتُهُ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ".
سبرہ بن ابی فاکہہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : شیطان ابن آدم کو بہکانے کے لیے اس کے راستوں میں بیٹھا ۔ کبھی وہ اسلام کے راستہ سے سامنے آیا ۔ کہا : تم اسلام لاتے ہو ؟ اپنے دین کو ، اپنے باپ کے دین کو اور اپنے دادا کے دین کو چھوڑ رہا ہے ؟ ( یہ اچھی بات نہیں ) لیکن انسان نے اس کی بات نہیں مانی اور اسلام لے آیا ۔ پھر وہ ہجرت کے راستے سے اسے بہکانے کے لیے بیٹھا ۔ کہا : تم ہجرت کر رہے ہو ؟ تم اپنی زمین اور اپنا آسمان چھوڑ کر جا رہے ہو ، مہاجر کی مثال لمبی رسی میں بندھے گھوڑے کی مثال ہے ( جو رسی کے دائرے سے باہر کہیں آ جا نہیں سکتا ) ، لیکن اس نے اس کی بات نہیں مانی ( اس کے بہکانے میں نہیں آیا ) اور ہجرت کی ۔ پھر وہ انسان کو جہاد کے راستے سے بہکانے کے لیے بیٹھا ۔ کہا : تم جہاد کرتے ہو ؟ یہ تو جان و مال کو کھپا دینا اور ضائع کر دینا ہے ۔ تم جہاد کرو گے تو قتل کر دیئے جاؤ گے ۔ تمہاری بیوی کی شادی کر دی جائے گی ، اور تمہارا مال بانٹ دیا جائے گا ۔ لیکن اس نے اس کی بات نہیں مانی اور جہاد کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ایسا کیا اس کا اللہ تعالیٰ پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اسے ( اپنی رحمت سے ) جنت میں داخل فرمائے ، اور جو شخص ( اس راہ میں ) شہید ہو گیا اللہ تعالیٰ پر ایک طرح سے واجب ہو گیا کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے ، اگر وہ ( اس راہ میں ) ڈوب گیا تو اسے بھی جنت میں داخل کرنا اللہ پر اس کا حق بنتا ہے ، اگر اسے اس کی سواری گرا کر ہلاک کر دے تو بھی اللہ تعالیٰ پر اس کا حق بنتا ہے کہ اسے بھی ( اپنے فضل و کرم سے ) جنت میں داخل فرمائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3136]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3808)، مسند احمد (3/483) (صحیح)
20: بَابُ : فَضْلِ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں جوڑا دینے والے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ , يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الرَّيَّانِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا عَلَى الَّذِي يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا مِنْ ضَرُورَةٍ هَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ کے راستے میں جوڑا دے ۱؎ ، جنت میں ( اسے مخاطب کر کے ) کہا جائے گا : اللہ کے بندے یہ ہے ( تیری ) بہتر چیز ۔ تو جو کوئی نمازی ہو گا اسے باب صلاۃ ( صلاۃ کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا ، اور جو کوئی مجاہد ہو گا اسے باب جہاد ( جہاد کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا ، اور جو کوئی صدقہ و خیرات دینے والا ہو گا اسے باب صدقہ ( صدقہ و خیرات والے دروازہ ) سے پکارا جائے گا ، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہو گا اسے باب ریان ( سیراب و شاداب دروازہ ) سے بلایا جائے گا “ ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! اس کی کوئی ضرورت و حاجت نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ۲؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3137]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو چیز بھی اللہ کے راستے میں دیتا ہے تو دینے والے کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جوڑا کی شکل میں دے، یا جوڑا سے مراد نیک عمل کی تکرار ہے۔ ۲؎: کیونکہ جنت میں داخل ہونے کا مقصد تو صرف ایک دروازے سے دخول کی اجازت ہی سے حاصل ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2240 (صحیح)
21: بَابُ : مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا
باب: اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے لڑنے والے مجاہد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ أَخْبَرَهُمْ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَيُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : آدمی لڑتا ہے تاکہ اس کا ذکر اور چرچا ہو ۱؎ ، لڑتا ہے تاکہ مال غنیمت حاصل کرے ، لڑتا ہے تاکہ اللہ کے راستے میں لڑنے والوں میں اس کا مقام و مرتبہ جانا پہچانا جائے تو کس لڑنے والے کو اللہ کے راستے کا مجاہد کہیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ کے راستے کا مجاہد اسے کہیں گے جو اللہ کا کلمہ ۲؎ بلند کرنے کے لیے لڑے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3138]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ریاکاری کے ساتھ لڑتا ہے تاکہ لوگوں میں اپنی بہادری کی وجہ سے جانا اور پہچانا جائے۔ ۲؎: یعنی اس کے دین کی بلندی کے لیے لڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 45 (2183)، الجہاد 15 (2810)، الخمس 10 (3126)، التوحید 28 (7458)، صحیح مسلم/الإمارة 42 (1904)، سنن ابی داود/الجہاد 26 (2518)، سنن الترمذی/فضائل 16 (1646)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 13 (2783)، (تحفة الأشراف: 8999)، مسند احمد (4/392، 397، 401، 402، 405، 417) (صحیح)
22: بَابُ : مَنْ قَاتَلَ لِيُقَالَ فُلاَنٌ جَرِيءٌ
باب: بہادر کہلانے کے لیے لڑنے والے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ: أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَوَّلُ النَّاسِ يُقْضَى لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ فُلَانٌ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ، وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ، وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ، لِيُقَالَ عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ، فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ؟ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَلَمْ أَفْهَمْ تُحِبُّ كَمَا أَرَدْتُ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنْ لِيُقَالَ إِنَّهُ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ، فَأُلْقِيَ فِي النَّارِ".
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( کی مجلس ) سے لوگ جدا ہونے لگے ، تو اہل شام میں سے ایک شخص نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : شیخ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث مجھ سے بیان کیجئے ، کہا : ہاں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن پہلے پہل جن لوگوں کا فیصلہ ہو گا ، وہ تین ( طرح کے لوگ ) ہوں گے ، ایک وہ ہو گا جو شہید کر دیا گیا ہو گا ، اسے لا کر پیش کیا جائے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی ( ان ) نعمتوں کی پہچان کروائے گا ( جو نعمتیں اس نے انہیں عطا کی تھیں ) ۔ وہ انہیں پہچان ( اور تسلیم کر ) لے گا ۔ اللہ ( اس ) سے کہے گا : یہ ساری نعمتیں جو ہم نے تجھے دی تھیں ان میں تم نے کیا کیا وہ کہے گا : میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ میں شہید کر دیا گیا ۔ اللہ فرمائے گا : تو جھوٹ بول رہا ہے ۔ بلکہ تو اس لیے لڑاتا کہ کہا جائے کہ فلاں تو بڑا بہادر ہے چنانچہ تجھے ایسا کہا گیا ۱؎ ، پھر حکم دیا جائے گا : اسے لے جاؤ تو اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر لے جایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ ایک وہ ہو گا جس نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا ، اور قرآن پڑھا ، اسے لایا جائے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا ، اللہ ( اس سے ) کہے گا : ان نعمتوں کا تو نے کیا کیا ؟ وہ کہے گا : میں نے علم سیکھا اور اسے ( دوسروں کو ) سکھایا اور تیرے واسطے قرآن پڑھا ۔ اللہ تعالیٰ کہے گا : تو نے جھوٹ اور غلط کہا تو نے تو علم اس لیے سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے چنانچہ تجھے کہا گیا ۔ پھر اسے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ چہرے کے بل گھسیٹ کر اسے لے جایا جائے گا یہاں تک کہ وہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا “ ۔ ایک اور شخص ہو گا جسے اللہ تعالیٰ نے بڑی وسعت دی ہو گی طرح طرح کے مال و متاع دیئے ہوں گے اسے حاضر کیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی عطا کردہ نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا ۔ اللہ ( اس سے ) کہے گا : ان کے شکریہ میں تو نے کیا کیا وہ کہے گا : اے رب ! میں نے کوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جہاں تو پسند کرتا ہے کہ وہاں خرچ کیا جائے ۔ مگر میں نے وہاں خرچ نہ کیا ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو جھوٹ بکتا ہے ، تو نے یہ سب اس لیے کیا کہ تیرے متعلق کہا جائے کہ تو بڑا سخی اور فیاض آدمی ہے چنانچہ تجھے کہا گیا ، اسے یہاں سے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ چہرے کے بل گھسیٹتا ہوا اسے لے جایا جائے گا ۔ اور لے جا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں «تحب» ( کا مفہوم ) جیسا میں چاہتا تھا سمجھ نہ سکا لیکن جو میں نے سمجھا وہ یہ ہے کہ استاذ نے «تحب» کے آگے «أن ينفق فيها» “ کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3139]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تیری جرأت و بہادری کی دنیا میں بڑی تعریفیں ہوئیں اور بڑا چرچا رہا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 43 (1905)، (تحفة الأشراف: 13482)، مسند احمد (2/322، 321) (صحیح)
23: بَابُ : مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَنْوِ مِنْ غَزَاتِهِ إِلاَّ عِقَالاً
باب: جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرے اور نیت ایک رسی حاصل کرنے کی ہو۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَنْوِ إِلَّا عِقَالًا، فَلَهُ مَا نَوَى".
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ، اور کسی اور چیز کی نہیں صرف ایک عقال ( اونٹ کی ٹانگیں باندھنے کی رسی ) کی نیت رکھی تو اس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3140]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ اس کی نیت خالص نہ تھی اس لیے وہ ثواب سے بھی محروم رہے گا، رسی ایک معمولی چیز ہے اس کے حصول کی نیت سے انسان اگر ثواب سے محروم ہو سکتا ہے، تو دین کا کام کرنے والا اگر کسی بڑی چیز کے حصول کی نیت کرے، اور اللہ کی رضا مندی مطلوب نہ ہو تو اس کا کیا حال ہو گا!۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5120)، مسند احمد (5/315، 320، 329)، سنن الدارمی/الجہاد 24 (2460) (حسن)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ غَزَا وَهُوَ لَا يُرِيدُ إِلَّا عِقَالًا فَلَهُ، مَا نَوَى".
