سنن النسائي حدیث نمبر: 3106
Sunan an-Nasa'i 3106
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
6: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي التَّخَلُّفِ لِمَنْ لَهُ وَالِدَةٌ
باب: ماں کی موجودگی میں جہاد میں نہ نکلنے کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا".
معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان سے ) پوچھا : کیا تمہاری ماں موجود ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ” انہیں کی خدمت میں لگے رہو ، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3106]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جنت کی حصول یابی ماں کی رضا مندی اور خوشنودی کے بغیر ممکن نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الجہاد 12 (2781)، (تحفة الأشراف: 11375)، مسند احمد (3/429) (حسن صحیح)