سنن النسائي حدیث نمبر: 3162
Sunan an-Nasa'i 3162
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ، فَيَقُولُ: سَلْ وَتَمَنَّ، فَيَقُولُ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا، فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكِ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت والوں میں سے ایک شخص اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا ، اللہ اس سے کہے گا : آدم کے بیٹے ! تم نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا ؟ وہ کہے گا : اے میرے رب ! مجھے تو بہترین ٹھکانہ ملا ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کہے گا تمہاری کوئی طلب اور کوئی تمنا ہو تو مانگو اور ظاہر کرو ۔ وہ کہے گا : میری تجھ سے یہی تمنا و طلب ہے کہ تو مجھے دنیا میں دسیوں بار بھیج تاکہ ( میں جاؤں ) پھر تیری راہ میں مارا جاؤں ۔ اس کی یہ تمنا شہادت کی فضیلت دیکھنے کی وجہ سے ہو گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3162]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/صفات المنافقین 12 (2807)، (تحفة الأشراف: 336)، مسند احمد (3/131، 2030، 207، 239، 253) (صحیح)