سنن النسائي حدیث نمبر: 3108
Sunan an-Nasa'i 3108
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
8: بَابُ : فَضْلِ مَنْ عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى قَدَمِهِ
باب: اللہ کے راستے میں پیدل چل کر کام کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ , فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ؟ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، أَوْ عَلَى قَدَمِهِ، حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ، رَجُلًا فَاجِرًا، يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے پیٹھ لگائے خطبہ دے رہے تھے ، آپ نے کہا : ” کیا میں تمہیں اچھے آدمی اور برے آدمی کی پہچان نہ بتاؤں ؟ بہترین آدمی وہ ہے جو پوری زندگی اللہ کے راستے میں گھوڑے یا اونٹ کی پیٹھ پر سوار ہو کر یا اپنے قدموں سے چل کر کام کرے ۔ اور لوگوں میں برا وہ فاجر شخص ہے جو کتاب اللہ ( قرآن ) تو پڑھتا ہے لیکن کتاب اللہ ( قرآن ) کی کسی چیز کا خیال نہیں کرتا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3108]
💡 وضاحت:
۱؎: نہ اس کے احکام پر عمل کرتا ہے، اور نہ ہی منہیات سے باز رہتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، سنده ضعيف، المستدرك (2/ 67،68) وصححه و تناقض قول الذهبي فيه. أبو الخطاب المصري: وثقه الحاكم وحده،واختلف قول الذهي فيه فهو مجهول الحال. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 344
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4412)، مسند احمد (3/37، 41، 57) (ضعیف الإسناد)