سنن النسائي حدیث نمبر: 3105
Sunan an-Nasa'i 3105
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
5: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي التَّخَلُّفِ لِمَنْ لَهُ وَالِدَانِ
باب: ماں باپ کی موجودگی میں جہاد میں نہ نکلنے کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ: " أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لیے آیا ۔ آپ نے اس سے پوچھا : ” کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ “ اس نے کہا : جی ہاں ، تو آپ نے فرمایا : ” پھر تو تم انہیں دونوں کی خدمت کا ثواب حاصل کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3105]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان دونوں کی خدمت کر کے ان کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرو تمہارے لیے یہی جہاد ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 138 (3004)، الأدب 3 (5972)، صحیح مسلم/البر 1 (2549)، سنن ابی داود/الجہاد 33 (2529)، سنن الترمذی/الجہاد 2 (1671)، (تحفة الأشراف: 8634)، مسند احمد (2/165، 172، 188، 197، 221) (صحیح)