سنن النسائي حدیث نمبر: 3111
Sunan an-Nasa'i 3111
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
8: بَابُ : فَضْلِ مَنْ عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى قَدَمِهِ
باب: اللہ کے راستے میں پیدل چل کر کام کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا، ثُمَّ سَدَّدَ وَقَارَبَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ مُؤْمِنٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفَيْحُ جَهَنَّمَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالْحَسَدُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان جس نے کسی کافر کو قتل کر دیا ، اور آخر تک ایمان و عقیدہ اور عمل کی درستگی پر قائم رہا تو وہ دونوں ( یعنی مومن قاتل اور کافر مقتول ) جہنم میں اکٹھا نہیں ہو سکتے ۔ اور نہ ہی کسی مومن کے سینے میں اللہ کے راستے کا گردوغبار اور جہنم کی آگ کی لپٹ و حرارت اکٹھا ہوں گے ۱؎ ، اور کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3111]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جہنم کی آگ کی لپٹ مجاہد کو نہیں چھو سکتی کیونکہ اس کا مقام جنت ہے۔ ۲؎: یعنی مومن کامل حاسد نہیں ہو سکتا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12749)، مسند احمد (2/340، 353) (صحیح)