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جہاد کیا اور اس نے ( مال غنیمت میں ) صرف عقال ( یعنی ایک معمولی چیز ) حاصل کرنے کا ارادہ کیا ، تو اسے وہی چیز ملے گی جس کا اس نے ارادہ کیا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3141]
💡 وضاحت:
۱؎: مزید اسے اور کوئی چیز از روئے ثواب بشکل انعام و اکرام جنت میں حاصل نہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3140 (حسن)
24: بَابُ : مَنْ غَزَا يَلْتَمِسُ الأَجْرَ وَالذِّكْرَ
باب: اجرت اور شہرت کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ هِلَالٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ مَالَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا شَيْءَ لَهُ" , فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ" ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ".
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کیا : آپ ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے ، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے ، اور شہرت و ناموری کا خواہشمند ہے ، اسے کیا ملے گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے لیے کچھ نہیں ہے “ ۱؎ ۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے ۔ پھر آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو ، اور اس سے اللہ کی رضا مقصود و مطلوب ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3142]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ اس کی نیت خالص نہیں تھی اس لیے وہ ثواب سے محروم رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، عكرمة بن عمار مدلس وعنعن. ولحديثه شاهد ضعيف، جدًا عند الطبراني فى الكبير (8/ 165 ح 7628) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4881)، مسند احمد (4/126) (حسن صحیح)
25: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں اونٹنی کا دودھ اتارنے کے لیے ایک بار چھاتی پکڑنے اور چھوڑنے کے درمیان کے وقفہ تک بھی لڑنے والے کا ثواب۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجًّا، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُمْ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فَوَاقَ نَاقَةٍ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا، ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ، فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً، فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ، وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ".
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو ( مسلمان ) شخص اونٹنی دوہنے کے وقت مٹھی بند کرنے اور کھولنے کے درمیان کے وقفہ کے برابر بھی ( یعنی ذرا سی دیر کے لیے ) اللہ کے راستے میں جہاد کرے ، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ اور جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے اپنی شہادت کی دعا کرے ، پھر وہ مر جائے یا قتل کر دیا جائے تو ( دونوں ہی صورتوں میں ) اسے شہید کا اجر ملے گا ، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہو جائے یا کسی مصیبت میں مبتلا کر دیا جائے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم کا رنگ ( زخمی ہونے کے وقت ) جیسا کچھ تھا ، اس سے بھی زیادہ گہرا و نمایاں ہو گا ، رنگ زعفران کی طرح اور ( اس کا زخم بدنما و بدبودار نہ ہو گا بلکہ اس کی ) خوشبو مشک کی ہو گی ، اور جو شخص اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اس پر شہداء کی مہر ہو گی “ ۱؎ ۔ ۱؎ : یعنی اس کا شمار شہیدوں میں ہو گا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3143]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 42 (2541)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 19 (1654) مختصرا، 21 (1656)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 15 (2792)، (تحفة الأشراف: 11359)، مسند احمد (5/230، 235، 244)، سنن الدارمی/الجہاد 5 (2439) (صحیح)
26: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں تیر اندازی کرنے والے کے ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ صَفْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: يَا عَمْرُو: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى بَلَغَ الْعَدُوَّ، أَوْ لَمْ يَبْلُغْ كَانَ لَهُ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، كَانَتْ لَهُ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ، عُضْوًا بِعُضْوٍ".
عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص اللہ کے راستے میں ( جہاد کرتے کرتے ) بوڑھا ہو گیا ، تو یہ چیز قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گی ، اور جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر بھی چلایا خواہ دشمن کو لگا ہو یا نہ لگا ہو تو یہ چیز اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے درجہ میں ہو گی ۔ اور جس نے ایک مومن غلام آزاد کیا تو یہ آزاد کرنا اس کے ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات دلانے کا فدیہ بنے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3144]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10756)، سنن ابی داود/العتق 14 (3966) (قولہ ’’من أعتق‘‘ الخ فحسب)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 9 (1635) (إلی قولہ: ’’نورا یوم القیامة‘‘)، مسند احمد (4/112، 386) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السَّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ" , فَبَلَّغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا، قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ عِدْلُ مُحَرَّرٍ".
ابونجیح سلمی ( عمرو بن عبسہ ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص اللہ کے راستے میں ایک تیر لے کر پہنچا ، تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ کا باعث بنا “ تو اس دن میں نے سولہ تیر پہنچائے ، راوی کہتے ہیں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تو ( اس کا ) یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3145]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/العتق 14 (3965) مطولا، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 (1638) مختصراً، (تحفة الأشراف: 10768)، مسند احمد (4/113، 384) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ: يَا كَعْبُ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ لَهُ: حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " ارْمُوا، مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً" , قَالَ ابْنُ النَّحَّامِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الدَّرَجَةُ؟ قَالَ: " أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ بِعَتَبَةِ أُمِّكَ، وَلَكِنْ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ".
شرحبیل بن سمط سے روایت ہے کہ انہوں نے کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : کعب ! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کیجئے ، لیکن دیکھئیے اس میں کوئی کمی و بیشی اور فرق نہ ہونے پائے ۔ انہوں نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو مسلمان اسلام پر قائم رہتے ہوئے اللہ کے راستے میں بوڑھا ہوا تو قیامت کے دن یہی چیز اس کے لیے نور بن جائے گی “ ، انہوں نے ( پھر ) ان سے کہا : ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( کوئی اور ) حدیث بیان کیجئے ، لیکن ( ڈر کر اور بچ کر ) بے کم و کاست ( سنائیے ) ۔ انہوں نے کہا : میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( دشمن کو ) تیر مارو ، جس کا تیر دشمن کو لگ گیا تو اس کے سبب اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا “ ، ( یہ سن کر ) ابن النحام نے کہا : اللہ کے رسول ! وہ درجہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ( سن ) وہ تمہاری ماں کی چوکھٹ نہیں ہے ( جس کا فاصلہ بہت کم ہے ) بلکہ ایک درجہ سے لے کر دوسرے درجہ کے درمیان سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3146]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (1634) قال أبو داود: سالم لم يسمع من شرحبيل،مات شرحبيل بصفين (سنن أبى داود: 3967 طرفه الآخر) ولأصل الحديث شواهد عند مسلم (1509) والحميدي (767) وغيرهما. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/العتق 14 (3967)، سنن ابن ماجہ/العتق 4 (2522)، (تحفة الأشراف: 11163)، مسند احمد (4/235-236) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّامِيّ يُحَدِّثُ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ فِيهِ نِسْيَانٌ وَلَا تَنَقُّصٌ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَبَلَغَ الْعَدُوَّ، أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ، كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً، كَانَ فِدَاءُ كُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ، عُضْوًا مِنْهُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ۔ اور اس میں بھول چوک اور کمی و بیشی کا شائبہ تک نہ ہو ۔ تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا ، دشمن کے قریب پہنچا ، قطع نظر اس کے کہ تیر دشمن کو لگایا نشانہ خطا کر گیا ، تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا ، اور جس نے ایک مسلمان غلام آزاد کیا تو غلام کا ہر عضو ( آزاد کرنے والے کے ) ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات کا فدیہ بن جائے گا ، اور جو شخص اللہ کی راہ میں ( لڑتے لڑتے ) بوڑھا ہو گیا ، تو یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3147]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10754)، مسند احمد (4/113) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ، صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَمُنَبِّلَهُ".
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعہ تین طرح کے لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا ۔ ( پہلا ) تیر کا بنانے والا جس نے اچھی نیت سے تیر تیار کیا ہو ، ( دوسرا ) تیر کا چلانے والا ( تیسرا ) تیر اٹھا اٹھا کر پکڑانے اور چلانے کے لیے دینے والا ( تینوں ہی جنت میں جائیں گے ) “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3148]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 24 (2513) مطولا، (تحفة الأشراف: 9922) (ضعیف) (اس کے راوی ”خالد بن زید یا یزید‘‘ لین الحدیث ہیں) ویأتي عند المؤلف في الخیل 8 برقم 3608حدیث کے بعض دوسرے الفاظ وطرق کے لیے دیکھئے: سنن ابی داود 2513)
27: بَابُ : مَنْ كُلِمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے میں زخمی ہونے والے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی اللہ کے راستے میں گھائل ہو گا ، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ۱؎ تو قیامت کے دن ( اس طرح ) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون ٹپک رہا ہو گا ۔ رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3149]
💡 وضاحت:
۱؎: اس جملہ معترضہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں زخمی ہونے والے شخص کے عمل کا دارومدار اس کے اخلاص پر ہے جس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 10 (2803)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، (تحفة الأشراف: 13690)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد 15 (2795)، موطا امام مالک/الجہاد 14 (29)، مسند احمد (3/2 24، 31، 398، 400، 512، 531، 537)، سنن الدارمی/الجہاد 15 (2450) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَلْمٌ يُكْلَمُ فِي اللَّهِ، إِلَّا أَتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْحُهُ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ".
عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں ( یعنی شہداء کو ) ان کے خون میں لت پت ڈھانپ دو ، کیونکہ کوئی بھی زخم جو اللہ کے راستے میں کسی کو پہنچا ہو وہ قیامت کے دن ( اس طرح ) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا ، رنگ خون کا ہو گا ، اور خوشبو اس کی مشک کی ہو گی ۱؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3150]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ آپ نے ان شہداء کے بارے میں فرمایا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخم کھا کر شہید ہو گئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 2004 (صحیح)
28: بَابُ : مَا يَقُولُ مَنْ يَطْعَنُهُ الْعَدُوُّ
باب: مسلمان دشمن سے زخم کھا کر کیا کہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، وَوَلَّى النَّاسُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وَفِيهِمْ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَأَدْرَكَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: مَنْ لِلْقَوْمِ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ: أَنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمَا أَنْتَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: أَنْتَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَإِذَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ: مَنْ لِلْقَوْمِ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ: أَنَا قَالَ: كَمَا أَنْتَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: أَنَا، فَقَالَ: أَنْتَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ , وَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَيُقَاتِلُ قِتَالَ مَنْ قَبْلَهُ، حَتَّى يُقْتَلَ، حَتَّى بَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لِلْقَوْمِ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ: أَنَا، فَقَاتَلَ طَلْحَةُ قِتَالَ الْأَحَدَ عَشَرَ حَتَّى ضُرِبَتْ يَدُهُ فَقُطِعَتْ أَصَابِعُهُ، فَقَالَ: حَسِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قُلْتَ بِسْمِ اللَّهِ لَرَفَعَتْكَ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ رَدَّ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے ، ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ انصاری صحابہ کے ساتھ ایک طرف موجود تھے انہیں میں ایک طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۱؎ ۔ مشرکین نے انہیں ( تھوڑا دیکھ کر ) گھیر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : ” ہماری طرف سے کون لڑے گا “ ؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میں ( آپ کا دفاع کروں گا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم جیسے ہو ویسے ہی رہو “ تو ایک دوسرے انصاری صحابی نے کہا : اللہ کے رسول ! میں ( دفاع کیلئے تیار ہوں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ( لڑو ان سے ) تو وہ لڑے یہاں تک کہ شہید کر دیئے گئے “ ۔ پھر آپ نے مڑ کر ( سب پر ) ایک نظر ڈالی تو مشرکین موجود تھے آپ نے پھر آواز لگائی : ” قوم کی کون حفاظت کرے گا “ ؟ طلحہ رضی اللہ عنہ ( پھر ) بولے : میں حفاظت کروں گا ، آپ نے فرمایا : ” ( تم ٹھہرو ) تم جیسے ہو ویسے ہی رہو “ ، تو دوسرے انصاری صحابی نے کہا : اللہ کے رسول ! میں قوم کی حفاظت کروں گا ، آپ نے فرمایا : ” تم ( لڑو ان سے ) “ پھر وہ صحابی ( مشرکین سے ) لڑے اور شہید ہو گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر ایسے ہی پکارتے رہے اور کوئی نہ کوئی انصاری صحابی ان مشرکین کے مقابلے کے لیے میدان میں اترتا اور نکلتا رہا اور اپنے پہلوں کی طرح لڑ لڑ کر شہید ہوتا رہا ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ بن عبیداللہ ہی باقی رہ گئے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز لگائی ۔ ” قوم کی کون حفاظت کرے گا “ ؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے ( پھر ) کہا : میں کروں گا ( یہ کہہ کر ) پہلے گیارہ ( شہید ساتھیوں ) کی طرح مشرکین سے جنگ کرنے لگ گئے ۔ ( اور لڑتے رہے ) یہاں تک کہ ہاتھ پر ایک کاری ضرب لگی اور انگلیاں کٹ کر گر گئیں ۔ انہوں نے کہا : «حس» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم ( «حس» کے بجائے ) «بسم اللہ» کہتے تو فرشتے تمہیں اٹھا لیتے اور لوگ دیکھ رہے ہوتے “ ، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو واپس کر دیا ( یعنی وہ مکہ لوٹ گئے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3151]
💡 وضاحت:
۱؎: طلحہ بن عبیداللہ کا شمار اگرچہ ان بارہ انصاری صحابہ میں ہوا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، لیکن یہ انصاری نہیں ہیں، یہ اور بات ہے کہ تغلیباً سبھی کو انصاری کہا گیا ہے۔ «حس» : یہ کلمہ درد کی شدت کے وقت بولا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن من قوله فقطعت أصابعه وما قبله يحتمل التحسين وهو على شرط مسلم
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو الزبير مدلس وعنعن. وللحديث شاهد ضعيف، فى مجمع الزوائد (9/ 149) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2893)، (حسن من قولہ’’فقطعت أصابعہ…‘‘ وماقبلہ یحتمل التحسین وہو شرط مسلم)
29: بَابُ : مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ
باب: جہاد کرتے ہوئے خود اپنی ہی تلوار سے ہلاک ہو جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ ابنا كعب بن مالك، أن سلمة بن الأكوع، قَالَ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ، فَقَتَلَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ، قَالَ سَلَمَةُ: فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَرْتَجِزَ بِكَ؟ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقْتَ، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ هَذَا؟ قُلْتُ: أَخِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، يَقُولُونَ: رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ، مِثْلَ ذَلِكَ , غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ حِينَ قُلْتُ: إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا، فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ.
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کی جنگ میں میرا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بہت بہادری سے لڑا ، اتفاق ایسا ہوا کہ اس کی تلوار پلٹ کر خود اسی کو لگ گئی ، اور اسے ہلاک کر دیا ۔ تو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب چہ میگوئیاں کرنے لگے اور شک میں پڑ گئے کہ وہ اپنے ہتھیار سے مرا ہے ۱؎ سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹ کر آئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے اپنے سامنے رجز یہ کلام ( یعنی جوش و خروش والا کلام ) پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خوب سمجھ بوجھ کر کہنا ۲؎ میں نے کہا : قسم اللہ کی اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ـ نہ ہم صدقہ و خیرات کرتے ، نہ نمازیں پڑھتے ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے سچی بات کہی ہے “ ۔ ( دوسرے رجزیہ شعر کا ترجمہ ) : اے اللہ ہم سب پر سکینت ( اطمینان قلب ) نازل فرما - اور جب میدان جنگ میں دشمن سے ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ ۔ مشرکین نے ہم پر ظلم و زیادتی کی ہے ( تو ہماری ان کے مقابلے میں مدد فرما ) ۔ جب میں اپنا رجزیہ کلام پڑھ چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ رجزیہ ( اشعار ) کس نے کہے ہیں ؟ “ میں نے کہا : میرے بھائی نے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ ان پر رحم فرمائے “ ( بہت اچھے رجزیہ اشعار کہے ہیں ) میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ! لوگ تو ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے بچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ شخص خود اپنے ہتھیار سے مرا ہے ۔ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ لڑتا ہوا مجاہد بن کر مرا ہے “ ۱؎ ۔ ابن شہاب زہری ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں : میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے باپ سے یہ حدیث اسی طرح بیان کیا سوائے اس ذرا سے فرق کے کہ جب میں نے عرض کیا کہ کچھ لوگ ان کی نماز پڑھنے سے خوف کھا رہے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ غلط کہتے ہیں ( بدگمانی نہیں کرنی چاہیئے ) وہ جہاد کرتا ہوا بحیثیت ایک مجاہد کے مرا ہے “ ، آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ” اسے دو اجر ملیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3152]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی صحیح موت مرا ہے یا حرام موت کچھ پتہ نہیں۔ ۲؎: یعنی دیکھنا کوئی بات غیر مناسب نہ نکل جائے۔ ۳؎: یہ اور بات ہے کہ دشمن پر حملہ کرتے ہوئے تلوار اتفاقاً خود اسی کو لگ گئی لیکن یہ خودکشی نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجہاد 43 (1802)، سنن ابی داود/الجہاد 40 (2538)، (تحفة الأشراف: 4532)، مسند احمد (4/46) (صحیح)
30: بَابُ : تَمَنِّي الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں مارے جانے کی تمنا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ سَرِيَّةٍ، وَلَكِنْ لَا يَجِدُونَ حَمُولَةً، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيِيتُ، ثُمَّ قُتِلْتُ، ثُمَّ أُحْيِيتُ، ثُمَّ قُتِلْتُ ثَلَاثًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میری امت کے لیے یہ بات باعث تکلیف و مشقت نہ ہوتی تو میں کسی بھی فوجی ٹولی و جماعت کے ساتھ نکلنے میں پیچھے نہ رہتا ، لیکن لوگوں کے پاس سواریوں کا انتظام نہیں ، اور نہ ہی ہمارے پاس وافر سواریاں ہیں کہ میں انہیں ان پر بٹھا کر لے جا سکوں ؟ اور وہ لوگ میرا ساتھ چھوڑ کر رہنا نہیں چاہتے ۔ ( اس لیے میں ہر سریہ ( فوجی دستہ ) کے ساتھ نہیں جاتا ) مجھے تو پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر مارا جاؤں “ ، آپ نے ایسا تین بار فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3153]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 119 (2972)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، موطا امام مالک/الجہاد 14 (27)، مسند احمد (2/424، 473، 496، (تحفة الأشراف: 12885) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ بِأَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ، ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر بہت سے مسلمانوں کے لیے یہ بات ناگواری اور تکلیف کی نہ ہوتی کہ وہ ہم سے پیچھے رہیں ۔ ( ہمارا ان کا ساتھ چھوٹ جائے ) اور ہمارے ساتھ یہ دقت بھی نہ ہوتی کہ ہمارے پاس سواریاں نہیں ہیں جن پر ہم انہیں سوار کرا کے لے جائیں تو میں اللہ کے راستے میں جنگ کرنے کے لیے نکلنے والے کسی بھی فوجی دستہ سے پیچھے نہ رہتا ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، مجھے پسند ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر قتل کیا جاؤں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3154]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 7 (2797)، (تحفة الأشراف: 13154) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمِيرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنَ النَّاسِ مِنْ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ يَقْبِضُهَا رَبُّهَا تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَأَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، غَيْرُ الشَّهِيد". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ ابْنُ أَبِي عَمِيرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ وَالْمَدَرِ".
