سنن النسائي حدیث نمبر: 3103
Sunan an-Nasa'i 3103
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
4: بَابُ : فَضْلِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ
باب: گھر بیٹھ رہنے والوں پر جہاد کے لیے نکلنے والوں کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قَالَ: " ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَاللَّوْحِ، فَكَتَبَ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، خَلْفَهُ، فَقَالَ: هَلْ لِي رُخْصَةٌ فَنَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرمایا : کیا فرمایا ؟ وہ الفاظ راوی کو یاد نہیں رہے لیکن ) وہ کچھ ایسے الفاظ تھے جن کے معنی یہ نکلتے تھے : شانے کی ہڈی ، تختی ( کچھ ) لاؤ ۔ ( جب وہ آ گئی تو اس پر لکھا یا ) چنانچہ ( زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ) لکھا : «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اور عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے موجود تھے ۔ ( وہ اندھے تھے ۔ اسی مناسبت سے ) انہوں نے کہا : کیا میرے لیے رخصت ہے ؟ ( میں معذور ہوں ، جہاد نہیں کر پاؤں گا ) تب یہ آیت «غير أولي الضرر» ” ضرر ، نقصان و کمی والے کو یعنی مجبور ، معذور کو چھوڑ کر “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3103]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الجہاد 1 (1670)، (تحفة الأشراف: 1859)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 31 (2831)، وتفسیرسورة النساء 18 (4593)، وفضائل القرآن 4 (4990)، صحیح مسلم/الإمارة 40 (1898)، مسند احمد (4/283، 290، 330)، سنن الدارمی/المناسک والجہاد 28 (2464) (صحیح)