سنن النسائي حدیث نمبر: 3142
Sunan an-Nasa'i 3142
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
24: بَابُ : مَنْ غَزَا يَلْتَمِسُ الأَجْرَ وَالذِّكْرَ
باب: اجرت اور شہرت کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ هِلَالٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ مَالَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا شَيْءَ لَهُ" , فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ" ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ".
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کیا : آپ ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے ، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے ، اور شہرت و ناموری کا خواہشمند ہے ، اسے کیا ملے گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے لیے کچھ نہیں ہے “ ۱؎ ۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے ۔ پھر آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو ، اور اس سے اللہ کی رضا مقصود و مطلوب ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3142]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ اس کی نیت خالص نہیں تھی اس لیے وہ ثواب سے محروم رہے گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، عكرمة بن عمار مدلس وعنعن. ولحديثه شاهد ضعيف، جدًا عند الطبراني فى الكبير (8/ 165 ح 7628) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4881)، مسند احمد (4/126) (حسن صحیح)