ابن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی بھی مسلمان شخص جو اپنی زندگی کے دن پورے کر کے اس دنیا سے جا چکا ہو یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ پھر لوٹ کر تمہارے پاس اس دنیا میں آئے اگرچہ اسے دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں دے دی جائیں سوائے شہید کے ۱؎ ، مجھے اپنا اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جانا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میری ملکیت میں دیہات ، شہر و قصبات کے لوگ ہوں “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3155]
💡 وضاحت:
۱؎: شہید ہی کی ایک ایسی ہستی ہے جو باربار دنیا میں آنا اور اللہ کے راستے میں مارا جانا پسند کرتی ہے۔ ۲؎: یعنی سب کے سب میرے غلام ہوں اور میں انہیں آزاد کرتا رہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11227)، مسند احمد (4/216) (حسن)
31: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ عزوجل کے راستے میں شہید ہونے والے کے ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ: رَجُلٌ يَوْمَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: " فِي الْجَنَّةِ، فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن ایک شخص نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کہا : آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں شہید ہو گیا تو میں کہاں ہوں گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت میں ہو گے “ ، ( یہ سنتے ہی ) اس نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی کھجوریں پھینک دیں ، ( میدان جنگ میں اتر گیا ) جنگ کی اور شہید ہو گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3156]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 17 (4044)، صحیح مسلم/الإمارة 41 (1899)، (تحفة الأشراف: 2530)، موطا امام مالک/الجہاد 18 (42)، مسند احمد (3/308) (صحیح)
32: بَابُ : مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى وَعَلَيْهِ دَيْنٌ
باب: مقروض شخص کا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا، مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي سَيِّئَاتِي، قَالَ: " نَعَمْ"، ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: هَا أَنَا ذَا، قَالَ: " مَا قُلْتَ؟" قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا، مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي سَيِّئَاتِي؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِلَّا الدَّيْنَ سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ آنِفًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ بتائیے اگر میں اللہ کے راستے میں ثواب کی نیت رکھتے ہوئے جنگ کروں ، اور جم کر لڑوں ، آگے بڑھتا رہوں پیٹھ دکھا کر نہ بھاگوں ، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ مٹا دے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، پھر ایک لمحہ خاموشی کے بعد آپ نے پوچھا : ” سائل اب کہاں ہے “ ؟ وہ آدمی بولا : ہاں ( جی ) میں حاضر ہوں ، ( یا رسول اللہ ! ) آپ نے فرمایا : ” تم نے کیا کہا تھا ؟ “ اس نے کہا : آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں جم کر اجر و ثواب کی نیت سے آگے بڑھتے ہوئے ، پیٹھ نہ دکھاتے ہوئے لڑتا ہوا مارا جاؤں تو کیا اللہ میرے گناہ بخش دے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ( بخش دے گا ) سوائے قرض کے ، جبرائیل علیہ السلام نے آ کر ابھی ابھی مجھے چپکے سے یہی بتایا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3157]
💡 وضاحت:
۱؎: قرض معاف نہیں کرے گا کیونکہ یہ بندے کا حق ہے، اس کے ادا کرنے یا بندہ کے معاف کرنے سے ہی اس سے چھٹکارا ملے گا، گویا قرض دار ہونا یہ باعث گناہ نہیں ہے بلکہ طاقت رکھتے ہوئے قرض ادا نہ کرنا یہ باعث گناہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13056) مسند احمد (2/308، 330) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا، مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ" فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ، نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَنُودِيَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ قُلْتَ" فَأَعَادَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، إِلَّا الدَّيْنَ، كَذَلِكَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! آپ بتائیے اس بارے میں کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جاؤں ، اور حال یہ ہو کہ میں نے ثواب کی نیت سے جم کر جنگ لڑی ہو ، آگے بڑھتے ہوئے نہ کہ پیٹھ دکھاتے ہوئے ، تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “ پھر جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دے کر اسے بلایا ۔ ( راوی کو شبہ ہو گیا بلایا ) یا آپ نے اسے بلانے کے لیے کسی کو حکم دیا ۔ تو اسے بلایا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سے ) کہا : ” تم نے کیسے کہا تھا “ ؟ تو اس نے آپ کے سامنے اپنی بات دہرا دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، سوائے قرض کے سب معاف کر دے گا ، جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3158]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 32 (1885)، سنن الترمذی/الجہاد 32 (1712)، ما/الجہاد 14 (31)، مسند احمد 5/297، 304، 308، سنن الدارمی/الجہاد21 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ: أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ، أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ , إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ، مُحْتَسِبٌ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ، إِلَّا الدَّيْنَ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي ذَلِكَ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے لوگوں کو ( ایک دن ) خطاب فرمایا : ” اور انہیں بتایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد اور اللہ پر ایمان سب سے بہتر اعمال میں سے ہیں “ ، ( یہ سن کر ) ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا : اللہ کے رسول ! آپ کا کیا خیال ہے ، اگر میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو بخش دے گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اگر تم اللہ کے راستے میں قتل کر دیئے گئے ، اور تم نے لڑائی ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ثواب کی نیت سے لڑی ہے پیٹھ دکھا کر بھاگے نہیں ہو تو قرض ( حقوق العباد ) کے سوا سب کچھ معاف ہو جائے گا ۔ کیونکہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے ایسا ہی بتایا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3159]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا، مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، حَتَّى أُقْتَلَ، أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ يَقُولُ: إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس وقت آپ منبر پر ( کھڑے خطاب فرما رہے ) تھے ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ بتائیے اگر میں اپنی تلوار اللہ کے راستے میں چلاؤں ، ثابت قدمی کے ساتھ ، بہ نیت ثواب ، سینہ سپر رہوں پیچھے نہ ہٹوں یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے سبھی گناہوں کو مٹا دے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ، پھر جب وہ جانے کے لیے مڑا ، آپ نے اسے بلایا اور کہا : ” یہ جبرائیل ہیں ، کہتے ہیں : مگر یہ کہ تم پر قرض ہو “ ( تو قرض معاف نہیں ہو گا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3160]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 32 (1885)، (تحفة الأشراف: 12104) (صحیح)
33: بَابُ : مَا يُتَمَنَّى فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں شہید ہونے والے کی تمنا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ بْنِ سُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَلَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ، تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ وَلَهَا الدُّنْيَا، إِلَّا الْقَتِيلُ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ، فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى".
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہید کے سوا دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا نہیں ہے جسے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے یہاں خیر ملا ہوا ہو ( اچھا مقام و مرتبہ حاصل ہو ) پھر وہ لوٹ کر تم میں آنے کے لیے تیار ہو اگرچہ اسے پوری دنیا مل رہی ہو ۔ ( صرف شہید ہے ) جو لوٹ کر دنیا میں آنا اور دوبارہ قتل ہو کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا پسند کرتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3161]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ اسے اپنی شہادت کی وجہ سے جو عزت و مرتبہ اور بلند مقام حاصل ہوا ہے وہ دوبارہ کی شہادت سے اور بھی بڑھ جائے اور بلند ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5108)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/في الإمارة 29 (1877) مسند احمد (5/318، 322) (حسن صحیح)
34: بَابُ : مَا يَتَمَنَّى أَهْلُ الْجَنَّةِ
باب: اہل جنت کی تمنا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ: سَلْ وَتَمَنَّ، فَيَقُولُ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا، فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكِ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت والوں میں سے ایک شخص اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا ، اللہ اس سے کہے گا : آدم کے بیٹے ! تم نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا ؟ وہ کہے گا : اے میرے رب ! مجھے تو بہترین ٹھکانہ ملا ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کہے گا تمہاری کوئی طلب اور کوئی تمنا ہو تو مانگو اور ظاہر کرو ۔ وہ کہے گا : میری تجھ سے یہی تمنا و طلب ہے کہ تو مجھے دنیا میں دسیوں بار بھیج تاکہ ( میں جاؤں ) پھر تیری راہ میں مارا جاؤں ۔ اس کی یہ تمنا شہادت کی فضیلت دیکھنے کی وجہ سے ہو گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3162]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/صفات المنافقین 12 (2807)، (تحفة الأشراف: 336)، مسند احمد (3/131، 2030، 207، 239، 253) (صحیح)
35: بَابُ : مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنَ الأَلَمِ
باب: شہید کو پہنچنے والی تکلیف کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشَّهِيدُ لَا يَجِدُ مَسَّ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمُ الْقَرْصَةَ يُقْرَصُهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہید کو قتل کے وار سے بس اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے محسوس ہوتی ہے ( پھر اس کے بعد تو آرام ہی آرام ہے ) “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3163]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (1668) ابن ماجه (2802) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 26 (1668)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 16 (2802)، (تحفة الأشراف: 12861)، مسند احمد (2/297)، سنن الدارمی/الجہاد 17 (2452) (حسن صحیح)
36: بَابُ : مَسْأَلَةِ الشَّهَادَةِ
باب: (اللہ کے راستے میں) شہادت مانگنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ، بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ".
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص سچے دل سے شہادت کی طلب کرے تو وہ چاہے اپنے بستر پر ہی کیوں نہ مرے اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مقام پر پہنچا دے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3164]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ اسے بھی جنت میں انہیں کی طرح مقام و مرتبہ اور گھر عطا کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة46 (1909)، سنن ابی داود/الصلاة 361 (1520)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 19 (1653)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 15 (2797)، (تحفة الأشراف: 4655)، سنن الدارمی/الجہاد 16 (2451) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَمْسٌ مَنْ قُبِضَ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ فَهُوَ شَهِيدٌ: الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالنُّفَسَاءُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ".
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ حالتیں ہیں ان میں سے کسی بھی ایک حالت پر مرنے والا شہید ہو گا ، اللہ کے راستے ( جہاد ) میں نکلا اور قتل ہو گیا تو وہ شہید ہے ، جہاد میں نکلا اور ڈوب کر مر گیا تو وہ شہید ہے ، جہاد میں نکلا اور دست میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گیا تو وہ بھی شہید ہے ، جہاد میں نکلا اور طاعون میں مبتلا ہو کر مر گیا وہ بھی شہید ہے ، عورت ( شوہر کے ساتھ جہاد میں نکلی ہے ) حالت نفاس میں مر گئی تو وہ بھی شہید ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3165]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9931) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِلَى رَبِّنَا فِي الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ، فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ: إِخْوَانُنَا قُتِلُوا كَمَا قُتِلْنَا، وَيَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ: إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ، كَمَا مُتْنَا، فَيَقُولُ: رَبُّنَا انْظُرُوا إِلَى جِرَاحِهِمْ، فَإِنْ أَشْبَهَ جِرَاحُهُمْ جِرَاحَ الْمَقْتُولِينَ، فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ، وَمَعَهُمْ، فَإِذَا جِرَاحُهُمْ قَدْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَهُمْ".
