سنن النسائي حدیث نمبر: 3128
Sunan an-Nasa'i 3128
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
15: بَابُ : ثَوَابِ السَّرِيَّةِ الَّتِي تُخْفِقُ
باب: خالی ہاتھ لوٹ کر آنے والے غازیوں کے ثواب کا بیان۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يَحْكِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي، ضَمِنْتُ لَهُ أَنْ أَرْجِعَهُ، إِنْ أَرْجَعْتُهُ بِمَا أَصَابَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ، وَإِنْ قَبَضْتُهُ غَفَرْتُ لَهُ وَرَحِمْتُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث قدسی میں اپنے رب سے نقل فرماتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ میری رضا چاہتے ہوئے اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلا تو میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اگر میں اس کو لوٹاؤں گا ( یعنی زندہ واپس گھر بھیجوں گا ) تو لوٹاؤں گا اجر و ثواب اور غنیمت دے کر اور اگر اس کی روح قبض کر لوں گا تو اس کو بخش دوں گا اور اسے اپنی رحمت سے نوازوں گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3128]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6688)، مسند احمد (2/117) (صحیح)