سنن النسائي حدیث نمبر: 3132
Sunan an-Nasa'i 3132
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
17: بَابُ : مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: جہاد فی سبیل اللہ کے برابر کیا چیز ہے؟ (کوئی نہیں)۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ" قَالَ: ثُمَّ مَاذَا، قَالَ: " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: " حَجٌّ مَبْرُورٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کون سا عمل سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ پر ایمان لانا “ ، اس نے کہا : پھر کون سا عمل ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں جہاد کرنا “ ، اس نے کہا : پھر کون سا عمل ؟ آپ نے فرمایا : ” ایسا حج جو اللہ کے نزدیک قبول ہو جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3132]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2625 (صحیح)