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” طاعون میں مرنے والوں کے بارے میں شہدا اور اپنے بستروں پر مرنے والے اللہ کے حضور اپنا جھگڑا ( مقدمہ ) پیش کریں گے ، شہید لوگ کہیں گے : یہ ہمارے بھائی ہیں ، جیسے ہم مارے گئے ہیں یہ لوگ بھی مارے گئے ہیں ، اور جو لوگ اپنے بستروں پر وفات پائے ہیں وہ کہیں گے یہ ہمارے بھائی ہیں یہ لوگ اپنے بستروں پر مرے ہیں جیسے ہم لوگ اپنے بستروں پر پڑے پڑے مرے ہیں ۔ تو میرا رب کہے گا : ان کے زخموں کو دیکھو اگر ان کے زخم شہیدوں کے زخم سے ملتے ہیں تو یہ لوگ شہیدوں میں سے ہیں اور شہیدوں کے ساتھ رہیں گے ، تو جب دیکھا گیا تو ان کے زخم شہیدوں کی طرح نکلے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3166]
💡 وضاحت:
۱؎: شہداء کا مقصد اس جھگڑے سے یہ ہے کہ طاعون سے مرنے والوں کے مراتب و درجات ہماری طرح ہو جائیں جب کہ بستروں پر وفات پانے والوں کا جھگڑا محض اس لیے ہو گا کہ طاعون سے مرنے والوں کی طرح ہمیں بھی شہداء کا درجہ ملنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: (تحفة الأشراف: 9889)، مسند احمد (4/128، 129) (صحیح)
37: بَابُ : اجْتِمَاعِ الْقَاتِلِ وَالْمَقْتُولِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فِي الْجَنَّةِ
باب: قاتل اور شہید دونوں کے جنت میں ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْجَبُ مِنْ رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى، لَيَضْحَكُ مِنْ رَجُلَيْنِ، يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ثُمَّ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر تعجب کرتا ہے کہ ایک ان میں کا ساتھی کو قتل کرتا ہے “ ، اور دوسری بار آپ نے یوں فرمایا : ” اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے جن میں کا ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے ، پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہوئے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3167]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 35 (1890)، (تحفة الأشراف: 13685) (صحیح)
38: بَابُ : تَفْسِيرِ ذَلِكَ
باب: قاتل اور شہید دونوں کے جنت میں جانے کی تفسیر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُقْتَلُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ، فَيُقَاتِلُ فَيُسْتَشْهَدُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے ۔ ( دونوں لڑتے ہیں ) ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے ۔ لیکن دونوں جنت میں جاتے ہیں ، ایک اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے ، تو وہ قتل ہو جاتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ مارنے والے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے ۔ پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور شہادت پا جاتا ہے “ ۔ ( اس طرح دونوں جنت کے مستحق ہو جاتے ہیں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3168]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 28 (2826)، (تحفة الأشراف: 13834) (صحیح)
39: بَابُ : فَضْلِ الرِّبَاطِ
باب: سرحد پر پہرے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ رَابَطَ يَوْمًا وَلَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَ لَهُ كَأَجْرِ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا أُجْرِيَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ مِنَ الْأَجْرِ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ الرِّزْقُ، وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ".
سلمان الخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات پہرہ دیا اسے ایک مہینے کے روزے و نماز کا ثواب ملے گا ، اور جو پہرہ دینے کی حالت میں مر گیا اسے اسی طرح کا اجر برابر ملتا رہے گا ، اور اس کا رزق بھی جاری کر دیا جائے گا ، اور وہ فتنوں سے محفوظ ہو جائے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3169]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ منکر نکیر اور قبر و حشر کے فتنوں سے محفوظ ہو جائے گا، اور پہرہ داری کی وجہ سے اس کے لیے ثواب ہمیشہ جاری رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 50 (1913)، (تحفة الأشراف: 4491)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 26 (1665)، مسند احمد (5/440، 441) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ , عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَابَطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، كَانَتْ لَهُ كَصِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، فَإِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ، وَأَمِنَ الْفَتَّانَ، وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ".
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک دن ایک رات پہرہ دیا اسے ایک ماہ کے روزے رکھنے اور نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا ، اور اگر وہ ( اس دوران ) مر گیا تو وہ جو کام کر رہا تھا اس کا وہ کام جاری تصور کیا جائے گا ۔ اور ( منکر و نکیر کے ) فتنوں سے محفوظ ہو جائے گا ، ( یعنی وہ اس سے سوال و جواب کرنے کے لیے اس کے پاس حاضر نہ ہوں گے ) اور اس کے لیے اس کا رزق ( جو شہداء کا رزق ہے ) جاری کر دیا جائے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3170]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3169 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ".
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( جہاد کے دنوں میں ) اللہ کے راستے کی ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں کی ہزار دنوں کی پہرہ داری سے بہتر ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3171]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 26 (1667)، (تحفة الأشراف: 9844)، مسند احمد (1/62، 65، 66، 75)، سنن الدارمی/الجہاد 32 (2468) (حسن)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَوْمٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ".
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ کے راستے ( جہاد ) کا ایک دن اس کے سوا کے ہزار دن سے بہتر ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3172]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (حسن)
40: بَابُ : فَضْلِ الْجِهَادِ فِي الْبَحْرِ
باب: سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَأَطْعَمَتْهُ وَجَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكٌ عَلَى الْأَسِرَّةِ"، أَوْ مِثْلُ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، شَكَّ إِسْحَاق، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَامَ، وَقَالَ الْحَارِثُ: فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَضَحِكَ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مُلُوكٌ عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلُ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ"، كَمَا قَالَ فِي الْأَوَّلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ: " أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ" فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے یہاں بھی جاتے ، وہ آپ کو کھانا کھلاتیں ۔ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر کی جوئیں دیکھنے بیٹھ گئیں ۔ آپ سو گئے ، پھر جب اٹھے تو ہنستے ہوئے اٹھے ، کہتی ہیں : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کو کس چیز نے ہنسایا ؟ آپ نے فرمایا : ” ( خواب میں ) مجھے میری امت کے کچھ مجاہدین دکھائے گئے وہ اس سمندر کے سینے پر سوار تھے ، تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ لگتے تھے “ ، یا تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں جیسے لگتے تھے ۔ ( اس جگہ اسحاق راوی کو شک ہو گیا ہے ( کہ ان کے استاد نے «ملوك على الأسرة» کہا ، یا «مثل الملوك على الأسرة» کہا ) ۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرما دی ، پھر آپ سو گئے ۔ ( اور حارث کی روایت میں یوں ہے ۔ آپ سوئے ) پھر جاگے ، پھر ہنسے پھر میں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! آپ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے ؟ آپ نے ( جیسے اس سے پہلے فرمایا تھا ) فرمایا : ” مجھے میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے وہ تختوں پر بیٹھے بادشاہ تھے ، یا تختوں پر بیٹھے بادشاہوں جیسے لگتے تھے ۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! دعا فرمائیے کہ اللہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں شامل فرمائے ، آپ نے فرمایا : تم ( سمندر میں جہاد کرنے والوں کے ) پہلے گروپ میں ہو گی ۔ ( انس بن مالک راوی حدیث فرماتے ہیں ) پھر وہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سمندری سفر پر جہاد کے لیے نکلیں تو وہ سمندر سے نکلتے وقت اپنی سواری سے گر کر ہلاک ہو گئیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3173]
💡 وضاحت:
۱؎: قباء مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔ ام حرام بنت ملحان کہا جاتا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 3 (2788)، 93 (2924)، الاستئذان41 (6282)، التعبیر 12 (7001)، صحیح مسلم/الإمارة 49 (1912)، سنن ابی داود/الجہاد 10 (2490)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 15 (1645)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 10 (2776)، (تحفة الأشراف: 199)، موطا امام مالک/الجہاد 18 (39)، مسند احمد (3/240) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ , قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عِنْدَنَا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: " رَأَيْتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ" , قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: " فَإِنَّكِ مِنْهُمْ" ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: يَعْنِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ , قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: " أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَرَكِبَ الْبَحْرَ، وَرَكِبَتْ مَعَهُ، فَلَمَّا خَرَجَتْ، قُدِّمَتْ لَهَا بَغْلَةٌ، فَرَكِبَتْهَا فَصَرَعَتْهَا، فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا".
