سنن النسائي حدیث نمبر: 3088
Sunan an-Nasa'i 3088
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
1: بَابُ : وُجُوبِ الْجِهَادِ
باب: جہاد کی فرضیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبِي، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَأَصْحَابًا لَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِكُونَ، فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّةً فَقَالَ: " إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا، فَلَمَّا حَوَّلَنَا اللَّهُ إِلَى الْمَدِينَةِ أَمَرَنَا بِالْقِتَالِ فَكَفُّوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ سورة النساء آية 77".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ دوست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب آپ مکہ میں تشریف فرما تھے آئے ، اور انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! جب ہم مشرک تھے عزت سے تھے ، اور جب سے ایمان لے آئے ذلیل و حقیر ہو گئے ۔ آپ نے فرمایا : ” مجھے عفو و درگزر کا حکم ملا ہوا ہے ۔ تو ( جب تک لڑائی کا حکم نہ مل جائے ) لڑائی نہ کرو “ ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ بھیج دیا ، اور ہمیں جنگ کا حکم دے دیا ۔ تو لوگ ( بجائے اس کے کہ خوش ہوتے ) باز رہے ( ہچکچائے ، ڈرے ) تب اللہ تعالیٰ نے آیت : «ألم تر إلى الذين قيل لهم كفوا أيديكم وأقيموا الصلاة» ” کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں حکم کیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو ، اور نمازیں پڑھتے رہو ، اور زکاۃ ادا کرتے رہو ۔ پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو ، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے : اے ہمارے رب ! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا ؟ کیوں ہمیں تھوڑی سی زندگی اور نہ جینے دی ؟ آپ کہہ دیجئیے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا ( النساء : ۷۷ ) اخیر تک نازل فرمائی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3088]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6171) (صحیح الإسناد)