سنن النسائي حدیث نمبر: 3140
Sunan an-Nasa'i 3140
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
23: بَابُ : مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَنْوِ مِنْ غَزَاتِهِ إِلاَّ عِقَالاً
باب: جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرے اور نیت ایک رسی حاصل کرنے کی ہو۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَنْوِ إِلَّا عِقَالًا، فَلَهُ مَا نَوَى".
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ، اور کسی اور چیز کی نہیں صرف ایک عقال ( اونٹ کی ٹانگیں باندھنے کی رسی ) کی نیت رکھی تو اس کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3140]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ اس کی نیت خالص نہ تھی اس لیے وہ ثواب سے بھی محروم رہے گا، رسی ایک معمولی چیز ہے اس کے حصول کی نیت سے انسان اگر ثواب سے محروم ہو سکتا ہے، تو دین کا کام کرنے والا اگر کسی بڑی چیز کے حصول کی نیت کرے، اور اللہ کی رضا مندی مطلوب نہ ہو تو اس کا کیا حال ہو گا!۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5120)، مسند احمد (5/315، 320، 329)، سنن الدارمی/الجہاد 24 (2460) (حسن)