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں آئے اور سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے ۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کس چیز نے آپ کو ہنسایا ؟ آپ نے فرمایا : ” میں نے اپنی امت میں سے ایک جماعت دیکھی جو اس سمندری ( جہاز ) پر سوار تھے ، ایسے لگ رہے تھے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوں “ ، میں نے کہا : اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے ، آپ نے فرمایا : ” تم اپنے کو انہیں میں سے سمجھو “ ، پھر آپ سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے ، پھر میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنی پہلی ہی بات دہرائی ، میں نے پھر دعا کی درخواست کی کہ آپ دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے انہیں لوگوں میں کر دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ( سوار ہونے والوں کے ) پہلے دستے میں ہو گی “ ۔ پھر ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے شادی کی ۱؎ ، اور وہ سمندری جہاد پر نکلے تو وہ بھی انہیں کے ساتھ سمندری سفر پر نکلیں ، پھر جب وہ جہاز سے نکلیں تو سواری کے لیے انہیں ایک خچر پیش کیا گیا ، وہ اس پر سوار ہوئیں تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی ( اور ان کا انتقال ہو گیا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3174]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے ان کی شادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بشارت کے بعد ہوئی ہے جب کہ اس سے «ما قبل» کی روایت میں یہ ہے کہ ام حرام رضی الله عنہا اس وقت عبادہ کے ماتحت تھیں۔ دونوں روایتوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلی روایت میں «و كانت تحت عبادة» کے جملہ سے راوی کی مراد وقت کی تقیید کے بغیر دونوں کے تعلق کو بیان کرنا ہے جب کہ اس روایت میں وقت اور حال کی قید کے ساتھ اس تعلق کی وضاحت کرنا راوی کا مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 8 (2799)، 63 (2877، 2878)، 75 (2894، 2895)، صحیح مسلم/الإمارة 49 (1912)، سنن ابی داود/الجہاد 10 (2490، 2492)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 10 2776)، (تحفة الأشراف: 18307)، مسند احمد (6/361، 423)، سنن الدارمی/الجہاد 29 (2465) (صحیح)
41: بَابُ : غَزْوَةِ الْهِنْدِ
باب: ہند کے غزوے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سَيَّارٍ. ح قَالَ: وَأَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ جَبْرِ بْنِ عَبِيدَةَ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: " وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَزْوَةَ الْهِنْدِ، فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا أُنْفِقْ فِيهَا نَفْسِي وَمَالِي، فَإِنْ أُقْتَلْ كُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ أَرْجِعْ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( مسلمانوں ) سے ہندوستان پر لشکر کشی کا وعدہ فرمایا ، یعنی پیش گوئی کی ، تو اگر ہند پر لشکر کشی میری زندگی میں ہوئی تو میں جان و مال کے ساتھ اس میں شریک ہوں گا ۔ اگر میں قتل کر دیا گیا تو بہترین شہداء میں سے ہوں گا ، اور اگر زندہ واپس آ گیا تو میں ( جہنم سے ) نجات یافتہ ابوہریرہ کہلاؤں گا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3175]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، جبر بن عبيده: لم يوثقه غير ابن حبان وقال الذهبي: بخبر منكر،لا يعرف من ذا؟ (ميزان الإعتدال: 1/ 388) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12234)، مسند احمد (2/228) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’جبر، یا جبیر‘‘ لین الحدیث ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، عَنْ جَبْرِ بْنِ عَبِيدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْهِنْدِ، فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا أُنْفِقْ فِيهَا نَفْسِي وَمَالِي، وَإِنْ قُتِلْتُ كُنْتُ أَفْضَلَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ رَجَعْتُ، فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ہندوستان کے غزوے کا وعدہ فرمایا یعنی پیش گوئی کی تو میں نے اگر اسے پا لیا ، یعنی میری زندگی ہی میں ہند میں جہاد کا وقت آ گیا تو میں اپنی جان و مال سب اس میں لگا دوں گا ۔ اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو برتر شہداء میں شامل ہوں گا اور اگر ( شہادت نصیب نہ ہوئی ) زندہ بچ کر واپس آ گیا تو ابوہریرہ «محرر» ہوں گا ، یعنی وہ ابوہریرہ ہوں گا جو جہنم کے عذاب سے آزاد کر دیا گیا ہو گا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3176]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، جبر بن عبيده: لم يوثقه غير ابن حبان وقال الذهبي: بخبر منكر،لا يعرف من ذا؟ (ميزان الإعتدال: 1/ 388) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3175 (ضعیف الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ أَخِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَدِيٍّ الْبَهْرَانِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمَا اللَّهُ مِنَ النَّارِ: عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ، وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام".
ثوبان رضی الله عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کر دیا ہے ۔ ایک گروہ وہ ہو گا جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہو گا جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3177]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2096)، مسند احمد (5/278) (صحیح)
42: بَابُ : غَزْوَةِ التُّرْكِ وَالْحَبَشَةِ
باب: ترک اور حبشہ سے جنگ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُحَرَّرِينَ، عَنْ رَجُلٍ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ، عَرَضَتْ لَهُمْ صَخْرَةٌ حَالَتْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْحَفْرِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ، وَوَضَعَ رِدَاءَهُ نَاحِيَةَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ: " وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلا لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة الأنعام آية 115" , فَنَدَرَ ثُلُثُ الْحَجَرِ، وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَائِمٌ يَنْظُرُ، فَبَرَقَ مَعَ ضَرْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرْقَةٌ، ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِيَةَ، وَقَالَ: وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلا لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة الأنعام آية 115 , فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْآخَرُ، فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ، فَرَآهَا سَلْمَانُ، ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَةَ، وَقَالَ: وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلا لا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة الأنعام آية 115 , فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْبَاقِي , وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ وَجَلَسَ قَالَ سَلْمَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُكَ حِينَ ضَرَبْتَ مَا تَضْرِبُ ضَرْبَةً إِلَّا كَانَتْ مَعَهَا بَرْقَةٌ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا سَلْمَانُ رَأَيْتَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: فَإِنِّي حِينَ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الْأُولَى رُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ كِسْرَى وَمَا حَوْلَهَا وَمَدَائِنُ كَثِيرَةٌ، حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ، قَالَ لَهُ: مَنْ حَضَرَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَهَا عَلَيْنَا وَيُغَنِّمَنَا دِيَارَهُمْ، وَيُخَرِّبَ بِأَيْدِينَا بِلَادَهُمْ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، ثُمَّ ضَرَبْتُ الضَّرْبَةَ الثَّانِيَةَ، فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ قَيْصَرَ وَمَا حَوْلَهَا، حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَفْتَحَهَا عَلَيْنَا وَيُغَنِّمَنَا دِيَارَهُمْ وَيُخَرِّبَ بِأَيْدِينَا بِلَادَهُمْ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الثَّالِثَةَ، فَرُفِعَتْ لِي مَدَائِنُ الْحَبَشَةِ وَمَا حَوْلَهَا مِنَ الْقُرَى حَتَّى رَأَيْتُهَا بِعَيْنَيَّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عِنْدَ ذَلِكَ دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ، وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ".
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خندق کھودنے کا حکم دیا تو ایک چٹان نمودار ہوئی جو ان کی کھدائی میں رکاوٹ بن گئی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، کدال پکڑی اپنی چادر خندق کے ایک کنارے رکھی ، اور آیت «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر کدال چلائی تو ایک تہائی پتھر ٹوٹ کر گر گیا ، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کھڑے دیکھ رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کدال چلائی ، ایک چمک پیدا ہوئی پھر آپ نے آیت : «‏تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم‏» پڑھ کر دوبارہ کدال چلائی تو دوسرا تہائی حصہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا پھر دوبارہ چمک پیدا ہوئی ، سلمان نے پھر اسے دیکھا ۔ پھر آپ نے آیت : «تمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلماته وهو السميع العليم» پڑھ کر تیسری ضرب لگائی تو باقی تیسرا تہائی حصہ بھی الگ ہو گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے نکل آئے ، اپنی چادر لی اور تشریف فرما ہوئے ، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جب آپ نے ضرب لگائی تو میں نے آپ کو دیکھا ، جب بھی آپ نے ضرب لگائی آپ کی ضرب کے ساتھ ایک چمک پیدا ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : سلمان ! تم نے یہ دیکھا ؟ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول جی ہاں ! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ( میں نے ایسا ہی دیکھا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے ( پردے اٹھا کر ) فارس کے شہر اور اس کے اطراف کے دیہات اور دوسرے بہت سے شہر دکھائے گئے میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے خود دیکھا “ ، اس وقت آپ کے جو صحابہ وہاں موجود تھے انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ اللہ سے دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر ہمیں فتح نصیب فرمائے اور ان کا ملک ہمیں بطور غنیمت عطا کرے ، اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں ویران و برباد کرے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرما دی ، پھر جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو پردے اٹھا کر مجھے قیصر کے شہر اور اس کے اطراف ( کے قصبات و دیہات ) دکھائے گئے ( کہ یہ سب تمہیں ملنے والے ہیں ) میں نے اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھا ہے ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں کہ ان ممالک کو فتح کرنے میں وہ ہماری مدد فرمائے اور وہ علاقے ہمیں غنیمت میں ملیں اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی دعا فرمائی ، پھر جب میں نے تیسری ضرب لگائی ، تو مجھے ملک حبشہ کے شہر اور گاؤں دکھائے گئے ، میں نے فی الحقیقت انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا ، اس موقع پر آپ نے یوں فرمایا : ” حبشہ کو چھوڑ دو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھیں اور ترک کو چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں چھوڑے رہیں “ ( لیکن اگر وہ تم سے ٹکرائیں تو تم بھی ان سے ٹکراؤ اور انہیں شکست دو ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3178]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الملاحم 8 (4302) مختصرا، (تحفة الأشراف: 15689) (حسن)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ قَوْمًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ يَلْبَسُونَ الشَّعَرَ، وَيَمْشُونَ فِي الشَّعَرِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں گے جن کے چہرے تہہ بتہہ ڈھالوں کی طرح گول مٹول ہوں گے ، بالوں کے لباس پہنیں گے ۱؎ اور بالوں میں چلیں گے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3179]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان کے لباس بالوں سے بنے ہوئے ہوں گے یا ان کے لباس ایسے گھنے اور لمبے ہوں گے کہ لباس کی طرح لٹک رہے ہوں گے۔ ۲؎: یعنی ان کی جوتیوں پر بال ہوں گے یا ان کی جوتیاں بالوں سے تیار کی گئی ہوں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الفتن 18 (2912)، سنن ابی داود/الملاحم 9 (4303)، (تحفة الأشراف: 12766)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 95 (2928)، 96 (2929)، والمناقب25 (3590)، سنن ابن ماجہ/الفتن 36 (4096)، مسند احمد (2/239، 271، 300، 319، 338، 475، 493، 530) (صحیح)
43: بَابُ : الاِسْتِنْصَارِ بِالضَّعِيفِ
باب: کمزور آدمی سے مدد چاہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ ظَنَّ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا، بِدَعْوَتِهِمْ، وَصَلَاتِهِمْ، وَإِخْلَاصِهِمْ".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ۱؎ ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں ، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3180]
💡 وضاحت:
۱؎: انہیں ایسا خیال شاید اپنی مالداری، بہادری، تیر اندازی اور زور آوری کی وجہ سے ہوا۔ ۲؎: اس لیے انہیں حقیر و کمزور نہ سمجھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 76 (2896)، (تحفة الأشراف: 3935)، مسند احمد (1/173) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ابْغُونِي الضَّعِيفَ، فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ، وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ".
