سنن النسائي حدیث نمبر: 3091
Sunan an-Nasa'i 3091
کتاب #29: کتاب: جہاد کے احکام، مسائل و فضائل
1: بَابُ : وُجُوبِ الْجِهَادِ
باب: جہاد کی فرضیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدِي" , فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا میں جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہوں ۱؎ اور میری مدد رعب و دبدبہ سے کی گئی ہے ، مجھے سوتے میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں پیش کی گئیں ( اور پیش کرتے ہوئے ) میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( اس کی وضاحت کرتے ہوئے ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس دنیا سے ) چلے گئے اور تم ان ( خزانوں ) سے فیض اٹھا رہے ہو ۔ ( انہیں نکال رہے اور خرچ کر رہے ہو ) [سنن نسائي/حدیث: 3091]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مختصر فصیح و بلیغ کلمے جن میں الفاظ تو تھوڑے ہوں لیکن مفہوم و معانی سے بھرے ہوئے ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد (523)، (تحفة الأشراف: 13256) (صحیح)