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے لیے کمزور کو ڈھونڈو ، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزوروں کی دعاؤں کی وجہ سے روزی ملتی ہے ، اور تمہاری مدد کی جاتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3181]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لیے تم کمزوروں کا خیال رکھو تاکہ تمہیں ان کی دعائیں حاصل ہوتی رہیں، تمہیں روزی ملتی رہے اور اللہ کی طرف سے تمہاری مدد ہوتی رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 77 (2594)، سنن الترمذی/الجہاد 24 (1702)، (تحفة الأشراف: 10923)، مسند احمد (5/198) (صحیح)
44: بَابُ : فَضْلِ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا
باب: مجاہد کو سامان جہاد سے لیس کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ، فَقَدْ غَزَا".
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کے راستے میں کسی لڑنے والے کو اسلحہ اور دیگر سامان جنگ سے لیس کیا ۔ اس نے ( گویا کہ ) خود جنگ میں شرکت کی ، اور جس نے مجاہد کے جہاد پر نکلنے کے بعد اس کے گھر والوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی ۱؎ تو وہ بھی ( گویا کہ ) جنگ میں شریک ہوا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3182]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مجاہد کے گھر والوں کی دیکھ بھال کے دوران نگرانی کرنے والے نے مجاہد کے اہل خانہ پر نہ تو بری نگاہ ڈالی اور نہ ہی کسی قسم کی خیانت کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 38، (2843)، صحیح مسلم/الإمارة 38 (1895)، سنن ابی داود/الجہاد 21 (2509)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 6 (1628)، (تحفة الأشراف: 3747)، مسند احمد (4/115، 116، 117، و5/192، 193، سنن الدارمی/الجہاد 27 (2463) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا، فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ، فَقَدْ غَزَا".
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مجاہد کو مسلح کر کے بھیجا ، تو گویا اس نے خود جہاد کیا ۔ اور جس نے مجاہد کے پیچھے ( یعنی اس کی غیر موجودگی میں ) اس کے گھر والوں کی حفاظت و نگہداشت کی تو اس نے ( گویا ) خود جہاد کیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3183]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3182 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْحَجَّ، فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا، إِذْ أَتَانَا آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اجْتَمَعُوا فِي الْمَسْجِدِ وَفَزِعُوا، فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى نَفَرٍ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ، وَفِيهِمْ عَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَإِنَّا لَكَذَلِكَ إِذْ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَلَيْهِ مُلَاءَةٌ صَفْرَاءُ، قَدْ قَنَّعَ بِهَا رَأْسَهُ، فَقَالَ: أَهَهُنَا طَلْحَةُ، أَهَهُنَا الزُّبَيْرُ، أَهَهُنَا سَعْدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" , فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا، وَأَجْرُهُ لَكَ، قَالُوا: اللَّهُمَّ، نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ ابْتَاعَ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" , فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: اجْعَلْهَا سِقَايَةً لَلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَقَالَ: " مَنْ يُجَهِّزُ هَؤُلَاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" يَعْنِي جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى لَمْ يَفْقِدُوا عِقَالًا، وَلَا خِطَامًا، فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ".
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم حاجی لوگ نکلے ، اور مدینہ پہنچے ، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا ہم ابھی اپنا سامان اتار کر اپنے ڈیروں میں رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والا ہمارے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں ، اور گھبرائے ہوئے ہیں ، ہم بھی وہاں پہنچے دیکھا کہ لوگ بیچ مسجد میں کچھ ( اکابر ) صحابہ کو گھیرے ہوئے ہیں ، ان میں علی ، زبیر ، طلحہ اور سعد بن ابی وقاص ( رضی اللہ عنہم ) ہیں ، ہم ابھی یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان رضی اللہ عنہ پیلی چادر پہنے ہوئے اور اسی سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تشریف لائے ۱؎ ، اور کہا : کیا یہاں طلحہ ہیں ؟ کیا یہاں زبیر ہیں ؟ کیا یہاں سعد ہیں ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں ہیں ، تو انہوں نے کہا : میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں : کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ” جو شخص بنی فلاں کا کھلیان ( مسجد نبوی کے قریب کی زمین ) خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا “ تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : ” اسے ہماری مسجد میں شامل کر دو ، اس کا ثواب تمہیں ملے گا “ ( چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا ) لوگوں نے کہا : اے ہمارے رب ! ہاں یہ سچ ہے ۔ انہوں نے ( پھر ) کہا : میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں : کیا تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا ، اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا “ ، تو میں نے اسے اتنے اور اتنے میں خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اتنے اور اتنے میں اسے خرید لیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے ( وقف ) کر دو ، اس کا اجر تمہیں ملے گا “ ، ( تو میں نے اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے عام کر دیا ) ، لوگوں نے کہا : اے ہمارے رب ! ہاں ( یہ سچ ہے ) ، انہوں نے پھر کہا : میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے : کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈال کر کہا تھا جو کوئی انہیں ( تنگی و محتاجی والی فوج کو ) ضروریات جنگ سے مسلح کر دے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا ، میں نے اس لشکر کو ہر طرح سے مسلح کر دیا یہاں تک کہ رسی اور نکیل کی بھی انہیں ضرورت نہ رہی ۔ لوگوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہاں ( یہ سچ ہے ) ۔ انہوں نے کہا : اے اللہ ! تو گواہ رہ ، اے اللہ ! تو گواہ رہ ، اے اللہ ! تو گواہ رہ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3184]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب خوارج نے عثمان رضی الله عنہ کے خلاف باغیانہ کارروائیاں شروع کر دی تھیں، اور ان سے خلافت سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ۲؎: یہ میں نے تیری رضا اور اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9781)، مسند احمد (1/70، و یأتي عند المؤلف برقم: 3636، 3637) (ضعیف)
45: بَابُ : فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَاب: الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ بَاب: الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ بَاب: الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ، دُعِيَ مِنْ بَاب: الرَّيَّانِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ؟، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے اللہ کے راستے ( جہاد ) میں جوڑا جوڑا دیا ۱؎ جنت میں اس سے کہا جائے گا : اللہ کے بندے یہ ہے ( تیری ) بہتر چیز ، تو جو کوئی نمازی ہو گا اسے باب صلاۃ ( صلاۃ کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا اور جو کوئی مجاہد ہو گا اسے باب جہاد ( جہاد کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا ، اور جو کوئی خیرات دینے والا ہو گا اسے باب صدقہ ( صدقہ و خیرات والے دروازہ ) سے پکارا جائے گا ، اور جو کوئی اہل صیام میں سے ہو گا اسے باب ریان ( سیراب و شاداب دروازے ) سے بلایا جائے گا “ ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ( اللہ کے نبی ! ) اس کی کوئی ضرورت و حاجت تو نہیں کہ کسی کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے ۲؎ کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3185]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو چیز بھی اللہ کے راستے میں دیتا ہے تو دینے والے کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ بشکل جوڑا دے یا جوڑا سے مراد نیک عمل کی تکرار ہے۔ ۲؎: کیونکہ جنت میں داخل ہونے کا مقصد تو صرف ایک دروازے سے دخول کی اجازت ہی سے حاصل ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر (رقم: 2240) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو سَلمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، دَعَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَا فُلَانُ هَلُمَّ فَادْخُلْ، فَقَالَ أبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَاكَ الَّذِي لَا تَوَى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے اللہ کے راستے میں جوڑا جوڑا صدقہ دیا اسے جنت کے سبھی دروازوں کے دربان بلائیں گے : اے فلاں ادھر آؤ ( ادھر سے ) جنت میں داخل ہو “ ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! اس میں آپ اس شخص کا کوئی نقصان تو نہیں سمجھتے ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( نہیں ) میں تو توقع رکھتا ہوں کہ تم ان ہی ( خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہو گے “ ( جنہیں جنت کے سبھی دروازوں سے جنت میں داخل ہونے کے لیے بلایا جائے گا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3186]
💡 وضاحت:
۱؎: بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض ہے لیکن یہ تعارض اس طرح ختم ہو جاتا ہے کہ یہاں اس بات کا احتمال ہے کہ ایک ہی مجلس میں یہ دونوں واقعے پیش آئے ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں داخل ہونے کے لیے حسب وحی الٰہی پہلے ہر عابد کو اس کے مخصوص دروازے سے پکارے جانے کی خبر دی پھر جب ابوبکر رضی الله عنہ نے سوال کیا تو آپ نے ایک ہی عابد کو تمام دروازوں سے پکارے جانے کی خبر دی، اور ساتھ ہی ابوبکر رضی الله عنہ کو اس کی بشارت بھی دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14996) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ حَدِّثْنِي، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ" , قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: " إِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ".
صعصہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو میں نے ان سے کہا : مجھ سے آپ کوئی حدیث بیان کیجئے ، تو انہوں نے کہا : اچھا ( پھر کہا : ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی مسلمان اللہ کے راستے میں اپنا ہر مال جوڑا جوڑا کر کے خرچ کرتا ہے تو جنت کے سبھی دربان اس کا استقبال کریں گے اور ہر ایک کے پاس جو کچھ ہو گا انہیں دینے کے لیے اسے بلائیں گے “ ، ( صعصعہ کہتے ہیں ) میں نے کہا : یہ کیسے ہو گا ؟ تو انہوں نے کہا : اگر اونٹ رکھتا ہو تو دو اونٹ دیئے ہوں ، اور گائیں رکھتا ہو تو دو گائیں دی ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3187]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی کچھ وضاحت فرمائیے کہ ہر قسم کے مال سے جوڑا دینے کا کیا مطلب ہے؟
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11924)، مسند احمد (5/151، 159153، 164)، سنن الدارمی/الجہاد 13 (2447) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ الرُّكَيْنِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُسَيْرِ ابْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كُتِبَتْ لَهُ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ".
خریم بن فاتک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں سات سو گنا بڑھا کر لکھا گیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3188]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 4 (1625)، (تحفة الأشراف: 3526)، مسند احمد (4/322، 345، 346) (صحیح)
46: بَابُ : فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَأْتِيَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَبْعِ مِائَةِ نَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ".
ابومسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مہار والی ایک اونٹنی اللہ کے راستے میں صدقہ میں دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن ( اس ایک اونٹنی کے بدلہ میں ) سات سو مہار والی اونٹنیوں کے ( ثواب ) کے ساتھ آئے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3189]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 37 (1892)، (تحفة الأشراف: 9987)، مسند احمد (4/221 و5/274) (حسن)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الْغَزْوُ غَزْوَانِ: فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ، وَأَطَاعَ الْإِمَامَ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ، وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، كَانَ نَوْمُهُ وَنُبْهُهُ أَجْرًا كُلُّهُ، وَأَمَّا مَنْ غَزَا رِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ، وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعُ بِالْكَفَافِ".
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد دو طرح کے ہیں : ایک جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا اللہ کی رضا و خوشنودی کا طالب ہو ، امام ( سردار ) کی اطاعت کرے ، اپنی پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں خرچ کرے ، اپنے شریک کو سہولت پہنچائے ، اور فساد سے بچے تو اس کا سونا ، و جاگنا سب کچھ باعث اجر ہو گا ۔ دوسرا جہاد وہ ہے جس میں جہاد کرنے والا ریاکاری اور شہرت کے لیے جہاد کرے ، امیر ( سردار و سپہ سالار ) کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد پھیلائے تو وہ برابر سرابر نہیں لوٹے گا ۱؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3190]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسے کچھ ثواب نہیں ملے گا، بلکہ ہو سکتا ہے الٹا اسے عذاب ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد25 (2515)، (تحفة الأشراف: 11329)، موطا امام مالک/الحج 18 (43) (موقوفا) مسند احمد (5/234)، سنن الدارمی/الجہاد 25 (2461)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4200 (حسن)
47: بَابُ : حُرْمَةِ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ
باب: مجاہدین کی بیویوں کی عزت و حرمت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَاللَّفْظُ لِحُسَيْنٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَخْلُفُ فِي امْرَأَةِ رَجُلٍ مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فَيَخُونُهُ فِيهَا، إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَخَذَ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ فَمَا ظَنُّكُمْ".
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد میں جانے والوں کی بیویوں کی عزت و حرمت جہاد میں نہ جانے والوں کے لیے ان کی ماؤں کی عزت و حرمت جیسی ہے ۱؎ جو شخص مجاہدین کی بیویوں کی حفاظت و نگہداشت کے لیے گھر پر رہا اور اس نے کسی مجاہد کی بیوی کے ساتھ خیانت کی تو اسے قیامت کے دن روک رکھا جائے گا ، ( یعنی اس کا حساب و کتاب اس وقت تک چکتا نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ) وہ مجاہد اس خائن کے اعمال کا ثواب جس قدر چاہے گا لے ( نہ ) لے گا ۔ تو تمہارا کیا خیال ہے ؟ “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3191]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مجاہدین کی بیویوں کی عزت و توقیر جہاد پر نہ جانے والوں پر واجب ہے۔ ۲؎: کیا وہ اس کے لیے کچھ چھوڑے گا؟ وہ تو اس کی ساری نیکیاں لے لے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 39 (1897)، سنن ابی داود/الجہاد 12 (2496)، (تحفة الأشراف: 1933)، مسند احمد (5/352، 355) (صحیح)
48: بَابُ : مَنْ خَانَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ
باب: غازی کی بیوی کے ساتھ خیانت کرنے والے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَإِذَا خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ فَخَانَهُ قِيلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَذَا خَانَكَ فِي أَهْلِكَ، فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ فَمَا ظَنُّكُمْ".
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجاہدین کی بیویاں گھروں پر بیٹھ رہنے والوں کے لیے ویسی ہی حرام ہیں جیسی ان کی مائیں ان کے حق میں حرام ہیں ۔ اگر وہ ( مجاہد ) کسی کو گھر پر ( دیکھ بھال کے لیے ) چھوڑ گیا اور اس نے اس کی ( امانت میں ) خیانت کی ۔ تو قیامت کے دن اس ( مجاہد ) سے کہا جائے گا ( یہ ہے تیرا مجرم ) یہ ہے جس نے تیری بیوی کے تعلق سے تیرے ساتھ خیانت کی ہے ۔ تو تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تمہارا کیا گمان ہے “ ( کیا وہ کچھ باقی چھوڑے گا ؟ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3192]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3191 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَعْنَبٌ كُوفِيٌّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ فِي الْحُرْمَةِ كَأُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ إِلَّا نُصِبَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: يَا فُلَانُ هَذَا فُلَانٌ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ" , ثُمَّ الْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: " مَا ظَنُّكُمْ تُرَوْنَ يَدَعُ لَهُ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْئًا".
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجاہدین کی بیویوں کی حرمت گھر پر بیٹھ رہنے والوں پر ویسی ہی ہے جیسی ان کی ماؤں کی حرمت ان پر ہے ، اگر گھر پر بیٹھ رہنے والے کسی شخص کو کسی مجاہد نے اپنی غیر موجودگی میں اپنی بیوی بچوں کی دیکھ بھال سونپ دی ، ( اور اس نے اس کے ساتھ خیانت کی ) تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور پکار کر کہا جائے گا : اے فلاں ! یہ فلاں ہے ( تمہارا مجرم آؤ اور ) اس کی نیکیوں میں سے جتنا چاہو لے لو “ ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ اس کی نیکیوں میں سے کچھ باقی چھوڑے گا ؟ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3193]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3191 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاهِدُوا بِأَيْدِيكُمْ، وَأَلْسِنَتِكُمْ، وَأَمْوَالِكُمْ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد کرو اپنے ہاتھوں سے ، اپنی زبانوں سے ، اور اپنے مالوں کے ذریعہ “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3194]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسلام کی ترویج و اشاعت، حفاظت و دفاع کے لیے طاقت و تلوار اور زبان و قلم کے استعمال میں اور مال و دولت کے خرچ میں دریغ نہ کرو، مال اور ہاتھ سے جہاد کا مطلب بالکل واضح ہے، زبان سے جہاد کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے جہاد کے فضائل بیان کئے جائیں اور لوگوں کو اس پر ابھارنے کے ساتھ انہیں اس کی رغبت دلائی جائے۔ قلم اور خطابت کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت اور اس کے خلاف پروپیگنڈہ کا جواب دیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3098 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الشَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ الْأَصْبَغِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ، وَقَالَ: " مَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنَّا".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپوں کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا : ” جو ان کے بدلے ( اور انتقام و قصاص ) سے ڈرے ( اور ان کو نہ مارے ) وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3195]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (5249) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأدب174 (5249) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ جَبْرًا، فَلَمَّا دَخَلَ سَمِعَ النِّسَاءَ يَبْكِينَ، وَيَقُلْنَ كُنَّا نَحْسَبُ وَفَاتَكَ قَتْلًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ: " وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ إِلَّا مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِنَّ شُهَدَاءَكُمْ إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ، وَالْحَرَقُ شَهَادَةٌ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ، وَالْمَغْمُومُ يَعْنِي الْهَدِمَ شَهَادَةٌ، وَالْمَجْنُوب شَهَادَةٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ، قَالَ رَجُلٌ: أَتَبْكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ؟ قَالَ: " دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ عَلَيْهِ بَاكِيَةٌ".
عبداللہ بن جبر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبر رضی اللہ عنہ کی عیادت ( بیمار پرسی ) کے لیے تشریف لائے ، جب گھر میں ( اندر ) پہنچے تو آپ نے عورتوں کے رونے کی آواز سنی ۔ وہ کہہ رہی تھیں : ہم جہاد میں آپ کی شہادت کی تمنا کر رہے تھے ( لیکن وہ آپ کو نصیب نہ ہوئی ) ۔ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم شہید صرف اسی کو سمجھتے ہو جو جہاد میں قتل کر دیا جائے ؟ اگر ایسی بات ہو تو پھر تو تمہارے شہداء کی تعداد بہت تھوڑی ہو گی ۔ ( سنو ) اللہ کے راستے میں مارا جانا شہادت ہے ، پیٹ کی بیماری میں مرنا شہادت ہے ، جل کر مرنا شہادت ہے ، ڈوب کر مرنا شہادت ہے ، ( دیوار وغیرہ کے نیچے ) دب کر مرنا شہادت ہے ، ذات الجنب یعنی نمونیہ میں مبتلا ہو کر مرنا شہادت ہے ، حالت حمل میں مر جانے والی عورت شہید ہے “ ، ایک شخص نے کہا : تم سب رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چھوڑ دو انہیں کچھ نہ کہو ۔ ( انہیں رونے دو کیونکہ مرنے سے پہلے رونا منع نہیں ہے ) البتہ جب انتقال ہو جائے تو کوئی رونے والی اس پر ( زور زور سے ) نہ روئے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3196]
💡 وضاحت:
۱؎: کوئی نوحہ کرنے والی اس پر نوحہ نہ کرے، رہ گیا دھیرے دھیرے رونا اور آنسو بہانا تو یہ ایک فطری عمل ہے اسلام اس سے نہیں روکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1847 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الطَّائِيَّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَبْرٍ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيِّتٍ فَبَكَى النِّسَاءُ، فَقَالَ جَبْرٌ: أَتَبْكِينَ مَا دَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا؟ قَالَ: " دَعْهُنَّ يَبْكِينَ مَا دَامَ بَيْنَهُنَّ، فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ".
جبر بن عتیک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک میت کے یہاں پہنچے تو عورتیں رونے لگیں تو انہوں نے کہا : تم رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چھوڑو انہیں رونے دو جب تک کہ وہ ان میں موجود ہے ۔ پھر جب وہ انتقال کر جائے تو کوئی عورت ( چیخ چیخ کر ) نہ روئے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3197]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1847 (صحیح)
← پچھلی کتاب #28 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #30 →